فنانس بل میں ترامیم اپنا بجٹ لانے کا فیصلہ، ترقیاتی بجٹ میں400ارب کی کمی ،400ارب سے زائد کے ٹیکسز لگانے کا امکان

فنانس بل میں ترامیم اپنا بجٹ لانے کا فیصلہ، ترقیاتی بجٹ میں400ارب کی کمی ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا وفاقی بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں حکومت نے مالی سال 19۔2018 کے فنانس بل میں بڑی ترامیم لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت گزشتہ دور حکو مت میں ٹیکس استثنیٰ کے معاملے بھی ترمیم لائے جائے گی، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن والوں کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ دیا تھا لیکن اب وفاقی حکومت اس حد کو کم کرکے 8 لاکھ تک کرے گی۔ذرائع کے مطابق فنانس ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے 800 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کیا جائیگا، حکومت ترقیاتی بجٹ میں 400 ارب روپے کی کمی کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ ایف بی آر میں متعدد اقدامات سے 400 ارب روپے سے زیادہ کے ٹیکسز لگائے جائیں گے۔ مالیاتی بل میں ترامیم کا مقصد بجٹ و تجارتی خسارہ کم کرنا ہے ، حکومت ٹیکس ریونیو بڑھانے کیلئے فنانس بل میں تجاویز پیش کرے گی جبکہ تمام درآمدی اشیا پر ایک فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی تجویز دی جائے گی جس سے حکومت کو خاطر خواہ آمدنی حاصل ہونے کا امکان ہے۔ 14 ستمبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسی سلسلے میں طلب کیا گیا ہے ، حکو مت اس اجلاس کے دوران ہی فنانس بل اسمبلی میں پیش کرے گی۔ذرائع نے بتایاوفاقی کابینہ کے آج ہونیوالے اجلاس میں حکومت نئے بجٹ کی تجاویز کی تفصیلات پیش کرے گی جس کی منظوری بھی متوقع ہے ،ذرائع کے مطابق کابینہ کا اجلاس آج سہ پہر وزیراعظم آفس میں ہو گا ، وفاقی وزیر خزانہ اور وزارت کے حکام بجٹ سے متعلق بریفنگ دیں گے ،اس موقع پر نئے ٹیکسز کے نفاذ کی تجاویز بھی زیر غور آئیں گی ۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں ملک کی موجودہ معاشی و اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیا جائیگااور اہم فیصلے متوقع ہیں ۔ اجلاس میں منظو ر ی کے بعد فنانس بل اور بجٹ میں ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں گی، ذرائع کے مطابق فنانس ایکٹ میں ترامیم قومی اسمبلی اجلاس میں منظو ر کرائی جائیں گی جس کا مقصد بجٹ اور تجارتی خسارہ کم کرنا ہے ،جس کے ذریعے 800 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کیا جائیگا ۔ حکومت ترقیاتی بجٹ میں 400ارب روپے کمی کا ارادہ رکھتی ہے اور 400ارب روپے سے زائد کے ٹیکسز بھی لگائے جاسکتے ہیں ، خاص طور پرانکم ٹیکس پر 12لاکھ سالانہ کے استثنیٰ کو کم کر 8 لاکھ کرنے کی تجویر پر بھی غور کیا جائیگا ۔ صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس کل 14ستمبر بروز جمعہ کو طلب کرلیا ہے جو سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگاجبکہ حکومت تجارتی خسارہ میں بھی کمی لانا چاہتی ہے اس وقت ملک کا تجارتی خسارہ 38.5بلین ڈالر ہے جس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، حکومت نے سبسڈی کی مد میں عوام کو دیئے گئے ریلیف کو بھی 540 ا ر ب روپے سے کم کرکے 100ارب روپے تک کرنے کی بھی تجویز دی ہے ۔ حکومتی فیصلے پر عملدرآمد سے ایک ہزار سے زائد اشیاء پر ریگو لیٹر ی ڈیوٹی میں اضافے کا امکان ہے ، پرانی مپورٹڈ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کیا جا ئیگا، موبائل فون پر ٹیکس 12.5فیصد سے بڑھا کر 17.5کرنے کا امکان ہے، بسوں کے ٹائر و ں پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کیا جائیگا ،فرنس آئل پر بھی ٹیکس ڈیوٹی میں اضافہ کیا جائیگا۔

مزید : صفحہ اول