نواز شریف ، مریم ، صفدر کی رہائی میں 4روز توسیع، سابق وزیراعظم کی طبیعت خراب ، تعزیتی ملاقاتیں روک دیں ، شہباز شریف کلثوم نواز کی میت لانے کیلئے لندن پہنچ گئے

نواز شریف ، مریم ، صفدر کی رہائی میں 4روز توسیع، سابق وزیراعظم کی طبیعت خراب ، ...

لاہور ( جنرل رپورٹر،لیڈی رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) پنجاب حکومت نے مسلم لیگ (ن)کے قائد و سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف، انکی صاحبزادی مریم نواز اور داما کیپٹن (ر) محمد صفدر کی پے رول پر رہائی میں مزید چارروز کی توسیع کر دی ۔تفصیلات کے مطابق بیگم کلثوم نواز کی وفات کے بعد صدر (ن) لیگ شہباز شریف نے تینوں کی 5روز کے لیے رہائی کی درخواست کی تھی کیونکہ میت لندن سے واپس لانے اور تدفین میں کم از کم تین دن لگیں گے تاہم پنجاب حکومت نے ابتدائی طور پر تینوں قیدیوں کو 12 گھنٹے کے لیے رہائی کی اجازت دی تھی ۔ تینوں شخصیات اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد نور خان ایئر بیس سے خصوصی پرواز کے ذریعے رات ڈھائی بجے لاہور پہنچے۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق نوازشریف،مریم اور محمد صفدر کی پے رول پر رہائی میں مزید چار دن اضافے کا فیصلہ کرتے ہوئے سمری وزیراعلی پنجاب کو ارسال کی گئی جس کی منظوری دے دی گئی ہے۔ترجمان محکمہ داخلہ نے بتایا کہ کلثوم نواز کی میت پاکستان آنے میں کسی تاخیر پر پے رول میں مزید اضافہ کردیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے اہلیہ کلثوم نواز کے انتقال پرپیرول پر رہا ہونے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد شہباز شریف نے ان کی رہائی کیلئے درخواست دی۔ذرائع کے مطابق کلثوم نواز کی انتقال کی خبر آنے کے بعد شہباز شریف اڈیالہ جیل پہنچے جہاں انہوں نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر سے ملاقات کی اور نواز شریف سے کہا کہ وہ پیرول پر رہائی کی درخواست پر دستخط کردیں تاہم انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے بھی والد کی تائید کی جب کہ نواز شریف کا کہنا تھا کہ جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا، اللہ کو یہی منظور تھا تاہم شہباز شریف نے اپنے بھائی سے پیرول پر رہائی کے لیے پرزور اصرار کیا۔ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے نواز شریف سے مکالمے کے دوران کہا کہ یہ بہت بڑا حادثہ ہے اور پیرول پر رہائی کی اجازت قانون دیتا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ شہباز شریف نے بھائی سے اصرار کیا کہ آپ لوگوں کو کلثوم بھابھی کا آخری دیدار کرنا چاہیے، اگر یہ وقت گزر گیا تو ساری عمر کا پچھتاوا رہ جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے قائل نہ ہونے پر شہباز شریف نے پیرول پر رہائی کی درخواست اپنی طرف سے دی اور خود ہی اس پر دستخط کیے جس کے بعد انہیں پے رول پر رہائی ملی۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں حکومت یا انتظامیہ کا کوئی احسان نہیں لینا چاہتا، ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ قانونی جنگ لڑنے کے بعد ہی ریلیف لینے کے خواہشمند ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف بیگم کلثوم نواز کی میت لینے لندن روانہ ہو گئے۔شہباز شریف لندن جانے کے لیے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے جہاں ان کے ہمراہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔شہباز شریف رات گئے لندن پہنچ گئے جہاں آج بعد نماز ظہر بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی جس کے بعد میت تدفین کے لیے پاکستان لائی جائے گی۔دوسری جانب پے رول پر اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر جاتی امرا میں موجود جہاں ان کے رشتے دار اور (ن) لیگی رہنماؤں کی آمد جاری ہے۔ دریں اثنا بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر تعزیت کے لیے جاتی امرا میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی آمد اور تعزیت جاری ہے جب کہ نوازشریف کی طبیعت خراب ہونے کے باعث ان سے تعزیت کرنے کا سلسلہ روک دیا گیا۔۔نواز شریف سے تعزیت کے لیے سینیٹر آصف کرمانی، سینیٹر ڈاکٹر غوث نیازی اور دیگر لیگی رہنما جاتی امرا آئے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف کی طبیعت خراب ہوگئی ہے جس کے باعث تعزیت کے لیے آنے والے افراد ان سے نہیں مل سکیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ تعزیت کے لیے جاتی امرا آنے والوں سے حمزہ شہباز، سلمان شہباز اور آصف کرمانی ملاقات کررہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز نے جاتی امراء میں بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے انتظامات کا جائزہ لیا ۔ سلمان شہباز نے پرویز ملک ، خواجہ عمران نذیر ،علی پرویز ملک ، عطاء تارڑ ، ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) انوار الحق اور ڈی آئی جی سکیورٹی ودیگر کے ہمراہ جاتی امراء میں بیگم کلثوم نواز کی نمازہ جنازہ کی ادائیگی کے انتظامات کا جائزہ لیا ۔بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ جمعہ کو جاتی آمرا ہ لاہور میں ادا کی جائے گی جبکہ رسم قل اتوار کو ہو گی ۔اور انکے سسر میاں شریف کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔ پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے مرحومہ کا جسد خاکی لے کر مسلم لیگ کے صدر محمد شہباز شریف جمعہ کی صبح لاہور پہنچیں گے جہاں نماز عصر کے بعد ان کی نماز جازہ ادا کی جائے گی ۔دوسری طرف کلثوم نواز کے نتقال کے سلسلے میں سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف سے تعزیت کے لیے لیگی رہنماؤں کی جاتی امرا ء آمد کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔جبکہ نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر جاتی امراء میں موجود ہیں،جنہیں گزشتہ روز بیگم کلثوم نواز کے انتقال کے بعد پیرول پر رہا کر کے بذریعہ جہاز اسلام آباد سے لاہور اور پھر جاتی امراء منتقل کیا گیا تھا.گزشتہ روز دن بھر جاتی آمرا میں افسوس کے لیئے انے والوں کا سلسلہ جاری رہا جہاں انے والے حمزہ شہباز شریف سے اظہار افسوس کرتے رہے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ،مسلم لیگ کے بزرگ رہنما مخدوم جاوید ہاشمی ،پرویز رشید روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی ایڈیٹر عمر مجیب شامی کالم نگار حفیظ اللہ نیازی دنیا نیوز کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر سلمان غنی ،سینیٹر آصف کرمانی، سینیٹر ڈاکٹرغوث نیازی ‘ میاں عمران نذیر،رانا ارشد ،پرویز ملک حاجی اللہ رکھا، اختر رسول ،منشاء اللہ بٹ ،ملک ندیم کامران ،کرنل مبشر جاوید ،عابد چوہدری،مہر اشتیاق،مہر محمود،ملک ریاض اور دیگر شامل ہیں۔تعزیت کے لیئے جاتی امرا پہنچے اس موقع پر جاتی امراء کی سیکیورٹی کے لیے بھاری نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے، ٹریفک کی روانی کے لیے وارڈن تعینات کر دیے گئے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز سے جاتی امراء رائے ونڈ میں مسلم لیگی خواتین کی ایک بڑی تعداد نے اظہار تعزیت کیا ان خواتین کو گول کوٹھی سے ایک خصوصی شٹل سروس کے ذریعے مریم نواز کے کیبن تک پانچ پانچ خواتین کارکنوں کے وفد کی صورت میں ملاقات کے لیے لیجایا جاتا رہا اور تعزیت کے لئے آنے والی ان خواتین سے پہلے سے ہی یہ کہہ دیا گیا کہ چونکہ تعزیت کرنے والی خواتین کارکنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اس لئے مریم نواز سے اظہار تعزیت کے دوران صرف پانچ منٹ ہی ان کے پاس گذاریں جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ورکرز خواتین کو ان سے تعزیت کے لئے ملاقات کا وقت مل سکے ۔مریم نواز آج دوپہر تین بجے سے شام چھ بجے تک جاتی امراء رائے ونڈ میں خواتین کارکنوں سے اظہار تعزیت کے لئے ملاقاتیں کریں گی اس سلسلے میں مسلم لیگی خواتین کو بھی وقت کے حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

رہائی توسیع

مزید : صفحہ اول