وزیراعلیٰ پنجاب نے سیف سٹی پراجیکٹ کا دائرہ کار تمام ڈویژنز تک پھیلانے کی منظوری دیدی

وزیراعلیٰ پنجاب نے سیف سٹی پراجیکٹ کا دائرہ کار تمام ڈویژنز تک پھیلانے کی ...

 لاہور (نما ئندہ خصو صی، کرائم رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے کیمروں کی مددسے شہر میں سکیورٹی صورتحال اور سرویلنس کے عمل کا جائرہ لیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اتھارٹی میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی اور سیف سٹی پراجیکٹ کا دائرہ کار پنجاب کے تمام 9ڈویژنز تک پھیلانے کی منظوری دی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کیلئے سیف سٹی پراجیکٹ مربوط انداز میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی پراجیکٹ وقت کی ضرورت ہے اور حکومت پنجاب اسے جاری رکھے گی۔وزیراعلیٰ نے راولپنڈی سیف سٹی پراجیکٹ کیلئے فنڈز مہیا کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ساہیوال اور ڈی جی خان کیلئے بھی سیف سٹی پراجیکٹ کی منظوری دی جبکہ پنجاب کے 7ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سیف سٹی پراجیکٹ کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ ان میں لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور بہاولپور ڈویژن شامل ہیں۔ اس سے قبل سیف سٹی ہیڈ کوارٹر آمد پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے آپریشن اینڈ مانیٹرنگ سینٹر سے شہر میں سرویلنس کے عمل کا جائزہ لیا۔ سیف سٹی اتھارٹی میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزیرقانون راجہ بشارت، چیف سیکرٹری ،آئی جی پنجاب اور متعلقہ حکام شریک ہوئے جہاں ایم ڈی سیف سٹی اتھارٹی علی عامر ملک اور چیف آپریٹنگ آفیسر اکبر ناصر خان نے وزیراعلیٰ کو پراجیکٹ کی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل بارے بریفنگ دی۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے ساہیوال اور ڈی جی خان میں پراجیکٹ کی منطوری پر چیف آپریٹنگ آفیسر اکبر ناصر خان نے بتایا کہ دونوں ڈویژنز میں پراجیکٹ کی انسٹالیشن کیلئے سروے ٹیمیں 2روز میں روانہ ہو جائیں گی۔ دورے کے اختتام پر وزیراعلیٰ پنجاب اور کابینہ کے ارکان میں یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں۔

سردار عثمان بزدار

لاہور (جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کہا ہے کہ پسماندہ علاقوں کی تیز رفتار ترقی ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہے اورعمران خان کے ویژن کے مطابق پسماندہ علاقوں میں بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کی ترقی کا خواب پورا کرنے کے لئے شب و روز کام کرناہو گا۔عوام کی خدمت اور مسائل کے حل کے لئے انتظامیہ کو پوری طرح متحرک ہونا ہوگا۔اب کاغذی کارروائی نہیں چلے گی۔ماضی میں پسماندہ علاقوں کی ترقی کے دعوے کئے گئے لیکن عملی اقدامات نہیں۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی سکیموں کے بارے میں غلط اعداد و شمار پیش کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔کمشنر متعلقہ علاقوں میں ترقیاتی سکیموں کاجائزہ لے کر رپورٹ پیش کریں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں کی صورتحال ابتر ہے۔ ڈویژن کے دور دراز اور قبائلی علاقوں میں سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ہر یونین کونسل میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے ایک فلٹریشن پلانٹ ضروری ہے اور قبائلی علاقوں میں پنجاب بینک سافٹ برانچز قائم کرے۔وزیراعلیٰ صوبے اور ڈیرہ غازی خان کی ترقیاتی سکیموں کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔اجلاس میں سیکرٹریز ہاؤسنگ ، سی اینڈ ڈبلیو، ہائر ایجوکیشن ، سکول ایجوکیشن ،صحت ،پی اینڈ ڈی،ہوم اور دیگر حکام نے شرکت کی۔دریں اثناء سردار عثمان بزدار سے وزیر اعلیٰ آفس میں یو ایس ایڈ کے وفد نے ملاقات کی،جس میں تعلیم، صحت، زراعت، توانائی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں مستقبل میں صوبہ پنجاب کے عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کیلئے دو طرفہ معاونت کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔یو ایس ایڈ کی جانب سے صوبہ پنجاب میں مختلف شعبوں میں جاری تعاون کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وفد کی قیادت یو ایس ایڈ پنجاب کی ڈائریکٹر لی سوامسن کر رہی تھیں۔امریکی قونصل جنرل کولین کرینویلگی اور اعلیٰ حکام اس موقع پر موجود تھے۔سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان، صوبائی وزراء ڈاکٹر یاسمین راشد، مراد راس، ہاشم جواں بخت، یاسر ہمایوں، چیف سیکرٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار نے صوبہ بھر میں اراضی سینٹر زمیں عوام کو درپیش مسائل کے فی الفور دور کرنے اور لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا دائرہ کار تحصیل سے بڑھا کر قانونگوئی تک کرنے کی ہدایت کی ہے ۔انہوں نے وزیر ریونیو اور اعلی ٰ افسران پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جو اراضی سنیٹر ز پر بد عنوانی کی شکایات کا جائزہ لے گی او راس کے خاتمے کو یقینی بنائے گی۔وزیراعلی اراضی سنٹر ز میں عوام کو درپیش مسائل کاجائزہ لینے کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس کی صدار ت کر رہے تھے جس میں وزیر مال ملک محمد انور ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ،ڈائریکٹر جنرل ایل آر ایم آئی ایس اور متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ منصوبہ عوام کی سہولت کیلئے بنایا گیا تھا لیکن عوام کو یہاں وہ سہولیات میسر نہیں جس کی توقع کی گئی تھی۔عوام کو لمبی لائنوں میں انتظار کی اذیت سے دو چار ہونا پڑتا ہے جبکہ بدعنوانی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کو مزید متحرک کیا جائے گا تاکہ عوام کو آسانیاں ملیں اور یہی ہمارا ایجنڈا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کمیٹی فیلڈ میں جا کر اراضی سینٹرز کا جائزہ لے گی اور عوامی شکایات و بدعنوانی کے خاتمے کے لئے اپنی سفارشات مرتب کر کے پیش کر ے گی جن پر فی الفور عمل کرتے ہوئے ان شکایات کو دور کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ تحصیل کی سطح پر اراضی ریکارڈ سینٹرز کی وجہ سے عوام کا بڑا رش ہوتا ہے اس لئے اس کا دائرہ کار تحصیل کی سطح سے بڑھا کر قانونگوہی تک کیاجائے گاجس سے ان سینٹرز کی تعداد 147سے بڑھ کر 800سے زائد ہو جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے عوام کی مشکلات کو ہر صورت دور کرناہے اور اس پراجیکٹ کے لئے بھی قابل عمل اقدامات کر کے عوام کو سہولتیں میسر کریں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب

مزید : صفحہ اول