شریف فیملی سزا معطلی کیس ، مفروضے کی بنیاد پر کومنل سزا برقرار نہیں رہ سکتی ، جسٹس اطہر من اللہ

شریف فیملی سزا معطلی کیس ، مفروضے کی بنیاد پر کومنل سزا برقرار نہیں رہ سکتی ، ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کی سزا معطلی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا ہے کہ ہم نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو دیکھنا ہے جو خود کہتا ہے کہ وہ مفروضے پر مبنی ہے، مفروضے کی بنیاد پر کرمنل سزا برقرار نہیں رہ سکتی ،ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام میں بچے کس کے زیر کفالت تھے، بار ثبوت نیب پر آتا ہے، جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے پرنیب کو بتانا ہوگا کہ بچے کس کے زیر کفالت تھے ،یہ سوال اہم ہے کہ بچے دادا کے زیر کفالت تھے یا والد کے، ٹرائل کورٹ نے تو مفروضے پر یہ بات کہی کہ عمومی طور پر بچے والد کے زیر کفالت ہوتے ہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ معلوم ذرائع کا ہی معلوم نہ ہو تو تضادات معلوم نہیں کیا جاسکتا اور جب معلوم ذرائع نہیں بتائے جائیں گے توعدم مطابقت کا نہیں معلوم ہوسکتا اور یہ بہت بنیادی نکتہ ہے،1993میں بچوں کے دادا زندہ تھا، فرد جرم سزا سے یکسر مختلف ہے جس میں شریف خاندان کو مالک ظاہر کیا گیا اور بعد میں صرف نواز شریف کو مالک ظاہر کر دیا گیا، اگر جائیداد کی قیمت نہیں لکھی گئی تو نتیجہ کیسے نکالا جا سکتا ہے، معلوم ذرائع آمدن اور فلیٹس کی قیمت بتائے بغیر کہا گیا اثاثے آمدن سے زائد ہیں، گواہوں کے بیانات موجود ہیں لیکن کسی نے اصل قیمت سے متعلق نہیں بتایا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل2رکنی بینچ نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت کی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز نے سزا معطلی کے حق میں دلائل مکمل کرلیے۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے کہا کہ ابھی آپ نے یکطرفہ دلائل سنے ہیں، ہم تمام معاملات پر عدالت کی معاونت اور مطمئن کریں گے۔عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو آج دلائل شروع کرنے کی ہدایت کردی جس کے بعد سماعت(آج) جمعرات دن سوا 12 بجے تک ملتوی کردی گئی۔

سزا معطلی کیس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے انتقال کے باعث العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت (آج)تک ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کلثوم نواز قومی شخصیت تھیں، آج کارروائی چلانا مناسب نہیں۔ تفصیلات کے مطابق العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کی۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ بدقسمتی سے نوازشریف کی اہلیہ کاانتقال ہوگیا ہے اورمعلوم ہواکہ نوازشریف کو پیرول پررہائی کے بعدلاہور لے جایاگیاہے اس لئیان کی غیرحاضری میں عدالتی کارروائی چلانے کی ہدایات نہیں ملیں لہٰذا ان سے ہدایات لے کر ہی عدالت کوآگاہ کردوں گا۔

العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس

مزید : صفحہ اول