اعتزاز صاحب ! مجبوری ہے شکل دیکھ کر ریلیف نہیں دے سکتا ، چیف جسٹس

اعتزاز صاحب ! مجبوری ہے شکل دیکھ کر ریلیف نہیں دے سکتا ، چیف جسٹس

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ایگرو فارمز پر غیر قانونی گھروں کی تعمیر سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعتزاز صاحب میری مجبوری ہے کہ آپ کی شکل دیکھ کر ریلیف نہیں دے سکتا ۔چیف جسٹس ثاقب نثار اور اعتزازاحسن میں اسلام آباد میں ایگرو فارمز پر غیر قانونی گھروں کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دلچسپ مکالمہ ہوا۔سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے کہا کہ آپ فارم ہاؤسزوالوں کیلئے ریلیف مانگ رہے ہیں ،کچی آبادی والوں کا کیا قصورہے؟جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ میرے لئے کچی بستی والے اور فارم ہاؤسز والے برابر ہیں۔چیف جسٹس نے اس پر کہا کہ ایسا کرتے ہیں کچی بستی والوں کوفارم ہاؤسزاورفارم ہاوس والوں کوکچی بستی بھیج دیتے ہیں،کبھی معاشرے کے محروم طبقوں کے لیے بھی بات کیجیے، میں چہرے دیکھ کر ریلیف نہیں دیتا،یہی میرے منصف ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔اعتزاز احسن نے دلیل دی کہ اسلام آباد کو کافی مقدار میں پھل اور سبزیاں ان فارمز سے ملتی ہیں،جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم ان تمام فارمز کو ماسٹر پلان کے خلاف قرار دیں تو آپ کہاں کھڑے ہوں گے ؟ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آج ہی ہمیں بتائیں کہ ڈیم کی تعمیرمیں فی مربع فٹ کیا ریٹ دیں گے؟ ورنہ تمام تعمیرات گرانے کا حکم دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ دیر قبل سکول کے بچے ڈیم فنڈمیں چندہ دے کر گئے ہیں ،جب سکول کے بچے بھی اس عمل میں شامل ہوگئے ہیں تو اب ڈیمز بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تاثرغلط ہے کہ ڈیم فنڈ کے لیے غیرقانونی کام کی اجازت بھی دے دیں گے،ڈیم فنڈ سپریم کورٹ کے نام پرہے،اس کے نام پرکوئی قبضہ نہیں کرسکتا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ دیا میربھاشا اور مہمند ڈیم فنڈکانام تبدیل کرنے نہیں دیگی،ڈیم فنڈکی ضامن سپریم کورٹ ہے،فنڈپرکسی کوقبضے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مزید : صفحہ اول