ڈی ایچ کیو میں جھگڑا ، ڈپٹی کمشنر سے مذاکرات ، آؤٹ ڈور میں کام شروع

ڈی ایچ کیو میں جھگڑا ، ڈپٹی کمشنر سے مذاکرات ، آؤٹ ڈور میں کام شروع

وہاڑی(بیورو رپورٹ+نمائندہ خصوصی)ڈی ایچ کیوہسپتال میں پانچ ستمبرسے شروع ہونے والا تنازعہ ڈپٹی کمشنرسے مذاکرات کے بعدختم ہو گیا ہے ڈاکٹرزاورعملہ نے مشروط طورپرآؤٹ ڈورمیں کام شروع کردیاہے۔ملزمان گرفتارنہ ہوئے توعاشورہ محرم کے بعدہڑتال کاسلسلہ دوبارہ (بقیہ نمبر51صفحہ7پر )

شروع کردیں گے۔ان خیالات کااظہارصدر پی ایم اے ڈاکٹر غلام حسین آصف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پر ڈاکٹر عنایت حسین،ڈاکٹر فیضان کمال،ڈاکٹر احمدنواز،ڈاکٹر غزالہ کمال،ڈاکٹر مسعوداکبر،ڈاکٹر عبدالقیوم مگسی،ڈاکٹررانامبین احمد،ڈاکٹرمہر کاشف ، ڈاکٹر ثمن ، ڈاکٹر احمد توحید بھٹی،ڈاکٹر محمدحفیظ ودیگرڈاکٹرز بھی موجودتھے ڈاکٹر غلام حسین آصف کاکہناتھاکہ پانچ ستمبرکوگڑھاموڑمیں ہونے والی ڈکیتی کی واردات میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق اوردوسراشدیدزخمی ہوگیاتھازخمی کے علاج معالجہ کے لئے آنے والے آؤٹ سائیڈرزنے بلاوجہ ڈاکٹرزکے ساتھ بدتمیزی کی اورتشددکانشانہ بھی بنایاگیاجس کی وجہ سے تنازعہ پیداہوگیاتھاجس پر ڈاکٹرز اور عملہ نے ہڑتال کررکھی ہے ایف آئی آردرج ہونے کے باوجودپولیس نے ملزمان گرفتارنہیں کئے پی ایم اے کے صدرودیگرڈاکٹرزنے الزام عائدکیاہے کہ پولیس نے جان بوجھ کرملزمان کوگرفتارنہیں کیااورانہیں عبوری ضمانتیں کرانے کاپوراموقع دیاجس پرپولیس کے رویہ کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں ان کایہ بھی کہناہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ انسانی ہمدردی کے تحت ڈاکٹرزکوہڑتال ختم کردینی چاہئے ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ انسانی ہمدردی کامظاہرہ کرناصرف ڈاکٹرزکی ذمہ داری ہے دوسرے لوگوں کوبھی سوچناچاہئے کہ ڈاکٹرزبھی انسان ہیں ان کوبھی انسانی ہمدردی کی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح عام لوگوں کوحاصل ہوتی ہے۔ان کایہ بھی کہناتھاکہ ڈاکٹرزکو مریضوں کی مشکلات کاپورااحساس ہے لیکن ہمیں بھی تحفظ کی ضرورت ہے اس کے باوجودمشروط طورپراوپی ڈی میں کام شروع کردیاگیاہے لیکن اپنااحتجاج بازوؤں پرسیاہ پٹیاں باندھ کرجاری رکھیں گے جبکہ ڈپٹی کمشنرسے مذاکرات کے بعدآئندہ کی صورتحال طے کریں گے مذاکرات میں ڈپٹی کمشنرنے پی ایم اے اورینگ ڈاکٹرزکویقین دہانی کرائی ہے کہ بہت جلدملزمان کوگرفتارکرلیاجائے گا۔

جھگڑا

مزید : ملتان صفحہ آخر