نوجوان قتل ، ملزم نے لاش کنویں میں پھینک دی ، پولیس کا ایکشن لینے سے انکار

نوجوان قتل ، ملزم نے لاش کنویں میں پھینک دی ، پولیس کا ایکشن لینے سے انکار

نواں شہر ،جودھ پور (نمائندہ پاکستان )نوجوان کو قتل کرکے لاش 60فٹ گہرے کنویں میں پھینک دی ،پولیس نے کاروائی سے انکارکرکے حادثاتی موت قرار دے کر دفنا دیا ،ورثاء نے قبر کشائی کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ۔تفصیل کے مطابق تھانہ سرائے سدھو کی حدود موضع باقر پور کے(بقیہ نمبر55صفحہ7پر )

رہائشی مختیار عرف مکھا کو شک تھا کہ مقتول تصور عباس کے اس کی بھتیجی سے ناجائز تعلقات ہیں جس پر مختیار نے ٹیوب ویل ٹھیک کرنے کے بہانے تصور عباس کو بلوا کر تیز دھار آلہ سر میں مار کر قتل کر دیا جب کافی دیر بعد تصور عباس گھر نہیں پہنچا تو ورثا نے تلاش شروع کر دی جس پر تصور عباس کنویں میں مردہ حالت میں پڑا ہوا تھا ورثاء نے کاروائی کے لیے مقامی پولیس کو اطلاع دی لیکن پولیس تھانہ سرائے سدھو نے حادثاتی موت قرار دے کر زبردستی دفنانے پر مجبور کر دیا بعد ازاں حقیقت معلو م ہونے پر ورثا نے مقتول کے بھائی محمد مغل کی مدعیت میں تھانہ سرائے سدھو پولیس کو درخواست دی جس پر پولیس نے کاروائی کرنے سے انکار کر دیا جس پر ورثا نے اعلی عدلیہ سے پوسٹ مارٹم کے واسطے قبر کشائی کے لیے رجوع کر لیا،مقتول کی والدہ اوررشتہ دار تصور کے صدمے میں نڈھال ہوکر رہ گئے ہیں اہلیان علاقہ عنصر عباس ثمر عباس محمد عارف اللہ دتہ ،قمر عباس ،اقبال ،محمد رمضان ،محمد حیات ،اجمل لک ، رفاقت ہراج ،خضر حیات ،امجد خان ،شیر محمد ،فخر عباس ،احمد بخش و دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے میڈیاکو بتایا کہ ملزم مختارعرف ماکھا تصور عباس کو قتل کرنے کے بعد فرار ہے جبکہ پولیس بھی کاروائی کرنے سے گریزاں ہے چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعظم پاکستان، آئی جی پنجاب ،آر پی او ملتان اور ڈی پی او خانیوال اس واقعہ کا نوٹس اور مقتول کے ورثاء کو انصاف فراہم کریں اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو ہم آر پی او آفس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے جبکہ ترجمان پولیس خانیوال سے اس بارے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ ہمارے علم میں ایسا کوئی وقوعہ نہیں ہوا ۔

نوجوان قتل

مزید : ملتان صفحہ آخر