وزیراعظم اردو کو سرکاری زبان کے محور پر رائج کرنے کیلئے عملی اقدامات کریں‘ڈاکٹر وسیم اختر

وزیراعظم اردو کو سرکاری زبان کے محور پر رائج کرنے کیلئے عملی اقدامات ...

بہاولپور (بیورو رپورٹ‘ نامہ نگار)جماعت اسلامی پنجاب کے نائب امیر و سابق پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر سید وسیم اخترنے کہاہے کہ اردوہماری قومی زبان ہے اور اسے آئین (بقیہ نمبر28صفحہ12پر )

کے تحت سرکاری زبان کادرجہ حاصل ہے۔سپریم کورٹ بھی قومی زبان اردوکو سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ دے چکی ہے مگر ابھی تک اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔تحریک انصاف کی نئی حکومت کو اس سلسلہ میں پیش رفت کرنی چاہئے انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے وی آئی پی کلچر ختم کرنے اور سادگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے،یہ بہت اچھی بات ہے مگر انہیں قومی زبان اردوکو سرکاری زبان کے طورپر رائج کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں ترقی یافتہ قوموں نے اپنی قومی زبان کو رائج کرکے ہی ترقی کی ہے۔جاپان،چین،فرانس اور جرمنی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ہم بھی قومی زبان اردوکو سرکاری زبا ن اور اردوکوذریعہ تعلیم بناکر اپنی شرح خواندگی میں اضافہ کرکے ترقی وخوشحالی کے سفر پر گامزن ہوسکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے نئے ڈیموں کی تعمیر کا اعلان خوش آئند ہے۔ تحریک انصاف کی نئی حکومت نے ملک میں پانی کی شدید قلت کے پیش نظر نئے ڈیم بنانے کافیصلہ کرکے قومی مفاد کو ترجیح دی ہے۔اب حکومت کو اس معاملے پر ثابت قدمی دکھانی چاہئے کیونکہ ماضی میں ہمیشہ ڈیموں کے مسئلے پر سیاست چمکائی گئی اور ملک میں مزید ڈیم نہیں بنائے گئے جس کی وجہ سے پانی کی قلت کامسئلہ دن بدن سنگین ہوتاجا رہا ہے انہوں نے مزیدکہاکہ حکومت کو بھارتی آبی جارحیت کا بھی نوٹس لینا چاہئے۔بھارت سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہا ہے۔پاکستان کو اس سلسلہ میں عالمی اداروں سے رجوع کرنا چاہے۔پانی کامعاملہ بڑااہم ہے،اگر اسے فوری حل نہ کیاگیا تو 2025میں خشک سالی شروع ہوجائے گی۔اناج اگانا مشکل ہوگا اور ملک میں قحط پڑ سکتاہے۔

وسیم اختر

مزید : ملتان صفحہ آخر