بابا بلھے شاہ کی یاد میں خصوصی لیکچراور’’ محفل مشاعرہ‘‘ کا انعقاد

بابا بلھے شاہ کی یاد میں خصوصی لیکچراور’’ محفل مشاعرہ‘‘ کا انعقاد

کراچی( اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیراہتمام پنجابی زبان کے صوفی شاعر حضرت بلھے شاہ کی یاد میں خصوصی لیکچراور’’ محفل مشاعرہ‘‘ کا انعقاد اکادمی کے کراچی دفتر میں کیا گیا۔ جس کی صدارت ابوظہبی سے آئے ہوئے مہمان شاعرظہورالاسلام جاوید نے کی۔ مہمان خاص وحید محسن تھے۔ صدر محفل ظہورالاسلام جاوید نے کہا کہ بلھے شاہ مغلیہ سلطنت کے عالمگیر عہد کی روح کے خلاف رد عمل کا نمایاں ترین مظہر ہیں ان کا تعلق صوفیاء کے قادریہ مکتبہ فکر سے تھا۔ ان کی شاعری باغیانہ فکر کی بعض بنیادی خصوصیات شطاریوں سے مستعار ہیں۔ آپ کا اصل نام عبداللہ شاہ تھا آپ ۰۸۶۱ مغلیہ راج کے عروج میں اوچ گیلا نیاں میں پیدا ہوئے۔ان کے کلام میں عشق ایک ایسی قوت زبردست قوت بن کر سامنے آتا ہے جس کے آگے شرح بند نہیں باندھ سکتی ۔مہمان خاص وحید محسن نے کہا کہ بلھے شاہ پکے وحدت ابوجوی تھے اس لئے ہر شے کو مظہر خدا جانتے تھے آپ مرشد کیلئے انسان کا مل کا درجہ رکھتے تھے۔اگر بنظرغائر دیکھاجائے تو احساس ہوتا ہے کہ بلھے شاہ کی شاعری عالمگیری عقیدہ پرستی کے خلاف رد عمل ہے ۔ ان کی شاعری میں صلح کل ’’انسان دوستی ‘‘ اور عالمگیرمحبت کا جودرس ملتاہے وہ اسی معروضی صورتحال کے خلاف ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرونے کہاکہ بلھے شاہ مصلحت اندیشی اور مطابقت پذیری کبھی بھی ان کی ذات کا حصہ نہ بن سکی ظاہر سبندی پر تنقید و ظنز ہمہ وقت انکی شاعری کا پسندیدہ جزرہی ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر