پولیس کا مقصد عوامی خدمت اور جرائم کیخلاف ڈٹ جانا ہے: آئی جی سندھ

پولیس کا مقصد عوامی خدمت اور جرائم کیخلاف ڈٹ جانا ہے: آئی جی سندھ

کراچی (کرائم رپورٹر)آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد سینٹرل پولیس آفس میں تعینات جملہ سینئر افسران، سی پی اوسیکیورٹی افسران، جوانوں سمیت دیگر شعبوں سے منسلک اسٹاف سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ پولیس کا مقصد عوامی خدمت اور جرائم کے خلاف ڈٹ جانا ہے ۔بحالی امن جیسے اقدامات میں شہیدوں کی قربانیاں اور غازیوں کے کارہائے نمایاں سندھ پولیس کا طرہٰ امتیاز ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت آپ تمام پر اللہ پاک کا خاص فضل ہے کہ اس نے ہمیں وہ ذمہ داریاں تفویض کی ہیں جسے بطور احسن طریق انجام دینے میں نا صرف ہمیں دنیا بلکہ آخرت میں بھی نوازا جائیگا۔محکمہ پولیس ایک ٹیم ورک کا نام ہے کوئی بھی اکیلا ہدف حاصل نہیں کرسکتا جبکہ ایک ٹیم کی حیثیت میں اٹھائے جانیوالے راست اقدامات میں کامیابی سو فیصد یقینی ہوجاتی ہے ۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ میرے لئے پولیس کا ہر رکن چاہے وہ ادنیٰ ہو یا اعلیٰ ایک ٹیم کے ممبر کی حیثیت رکھتا ہے ۔آپ عوام کی خدمت کو ایک فریضہ سمجھ کر انجام دیں۔آپ کے تمام جائز مسائل کا حل میری تمام تر ترجیحات کا حصہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کے پاس روزانہ عوام شکایات اور مسائل کے حل کیلئے رجوع کرتے ہیں ہمارا کام انکے مسائل اورمشکلات کو غیرجانبدار رہتے ہوئے بروقت حل کرنا اور پولیس کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اپنے طرز عمل اور برتاؤ سے ایک اچھے تاثر کو اجاگر کرنا ہے کیونکہ جب رب تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مساوی حقوق دیئے ہیں تو ہمیں بھی بحیثیت انسان اپنے عہدے اور اختیار کو عین اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اسکے بتائے گئے اصولوں کے عین مطابق انجام دینا ہوگا۔ڈاکٹرسیدکلیم امام نے کہا کہ میرے دفتر کے دروازے آپ سب کیلئے کھلے ہیں آپ آگے آئیں اور پولیسنگ کے عمل کو مزید بہتری کی جانب گامزن کرنے کیلئے میرے بازو بنیں۔آپ کی مشاورت اور تجاویز کے ساتھ ساتھ میں آپ لوگوں کے مسائل بھی ضرور سنوں گا اور میری کوشش ہوگی کہ انھیں جلد سے جلد اور بروقت حل بھی کروں۔آئی جی سندھ نے کہا کہ میرے جملہ امور میں میرٹ اور اہلیت کو ترجیح حاصل ہوگی۔آپ عوام سے احسن سلوک اور برتاؤ جیسے امور کو ہرسطح پر یقینی بنائیں اور پولیس کا مورال بلند کرنے جیسے اقدامات کو اپنے فرائض منصبی میں خصوصی اہمیت دیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر