اوبر اور کریم کیوں ضروری ہوگئے ہیں؟

اوبر اور کریم کیوں ضروری ہوگئے ہیں؟
اوبر اور کریم کیوں ضروری ہوگئے ہیں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ٹریوس کلانک (Travis Kalanick) 1976میں امریکہ کی مشہور ریاست لاس اینجلس میں پیداہوا ۔اس کا داداآسٹریا سے ہجرت کرکے امریکہ آگیا ،ٹریوس کا والد اشتہارات کی ایجنسی میں کام کرتاتھا ۔ٹریوس نے کمپیوٹر میں انجیئرنگ اور بزنس اکنامکس کی تعلیم حاصل کی ۔وہ اپنی زندگی میں کچھ بڑ ا اور منفرد کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اسی وجہ سے ٹریوس نے 1998میں اپنا پہلا بزنس آن لائن فائل ٹرانسفر سروس شروع کردیا۔شروع میں لوگوں کو یہ تھیم سمجھنے میں دقت ہوئی اورٹریوس کو سمجھانے میں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ختم ہو گئی اور اس طرح ٹریوس نے باضابطہ طور پر (Red Swoosh)کے نام سے 2001میں کمپنی رجسٹرکروائی اور پھر پیچھے مڑکر نہیں دیکھا ۔

ٹریوس بہترین کمائی کر رہا تھا اور اس کی تما م خواہشات باآسانی پوری ہو رہی تھیں لیکن اس کے باوجود آگے بڑھنا چاہتا تھا۔ ایک دن اس کے ذ ہن میں آئیڈیا آیا کیوں نہ مارکیٹ میں کچھ نئی چیز متعارف کروائی جائے ۔اس نے پہلے ایک موبائل ایپلیکیشن بنائی اور پھر اپنے کچھ دوستوں کو جن کے پاس ذاتی گاڑیاں تھیں ان کو آٹھ سو ڈالر پر ہائر کیا ۔جس میں اس نے ان تمام کو کام کا طریقہ بتایا مگر چند دوستوں کا خیال تھا کہ یہ ایک بکواس آئیڈیا ہے ۔خیرٹریوس نے ہمت نہ ہاری آزمائشی طو ر پر دو تین لوگوں کو مختلف جگہوں پر جانے کے لیے کہا اور موبائل سے ر ا ئیڈ بک کروانے کے لیے درخواست دی ۔جلد ہی جو قریب ترین جگہ پر موجود تھا اس کو وہ درخواست موصول ہوگئی ۔ٹریوس نے اس کو فون کال کی اور لوکیشن پر آنے کے لیے کہا اور وہ چند لمحوں میں ٹریوس کے پاس آگیا اور اس طرح ٹریوس نے2009 میں اوبر(Uber) کو متعارف کروا دیا جس سے آج نہ صرف امریکہ بلکہ یورپ اور ایشیابھی بھرپور انداز سے فائدہ اٹھا رہا ہے ۔اس میں سفر کرنے اور ذاتی گاڑی چلانے والا دونوں مستفید ہورہے ہیں۔ اسی طرح دوبئی میں مدثر عبداللہ الیاس نے 2012میں کریم (Careem)کے نام سے بالکل اوبر جیسی سروس متعارف کروا ئی ۔

یہاں قارئین کے گوش گزار کرتا جاؤں کہ اوبر کریم سے 10% فیصد بڑی کمپنی ہے اس وقت ایک انداز کے مطابق پوری دنیا میں اوبر 633شہروں میں سروس دے رہی ہے جن میں پاکستان کے 6شہر شامل ہیں جبکہ کریم اس وقت دنیا بھرمیں تقریبا53شہروں میں سروس دے رہی ہے جن میں پاکستان کے 10شہر شامل ہیں۔یہاں یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کہ آخر کار اوبر اور کریم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تو قارئین ایک مشہور مثل ہے کہ " ضرورت ایجاد کی ماں ہے "پوری دنیا میں بڑھتی ہوئی سفری ضروریات، مہنگائی اور بے روز گاری نے بے چینی برپا کر رکھی ہے دوسری جانب ہر فرد اپنی کمائی میں اضافہ کرنے کا خواہشمند ہے یورپ اور امریکہ میں تو ویسے ہی پارکنگ چارجز ٹائم کے حساب سے وصول کیے جاتے ہیں اور یہ پارکنگ کافی مہنگی بھی ہوتی ہے اس لیے لوگ ذاتی گاڑی کا استعمال بہت مناسب انداز میں کرتے ہیں جبکہ لوکل ٹرانسپورٹ موجود ہے پر ان میں بھی بہت رش ہوتا ہے لیکن اگر پاکستان کی بات کی جائے تویہاں سرکاری طورپر لوکل ٹرانسپورٹ کا فقدان ہے اور پرائیویٹ ٹر ا نسپورٹ کی اپنی اجارہ داری ہے جس کی وجہ سے وہ منہ مانگے دام وصول کرتے ہیں ۔چونکہ یہاں جو بھی حکومت آئی اس نے ذر ائع آمدورفت پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے یہ مسئلہ اب ایک پہاڑ کی صورت اختیار کرچکا ہے ۔پاکستان بننے سے لے کر آج تک حکومتی پالیسیاں عوام کو سفری سہولیات فراہم کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہیں ایسی صورت میں پاکستان کی عام عوام کے لیے ان دو کمپنیوں کی آمد کسی معجزے سے کم نہیں ہے کیونکہ اس میں سفر کرنے والے کو بہت سے مسائل سے چھٹکارہ مل جاتا ہے ۔مثلاً جیسے ہی کوئی مسافر رائیڈ بک کرواتا ہے گاڑی ،رکشہ اورموٹر سائیکل اس کی بتائی ہوئی لوکیشن پر آجاتی ہے دوسرے معنوں میں اس کے گھر آجاتی ہے،مسافر کو کرایہ کا اندازہ ہوجاتا ہے ،ہر طرح کی بحث و تکرار سے بچا جاتاہے،آرام دہ گاڑی میں مناسب پیسوں میں اپنی منزل تک پہنچا جاتا ہے دوسری جانب جو (کیپٹن)یعنی جو گاڑی چلانے والا ہوتا ہے اس کو بھی مناسب آمدنی حاصل ہوجاتی ہے اس لحاظ سے جن افراد کے پاس کوئی ملازمت نہیں تھی ان کو اپنا روز گار کی سہولت میسر آ ئی ہے پاکستان میں اوبر اور کریم کو لے کر حکومت اور ان کمپنیوں میں کئی طرح کے تحفظات پائے جاتے ہیں کیونکہ گورنمنٹ ان کمپنیوں کو ٹیکس کے زمرے میں لے کے آنا چاہتی ہیں جبکہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اگر ان پر ٹیکس لاگو کیاگیا تو وہ اپنے ریٹ بڑھا دیں گے اور یوں ان تمام ٹیکسوں کا بوجھ عوام کے کندھوں پر آئے گا۔بحرحال کمپنیوں اور گورنمنٹ کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے اور مل کر اس کا مثبت حل نکالنا چاہیے جو کہ عوام کے حق میں ہو ۔ورنہ دوسری صورت میں اوبر اور کریم کی سہولت کھٹائی میں چلی جائے گئی جوکہ نامناسب بات ہے جیسے برگر ، شوارما، چپس،کولڈڈرنک وغیرہ ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں اسی طر ح او بر اور کریم بھی ا ب ہمارے معاشرے کا حصہ بن گئی ہیں لہٰذ ا یا تو گورنمنٹ وافر مقدار میں لوکل ٹرانسپورٹ عوام کو فراہم کرے جو منا سب کرائے پر میسر ہو،میٹرو بس،سپیڈو،ایل ٹی سی وغیرہ نہ کافی ہیںیا پھر اوبر اور کریم جیسی کمپنیوں کے ساتھ مل کر عوام کی سفری سہولتوں کو بہتر بنایا جائے تا کہ مسافر حضرات سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کے انتظار میں خوار نہ ہوتے پھریں۔

۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ