اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 37

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 37

  

اس دور میں جوان اور خوبصورت عورتوں کی اکثر اپنے خاوندوں سے نہیں بنتی تھی۔ اور وہ کسی نہ کسی دیوی کے مندر کے باہر آکر بیٹھ جاتی تھیں اس لئے میرا دل کہہ رہا تھا۔ نفتانی یا تو دوسری قیدی عورتوں کے ساتھ ہی ہے اور اگر اپنے حسن و جمال کی وجہ سے وہ وہاں نہیں ہے تو ضرور اسے کسی امیر بابلی تاجریا جاگیردار کے ہاتھ فروخت کر دیا ہوگا۔ بہرحال یہ ساری باتیں مجھے صرف اس قیدی کیمپ سے فرار ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکتی تھیں۔ قید میں اسرائیلی قیدیوں کی بری حالت تھی۔ انہیں دن میں ایک بار کھانے کو روکھی سوکھی روٹی دی جاتی۔ وہ سارا دن تپتی دھوپ میں پڑے اپنے وطن کی یاد میں آہیں بھرا کرتے۔ انہیں غلام بنا کر فروخت کرنے کی ممانعت تھی۔ بخت نصر شاید یہ چاہتا تھا کہ یہ سارے اسرائیلی قیدی بھوک اور بابل کے تیز دھوپ میں سسک سسک کر مرجائیں اور اس المیے کا آغاز ہو چکا تھا۔ ہر روز کوئی نہ کوئی قیدی مرجاتا اور اس کی لاش کو وہیں تپتی ریت پر پڑ ارہنے دیا جاتا۔ جب گدھ اسے نوچ کھانے کے لئے منڈلانے لگتے تو اس کے ساتھ پرے پرے ہٹ جاتے اور سہمی ہوئی ویران آنکھوں سے اپنے عزیز کی لاش کو گدھوں کی خوراک بنتے دیکھتے رہتے اور ان کا اپنا انجام بھی ان کی نگاہوں کے سامنے آجاتا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 36پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں نے وہاں سے فرار ہونے کا منصوبہ تیار کر لیا۔ قیدی کیمپ کے گرد جو آہنی خار دار باڑھ لگی تھی۔ اس کی جگہ اب ایک بیس فٹ اونچی اینٹوں کی دیوار چن دی گئی تھی ۔یہ دیوار ہزاروں مزدوروں نے مل کر تین دن کے اندر اندر بنا ڈالی تھی۔ اس دیوار کے اوپر تھوڑے فاصلے پر برج بنے تھے جہاں سپاہی پہرہ دیتے اور رات کو مشعلیں روشن رکھی جاتیں اور گھڑ سوار دستے مشعلیں ہاتھوں میں لئے دیوار کے گرد چکر لگایا کرتے۔ مگر میرے لئے فرار اس لئے آسان تھا کہ مجھے اپنی زندگی کی کوئی فکر نہیں تھی اور دل میں اپنی محبوبہ کی محبت کا شعلہ فروزاں تھا۔ جس نے میرے اندر اس قید خانے سے بھاگ نکلنے کے لئے ایک نئی طاقت بھر دی تھی۔ مجھے صرف ایک بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ میری خفیہ طاقت خواہ مخواہ کسی پر ظاہر نہ ہو۔ اس اصول کو میں نے ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھا۔ یہ آپ میرے سفرنامے میں آگے چل کر پڑھ لیں گے۔ اس عرصے میں میں اس قدر سراغ لگانے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ زنانہ کیمپ کی بیشتر خوبصورت خواتین کو بابل کے صاحب ثروت اور عیاش امراء کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا ہے۔ میں نے فرار کی تمام جزئیات اور امکانات پر اچھی طرح سے غور کر لیا تھا۔ اگر قیدیوں کی مردہ لاشوں کو کیمپ سے باہر کسی گڑھے یا صحرا میں پھینک دینے کا رواج ہوتا تو میں بڑی آسانی سے اپنے آپ کو مردہ ظاہر کر کے اس قید سے نجات حاصل کر سکتا تھا لیکن وہاں تو مردہ قیدی کی لاش کو زندہ قیدیوں کو مزید دہشت زدہ کرنے کے لئے وہیں چھو ڑ دیا جاتا تھا۔ دوسری پریشانی یہ بھی تھی کہ فرار ہونے کے بعد بھی مجھے زنانہ قیدی کیمپ میں نفتانی کی تلاش کرنا تھا۔ جو ایک خطرناک کام تھا۔ اگرچہ بنی اسرائیل کے قیدیوں کی کوئی باقاعدہ فہرست تیار نہیں کی گئی تھی تاہم محافظ دستوں کے سپاہی ان قیدیوں کے چہروں سے شناسا ہوگئے تھے اور میں پہچانا جا سکتا تھا۔

نفتانی کے کان کا سبز نگینے والا بندہ ابھی تک میرے پاس تھا۔ میں نے یہ بھی سوچا کہ کسی کو زنانہ کیمپ میں بندہ دے کر بھیجوں کہ وہ معلوم کرے کہ وہاں کوئی ایسی قیدی عورت ہے جس کے کان میں اس وضع کا دوسرا بندہ ہو لیکن اس کام میں بھی کامیاب نہ ہوسکا۔

مجبوراً میں نے خود ہی قید سے فرار ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ میرا پروگرام رات کے اندھیرے میں دیوار پھاند کر فرار ہونے کا تھا۔ نگہداشت کے دو برجوں کے درمیان بمشکل ساٹھ قدم کا فاصلہ تھا اور رات کو دونوں جانب مشعلیں روشن رہتی تھیں اور دیوار کی دوسری طرف مسلح بابلی سپاہی گھوڑے دوڑاتے پہرہ دے رہے تھے۔ اس رات میں نے پوری تیاری کرلی تھی۔ جب رات گہری ہو گئی اور اسرائیلی قیدیوں کی آہ فغاں کی درد انگیز آوازیں خاموش ہوگئیں تو میں اپنے ریت کے اندر کھو دے ہوئے گھروندے سے نکلا اور برجوں کے درمیان والی جگہ کی طرف رینگنے لگا۔ برجوں میں مشعلیں جل رہی تھیں اور ان کی روشنی دیوار پر پڑ رہی تھی مگر دیوار کے درمیان میں یہ روشنی بہت مدھم ہوگئی تھی اور وہاں ہلکا ہلکا اندھیرا بھی اس روشنی میں شامل ہوگیا تھا۔ میں ابھی اپنے گھر وندے سے تین چار قدم تک ہی آگے بڑھا ہوں گا کہ اچانک ایک اسرائیلی قیدی کے نوحہ کرنے کی الم انگیز آواز رات کی خاموشی میں بلند ہوئی۔ میں زمین کی ریت سے چمٹ گیا ۔ یہ اسرائیلی قیدی اپنے ٹوٹے ہوئے بربط کے تار کو چھیڑتے ہوئے آنسوؤں بھری آواز میں نوحہ گاہ رہا تھا۔

یہ نوحہ اس قدر درد بھرا ہو تھا کہ اگر میں کسی دوسری موقع پر سنتا تو میرا دل بھی بھر آتا مگر اس وقت مجھے یہ زہرلگ رہا تھا۔ کیونکہ اس قیدی کی نوحہ گری نے برج کے سپاہیوں کو ہوشیار کر دیا تھا۔ ایک سپاہی نے وہیں سے آوازدے کر اس قیدی کو ڈانٹ دیا اور خاموش رہنے کا حکم دیا۔ اسرائیلی قیدی کا بربط خاموش ہوگیا۔ اس کی آواز ایک لمبی آہ بھر کر خاموش ہوگئی اور صحرا میں ایک بار پھر موت جیسی گہری خاموشی چھا گئی۔ آج کے ماڈرن زمانے کی طرح اس دور میں قیدی کیمپوں میں سرچ لائٹوں کا تصور نہیں تھا مگر میں ریت پر لیٹابڑی آسانی سے پہچانا جا سکتا تھا۔ میں کچھ دیر ریت پر اسی طرح لیٹا رہا۔ جب مجھے یقین ہو گیا کہ برج کے پہرے دار دوبارہ اونگھنے لگے ہوں گے تو میں نے پھر دیوار کی طرف رینگنا شروع کردیا۔ میں زخمی سانپ کی چال سے رینگ رہا تھا۔ مجھے اپنے ریت کے گھروندے سے دیوار کی بنیاد تک پہنچنے میں آدھا گھنٹہ لگا۔ یہاں ہلکا ہلکا اندھیرا تھا۔ میں دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ میں نے دیوار کو ہاتھوں سے ٹٹول کر دیکھا۔ یہ پختہ اینٹوں کی دیوار ترچھی۔ اینٹوں کو چونے اور گج کے ساتھ جوڑا گیا تھا جو بہت پختہ ہو چکی تھیں مگر میرے ہاتھوں کی طاقت ان اینٹوں سے کہیں زیادہ تھی۔ میں نے اپنے ناخنوں سے چونے کی تہہ کو کھرچنا شروع کیا۔ میرے ناخن لوہے کی ریتی کی طرح چل رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک اینٹ کا سارا چونا اتر گیا۔ اب میں اس اینٹ کو باہر کی طرف دھکیلنے لگا۔ میرے ہاتھوں میں اتنی طاقت تھی کہ میں وزنی سے وزنی پتھر کو اکھاڑ کر پھینک سکتا تھا۔ مجھے اس بات کا بھی خیال رکھنا پڑرہا تھا کہ کسی قسم کی آواز پیدا نہ ہو۔ کچھ دیر تک کوشش کرنے کے بعد اینٹ اکھڑ کر دیوار کی دوسری جانب جاگری۔ اب دوسری اور تیسری اینٹ کو اکھاڑنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ چند لمحوں میں ہی وہاں دیوار میں اتنا سوراخ پیدا ہوگیا کہ میں اس میں سے رینگ کر باہر نکل سکتا تھا۔

میں نے دیوار کے سوراخ میں سے اپنا سر باہر نکلا۔ پھر دونوں بازو نکالے اور اس کے بعد ٹانگیں بھی باہر کی طرف کھینچ لیں۔ میں دیوار کی دوسری جانب آچکا تھا۔ یہاں مجھے گھڑ سوار گشتی دستے کا خطرہ تھا جو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد گھوڑے دوڑاتے وہاں سے گزرتے تھے۔ ابھی تک میرے فرار کا کسی کو علم نہیں ہوا تھا۔ میں نے سارا کام اتنی خاموشی سے انجام دیا تھا کہ برج کے سپاہیوں کو آہٹ تک بھی سنائی نہیں دی تھی اور اگرچہ کوئی آواز پیدا بھی ہوتی تو مجھے معلوم تھا کہ برج کے پہرے دار آدھی رات کے بعد عام طور پر اونگھتے رہا کرتے ہیں۔

بابل کے گہرے نیلے آسمان پرستاروں کے جھرمٹ جھلملا رہے تھے۔ میرے سامنے ریت کی ایک چھوٹی سی کھائی تھی اور اس کے آگے ریت کے اونچے نیچے چھوٹے چھوٹے ٹیلے حد نگاہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ میری بائیں جانب دور بابل شہر کی فصیل پر کہیں کہیں مشعلوں کی روشنی ہو رہی تھی۔ میرے لئے وہاں وقت ضائع کرنا بہت خطرناک ہوسکتا تھا۔ کیونکہ کچھ لمحوں بعد گھڑ سواروں کا گشتی دستہ وہاں سے گزرنے والا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو کھائی میں لڑھکا دیا۔ ریت کی ڈھال پر سے لڑھکتا ہوا کھائی میں جا گرا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار