’’اڑھائی لاکھ کا جنّ ‘‘ ایسا خوفناک اور شرمناک طریقہ جس سے لوگوں کو برباد کردیا جاتا ہے،یہ روح فرسا واقعہ سن کر آپ بھی کانوں کو ہاتھ لگا لیں گے 

’’اڑھائی لاکھ کا جنّ ‘‘ ایسا خوفناک اور شرمناک طریقہ جس سے لوگوں کو برباد ...
’’اڑھائی لاکھ کا جنّ ‘‘ ایسا خوفناک اور شرمناک طریقہ جس سے لوگوں کو برباد کردیا جاتا ہے،یہ روح فرسا واقعہ سن کر آپ بھی کانوں کو ہاتھ لگا لیں گے 

  

تحریر: پیر ابونعمان رضوی سیفی

دولت کے حصول کی جنگ میں انسان اندھا ہوجاتا ہے اور خون کے رشتوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتا ۔میں حیران ہوتا ہوں کہ صرف چندروزہ زندگی میں بہت سے لوگ فرعون اور نمرود بننا چاہتے ہیں اور جو مل رہا ہوتا ہے اس پر صبر و قناعت کی بجائے وہ دوسروں کے مال پر نظر رکھتے ہیں ۔یہ کہانی بھی ایسے لوگوں کی ہے جس کا میں عینی شاہد ہوں اور ابھی تک اس سانحہ پر میرا دل افسردہ ہے ۔

الیاس صاحب لاہور کے ایک معروف بازار کے بڑے تاجر ہیں ۔نمازی پرہیز گار اور خدمت خلق ان کا شعار رہا ہے ۔ان کی ایک ہی بیٹی ہے ۔انہوں نے چند ماہ پہلے اسکی شادی بڑے اہتمام سے کی ۔وہ اس اللہ کے شکر گزار تھے کہ رشتہ جہاں ہوا ہے وہ ان کے قدر دان لوگ تھے اور خود بھی کافی مالدار اور نیک لوگ تھے ۔

شادی کی رات ہی انہیں ایک عجیب بات سننا پڑی کہ سہاگ رات میں جب لڑکا کمرے میں آیا تو حجلہ عروسی سے خوش گوار قہقہوں کی بجائے نسوانی چیخیں سنائی دیں اور پھر لڑکا غصہ کی حالت میں باہر نکلا اور پھر اس د ن کے بعد وہ کبھی اپنی بیوی کی طرف ملتفت نہیں ہوا۔دونوں گھرانوں میں یہ بات باعث تشویش تھی کہ ایسا کیا ہوگیا ہے کہ جو شادی اتنے چاو سے کی گئی وہ ایک دن بھی چلنے کی روادار نہیں رہی اور سخت تناو اور نفرتوں کا شکار ہوگئی ہے ۔

الیاس صاحب بہت پریشان تھے کہ ایسا کیا ہوگیا ،بیٹی سے پوچھا گیا تو وہ کوئی معقول وجہ نہ بتاسکی ،بس یہ کہا کہ جیسے ہی اسکا شوہر اسکی جانب بڑھا اس نے دیکھا کہ وہ کوئی انسان نہیں بلکہ انتہائی بدصورت سی کوئی بلا تھی ۔دوسری جانب لڑکے کا بھی یہی کہنا تھا کہ جب اس نے دلہن کا گھونگٹ اٹھایا تو انتہائی بدبودار جھونکا آیا اور اسکی شکل دیکھ کر اسکا جی گھبراگیا ۔

یہ عجیب و غریب کیس تھا جس کا کوئی سرا سمجھ میں نہیں آنے والا تھا ۔

دونوں گھرانوں نے بچوں کو بہت سمجھایا لیکن کوئی بھی اس بات کو سمجھ نہیں پارہا تھا کیونکہ جیسے ہی وہ دنوں ایک دوسرے کے قریب جاتے ،یکایک ایک دوسرے کو دیکھتے ہی لڑپڑتے۔دونوں میں اب تک ملاپ بھی نہیں ہوسکاتھا ۔

ادھر الیاس صاحب کے گودام میں آگ لگ گئی ،کچھ سمجھ نہیں آیا کہ آگ کیسے لگی،سارا مال جل جانے سے انہیں پارٹیوں کی ادائیگیاں کرنے میں مشکلات آنے لگیں تو دنوں میں سارے کاروبار کی کایا پلٹ گئی اور کروڑوں کا کاروبار کوڑیوں میں آگیا ۔پارٹیاں ادائیگی کے لئے ان کے پیچھے پڑ گئیں،نیک نامی داو پر لگ گئی اور انہیں اپنی دوکانیں اور مکان تک بیچ کر اپنی عزت بچانی پڑی۔بیٹی کی شادی کرنے کے بعد وہ بدترین مالی بحران کا شکار ہوگئے حتیٰ کہ قرضہ لیکر دن رات چلانے پر آگئے،کاروبار کسی صورت چل نہیں رہا تھا ۔انہوں نے کئی لوگوں سے اس کے بارے بات کی اور کسی نے بتایا کہ جادو کیا گیا ہے ،کوئی نظر لگنے کی وجہ بتاتا۔جتنے منہ اتنی باتیں۔

ایک دن میرے مرید کی وساطت سے وہ میرے پاس آئے تو میں نے پورے گھر والوں کا استخارہ کیا تو معلوم ہوا کہ پورا گھرانہ سخت ترین سفلی علم کا نشانہ بناہوا ہے ۔اب اسکی جانچ پڑتال کرنی تھی جس کے لئے وہ سب لوگ معہ سمدھی بھی میرے پاس آئے تو میں نے ان کے سامنے حاضری کرائی ۔یہ منظر الیاس صاحب اور انکے سمدھی،انکی بیگمات اور لڑکے نے خود دیکھا کہ جب حاضری کی گئی تو اس لڑکی پر ایک جنّ حاضرہوا جو اپنا نام سلمان بتاتا تھا ،مذہباً وہ غیر مسلم تھا ۔

میں نے ا پنی زندگی میں کئی جنات کا سامنا کیا ہوگا مگر یہ سلمان نامی جنّ غیر معمولی طور پر طاقتور جنّ تھا۔دو گھنٹے کی مشقت کے بعد اسکو قابو کیا جاسکا ۔انتہائی زور دار تھا اور بچی کی جان لیکر ہی جانے پر بضد تھا ۔اس سے جب سوال جواب ہوئے تو معلوم ہوا کہ الیاس صاحب کی بھابی نے کالا علم کرنے والے کی مدد سے اس جنّ کو الیاس صاحب کی بیٹی پر قابض کرایا تھا ۔وجہ یہ نکلی کہ الیاس صاحب کی بھابی نے اڑھائی لاکھ ادا کرکے یہ جنّ اس لئے اپنے جیٹھ کی بیٹی پر چھوڑا تھا کہ وہ اس بچی کو ماردے اور ان کی جائیداد اسکے بچوں کے نام لگ جائے ۔کیونکہ اس بیٹی کے سوا کوئی اوروارث نہ بن پاتا۔ یہ آگے لمبی کہانی ہے جس کا انجام یہ ہے کہ الیاس صاحب کی بھابی کینہ پرور عورت نکلی ۔ان کا بھائی اپنی بیوی کی ان سیاہ کاریوں سے غافل تھا ۔البتہ وہ اکثر اپنے شوہر کو الیاس صاحب کے کاروبار میں سے حصہ لینے پر مجبور کیا کرتی تھی ۔جس پر وہ کہتا کہ بھائی کے کاروبار میں اسکا کوئی حصہ نہیں تو پھر کیوں اس سے تقاضا کرے ۔لیکن اسکی بیوی کی حرص بڑھ گئی اور اس نے ایک عامل سے رابطہ کیا جس نے اسکو بتایا کہ ا گر وہ اڑھائی لاکھ روپیہ دے تو ایک ایسا عمل کرکے اسکے جیٹھ کی بیوی اور گھرا نے پر چھوڑ دے گا کہ وہ آسمان سے زمین پر گریں گے ۔یہ عامل لاہور میں ہی موجود ہوگا ،جو ڈھایا جنّ کے کالے علم میں ماہر جانا جاتا ہے ۔نہ جانے یہ خدا کا دشمن کتنے انسانوں کو برباد کرچکا ہوگا ۔

انسان چاہے جو بھی سوچے ،کرنا سب اللہ نے ہے۔الیاس صاحب کی بیٹی الحمد اللہ اب ٹھیک ہے اور اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے لیکن الیاس صاحب کے دل پر رشتوں کا گہرازخم لگ چکا ہے ۔وہ اس دن بے تحاشا روئے اور تڑپے ۔ہر کسی سے یہی پوچھتے کہ کیا کوئی دولت کے لئے اتنا بھی حریص اور اندھا ہوسکتا ہے کہ شیطان بن جائے ۔نیک اور اچھے انسان کے لئے ایسی تکلیف برداشت کرنا واقعی بڑا مشکل ہوتا ہے۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت