عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 69

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 69
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 69

  

یہ بندرگاہ کا سب سے بڑا حصہ تھا ۔ کلاڈیوس کی کشتی کنارے لگی۔ اور اس نے قاسم کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا ۔ اس کا رخ شہر کے دروازے کی جانب ہی تھا ۔ جس کے سامنے آنے جانے والوں کی بھیڑ لگی تھی۔ فصیل کا یہ دروازہ ’’گولڈن ہارن‘‘ میں کھلتا تھا ۔ اسی لیے یہاں زیادہ تر ملاح دکھائی دیا کرتے تھے۔ لیکن آج تو سپاہیوں کی تعداد ملاحوں اور کشتی رانوں سے زیادہ تھی۔ ’’سلطان محمد فاتح‘‘ کے اعلانِ جنگ نے قسطنطنیہ کی شہری زندگی کو بری طرح متأثر کیا تھا ۔ اور قصرِ شاہی کو بیخ وبن سے ہلا دیا تھا۔ 

قاسم کلاڈیوس کے ہمراہ چلتا ہوا اس عظیم شہر کے دروازے پر پہنچا اور دل ہی دل میں اپنے آپ کو سلطانی لشکر کا پہلا سپاہی تصور کر کے مزے لینے لگا۔ لیکن اس کے دل میں بہت سے خدشات بھی تھے۔ وہ اگر شہر میں داخل ہوتے ہی پکڑا جاتا تو باقی کا کام ٹھپ ہوسکتا تھا۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 68 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کلاڈیوس کے ہمراہ ہونے کی وجہ سے قاسم کو شہر کے دروازے سے باہر کسی سپاہی نے نہ روکا۔ وہ دونوں تیزی سے چلتے ہوئے اس تاریخی شہر کے بلند و بالا دیو قامت دروازے میں جاپہنچے ، دروزے کی چھت کے نیچے سے گزرتے ہوئے قاسم کی حالت بڑی عجیب تھی۔ دروازے کی بناوٹ سے ظاہر ہوتا تھا کہ بازنطینی سلطنت کبھی بڑی پر شکوہ اور عظیم رہی ہوگی۔ حالانکہ یہ قسطنطنیہ کا ایک چھوٹا دروازہ تھا ۔ سب سے بڑا دروازہ ’’سینٹ رومانس‘‘ تھا ۔ جو خشکی کی جانب تھا ۔ اور وہی شہر کی سامنے کی سمت سمجھی جاتی تھی۔ دروازے کے نیچے سے گزرتے ہوئے قاسم کو ایسے لگا جیسے وہ کسی بلند و بالا اور وسیع و عریض کمرے میں سے گزر راہ ہے۔ قدموں کی آواز سے پیدا ہونے والی گونج اس قدیم شہر کے دیو مالائی تصور کو قاسم کے ذہن میں مزید اجاگر کر رہی تھی۔ دروازے کے اندر دائیں بائیں فوجی افسروں اور محصول چنگی کے دفاتر تھے۔ کلاڈیوس بے دھڑک تیسرے کمرے میں داخل ہوگیا ۔ قاسم کی نبضیں تیز ہونے لگیں وہ دل ہی دل میں حمیرا سے سنی بوسنیا کی معلومات دہرانے لگا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے دیکھا ۔ ایک لحیم شحیم اور توانا ادھیڑ عمر فوجی افسر اپنے سامنے شہر کا نقشہ پھیلائے چند سپاہیوں سے باتیں کر رہا تھا ۔ کلاڈیوس نے افسر کو پرجوش انداز میں سلام کیا ۔ اور فوری طور پر قاسم کا تعارف کروادیا:۔

’’یہ ہے مورگن !........بوسنیا کے سابق شاہی خاندان کا فرد۔ قسطنطنیہ کی فوج میں بھرتی ہونے آیا ہے۔‘‘

قاسم نے اندازہ کر لیا کہ یہ پختہ عمر فوجی افسر رومیل ہی تھا ۔ قاسم نے بھی آگے بڑھ کر مؤدبانہ انداز میں سلام کیا ۔ رومیل قاسم کو دیکھ کر اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اور اس نے پرتپاک انداز میں آگے بڑھ کر اپنے ہم وطن کو گلے سے لگا لیا ۔ قاسم کے لیے بڑی مشکل صورتِ حال تھی۔ اس نے خود کو بوسنیائی کہہ تو دیا تھا ۔ لیکن اب اسے کو ئی ایسی بات کرنی تھی کہ رومیل کو اس پر کوئی شک نہ پڑے۔رومیل نے قاسم کو اپنے قریب بٹھاتے ہوئے کہا:۔

’’آپ کی مہمان نوازی میرے لیے کسی سعادت سے کم نہ ہوگی۔ میں تو اپنے وطن بوسنیا کے شاہی خاندان کا دل سے معتقد ہوں۔ کلاڈیوس نے اچھا کیا جو آپ کو میرے پاس لے آیا ۔‘‘

اب بولنے کی باری قاسم کی تھی ۔ اس نے کسی قدر سنبھلتے ہوئے کہا:۔

’’جی ! یہ تو آپ کی مہربانی ہے۔ ورنہ اب شاہی خاندان کہاں باقی رہ گیا ہے۔ ہمارے شاہی خاندان کو تو سلطان مراد خان ثانی کی شمشیر آبدار نے پارہ پارہ کردیا ہے۔‘‘

’’دیکھیے!.............آپ سلطان مراد خان ثانی کو کچھ مت کہیے۔ میں مسلمانوں کے اس سلطان کا مداح ہوں۔ آپ کو حیرت ہوگی .........یہ سن کر ..........کہ میرے سات سالہ بیٹے کا نام ’’سلطان مراد‘‘ ہے۔‘‘

رومیل کی بات قاسم کے لیے بجلی کا جھٹکا ثابت ہوئی ۔ وہ رومیل کی بات کا الٹا مطلب سمجھا۔ اس کا دل بیٹھنے لگا۔ اسے ایسے لگا ، جیسے رومیل کی گہری آنکھیں قاسم کو پہچان چکی ہیں۔ اور اسی لیے رومیل قاسم کے سامنے سلطان مراد کا نام بار بار لے رہا ہے۔ تاکہ قاسم کے دل کا چور پکڑ سکے۔ وہ بری طرح سٹپٹا گیا کہ اب رومیل سے کیا کہے اور کیا نہ کہے۔رومیل قاسم کے چہرے پر ہونے والی تبدیلیوں کا بغور جائزہ لے رہا تھا ۔ یہ بات قاسم کیلے مزید گھبراہٹ کا باعث ہوئی ۔ اور عثمانی سلطنت کا یہ تجربہ کار جاسوس زندگی میں پہلی بار اپنے آپ کو چوہے دان میں پھنسا ہوا محسوس کرنے لگا۔ رومیل قاسم کی حیرت بھانپ چکا تھا ؟ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ پھر بولا:۔

’’ارے ! آپ تو گھبراگئے.........میری بات سن کر آ پ فکر مت کیجیے ! میں مسلمانوں کا جاسوس نہیں ہوں۔ خداوندِ یسوع مسیح کا ایک سچا خادم ہوں۔‘‘

اب قاسم کو مکمل یقین ہو چلا تھا کہ رومیل اسے پہچان چکا ہے۔ وہ خود کو قیصر کی قید میں تصور کرنے لگا۔ اور قید ہونے سے پہلے ہی فرار ہونے کے منصوبے سوچنے لگا۔ لیکن اچانک رومیل کی ایک اور بات سن کر اس کا ذہن پھر بھٹک گیا ۔ اور وہ گومگو کے عالم میں گرفتار ہوگیا کہ رومیل کے بارے میں کس زاویے سے سوچے ۔ رومیل نے کہاتھا :۔

’’آپ مجھے غلط مت سمجھیے ! میں نے اپنے بیٹے کا نام سلطان مراد کسی اور وجہ سے رکھا ہے۔ آپ کی طرح دوسرے لوگ بھی میری اس حرکت کو پسند نہیں کرتے ۔ اسی لیے میں اب اپنے بیٹے کو ’’سولٹن‘‘ کہہ کر پکارتا ہوں۔ زیادہ تر لوگوں کو میں وجہ نہیں بتاتا ۔ لیکن آپ کو بتاؤں گا ۔ کیونکہ آپ تو میرے ہم وطن بھائی ہیں۔ ابھی کچھ دیر بعد میں آپ کو اپنے گھر لے جاؤں گا۔ وہاں آپ میری بیوی اور بچے کو مل کر بہت خوش ہونگے۔‘‘

قاسم نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا:۔

’’کیا آپ کی بیوی بھی بوسنیائی ہیں؟‘‘

’’جی ہاں ! ہمیں اپنے بوسنیا ئی ہونے پر فخر ہے۔‘‘

اب قاسم کا ڈر کم ہورہا تھا ۔ اسے رومیل کی شخصیت کچھ عجیب ہی لگی تھی۔ کچھ دیر بعد کلاڈیوس نے رومیل سے اجازت لی اور قاسم سے مل کر چلا گیا ۔ رومیل نے باقی ماتحتوں کو بھی جانے کی جازت دے دی۔ کمرے میں تنہائی ہوتے ہی قاسم نے پھر سوال کیا:۔

’’کیا یہ سچ ہے کہ قسطنطنیہ پر بہت بڑا حملہ ہونے والا ہے۔ میں دراصل یہ سن کر جہاد کی نیت سے اِدھر آیا ہوں۔‘‘

قاسم نے ذومعنی انداز میں اپنی اصل نیت بتادی ۔ واقعی ! وہ جہاد کے لیے ہی تو آیا تھا ۔ رومیل قاسم کی بات پر زیرِ لب مسکراتا ہوا قاسم کو پراسرار سا لگا۔ لیکن اب سلطان محمد خان کا یہ جاسوس پوری طرح سنبھل چکا تھا ۔ رومیل نے جواب دیا:۔

’’ہاں ! یہ سچ ہے۔ آپ دیکھ نہیں رہے شہر میں کس قدر رسد جمع کی جارہی ہے..........آپ کا جذبہ قابلِ ستائش ہے۔ اگر آپ جیسے نوجوان شاہی پرچم تلے جمع ہوتے رہے تو قسطنطنیہ کو کوئی سلطان بھی گزند نہیں پہنچا سکتا۔‘‘

نہ جانے کیوں قاسم کے دل سے رومیل کے بارے میں پیدا ہونے کا شک کیوں دور نہ ہورہا تھا ۔ آج قاسم خود کو مردم شناسی میں طفل مکتب سمجھ رہا تھا ۔ وہ ابھی یہی کچھ سوچ رہا تھا کہ رومیل نے اچانک سوال کردیا:۔

’’آپ پہلے کبھی کسی جگہ میں شریک ہوئے ہیں؟..........آپ نے کبھی مسلمانوں کو میدانِ جنگ میں لڑتے دیکھا ہے؟‘‘

قاسم سے فوری طور کوئی جواب نہ بن پڑ ا۔ اور اس نے کہہ دیا :۔

’’نن .......نہیں! اس سے پہلے میرا زیادہ تر وقت مغربی یورپ میں گزرا ہے۔‘‘

رومیل کو زیادہ حیرت نہ ہوئی۔ اس نے خاموشی سے سر ہلایا۔ اور خود کہنے لگا:۔

’’لیکن میں نے مسلمانوں کو میدانِ جنگ میں لڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ ان کی ہلالی تلواریں برقِ آسمانی کی طرح لپکتی ہیں۔ اور میدانِ جنگ میں ان کے قدم پارے کی طرح تھرکتے ہیں..........میں نے مسلمانوں کے خلاف کئی جنگوں میں حصہ لیا ہے۔ میں مشہور سپہ سالار ہونیاڈے کی اس فوج میں بھی رہا ہوں۔جس نے سلطان مراد خان سے ’’وارنہ‘‘ کے مقام پر شکست کھائی تھی۔‘‘

اب قاسم کا دل ایک مرتبہ پھر بیٹھنے لگا۔ وہ دل ہی دل میں کہنے لگا کہ رومیل اسے پہچان چکا ہے۔ کیونکہ یہی جنگ تو تھی جس میں قاسم نے خوب دادِ شجاعت دی تھی۔ اور پاپائے روم کے خصوصی نمائندہ ’’کارڈنیل جولین‘‘ کو دو ٹکڑوں میں کاٹ دیا تھا ۔ رومیل بھی اسی جنگ کا ذکر کررہا تھا ۔ یقیناًاس نے قاسم کو وہا ں دیکھا ہوگا۔ اور اب اس لیے وہ داؤ پر داؤ کھیل رہاتھا ..........قاسم یہی باتیں سوچتا رہا ۔ یہاں تک کہ رومیل نے اپنا کام نمٹا لیا ۔ اور قاسم سے گھر چلنے کے لیے کہا۔

قاسم ابھی تک وسوسوں کی دنیا سے نہیں نکل سکا تھا ۔ لیکن پھر بھی مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اسے رومیل کے ساتھ جانا تو تھا ہی، .........لیکن قاسم کو اس وقت حیرت ہوئی جب رومیل سچ مچ قاسم کو لے کر اپنے گھر آگیا ۔(جاری ہے )

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 70 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح