’اگر پاکستان میں چین جیت گیا تو۔۔۔‘ وال سٹریٹ جرنل نے پاکستان پر امریکہ اور چین کے جھگڑے کی اصل وجہ بتادی، جان کر پاکستانی بھی کہیں گے ہمیں تو اپنی اس اہمیت کے بارے میں معلوم ہی نہ تھا

’اگر پاکستان میں چین جیت گیا تو۔۔۔‘ وال سٹریٹ جرنل نے پاکستان پر امریکہ اور ...
’اگر پاکستان میں چین جیت گیا تو۔۔۔‘ وال سٹریٹ جرنل نے پاکستان پر امریکہ اور چین کے جھگڑے کی اصل وجہ بتادی، جان کر پاکستانی بھی کہیں گے ہمیں تو اپنی اس اہمیت کے بارے میں معلوم ہی نہ تھا

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) آج کل چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ کا بہت ذکر سننے کو ملتا ہے، جو دراصل عالمی معیشت و تجارت پر غلبے کی جنگ ہے۔ یہ جنگ ہے تو چین اور امریکا کے درمیان لیکن اس کی اہم ترین لڑائی پاکستان کے محاذ پر لڑی جا رہی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی محاذ فیصلہ کرے گا کہ مستقبل کی سپر پاور کون ہو گا۔

امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ اس حوالے سے تیار کی گئی ایک خصوصی ویڈیو رپورٹ میں بتاتا ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان جاری چپقلش درحقیقت عالمی بالادستی کی جنگ ہے۔ اگر چین یہ مقابلہ جیت گیا تو عالمی تجارت کا نیا مرکز بن جائے گا اور اگر امریکہ اس میں کامیاب ہو گیا تو سپر پاور بننے کی راہ پر گامزن چین کے راستے کی رکاوٹ بن جائے گا۔

چین نے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری چین کے ’بیلٹ اینڈروڈ انیشی ایٹو‘ کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اس انیشی ایٹو کا آغاز صدر شی جن پنگ نے 2013ءمیں کیا اور اس کے تحت چین 68 ممالک میں ایک کھرب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کررہا ہے۔

چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘ کے بارے میں کچھ باتیں سمجھنے کی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ اسے اپنے لئے ایک خطرہ تصور کرتا ہے۔ امریکہ دنیا میں برآمدات کے سب سے بڑے حجم والا ملک تھا لیکن 2013ءمیں چین نے اسے پیچھے چھوڑ دیا۔

دوسری بات یہ ہے کہ چین مختلف ممالک کو بھاری قرضے دے رہا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ ان میں سے زیادہ تر ممالک یہ بھاری قرضے واپس کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ ایک مثال سری لنکا ہے، جس کی ہمبنطوطہ بندرگاہ کی تعمیر کے لئے چین نے اربوں ڈالر کا قرض دیا، مگر اب سری لنکا یہ قرض واپس کرنے کے قابل نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چین نے یہ بندرگاہ 99 سال کے لئے لیز پر لے لی ہے۔

چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘ کا سب سے بڑا پراجیکٹ پاک چین اقتصادی راہداری کی صورت میں پاکستان میں جاری ہے۔ امریکی سوچتے ہیں کہ چین اس بہت بڑے منصوبے کے ذریعے براہ راست بحرہند تک رسائی حاصل کررہا ہے تاکہ امریکہ کی عالمی طاقت کو چیلنج کرسکے۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں پاکستان کے سامنے کچھ سنجیدہ مسائل ہیں۔ مثال کے طور پر چین پاکستان میں توانائی منصوبے بنا رہا ہے جن سے پیدا ہونے والی بجلی بہرحال پاکستان کو خریدنا ہوگی، اور بجلی کی مہنگی قیمت کے علاوہ ان منصوبوں کے قیام کے لئے حاصل کئے گئے قرضہ جات بھی واپس کرنا ہوں گے۔

پاکستان کو پہلے ہی معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ مسائل سے نمٹنے کے لئے اسے آئی ایم ایف کی مدد کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب امریکہ، جو کہ آئی ایم ایف کے فنڈ میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے والا ملک ہے، کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عوام کے پیسے کو پاکستان کی مدد کے لئے کیوں فراہم کریں جبکہ پاکستان اس رقم کو چین کا قرض ادا کرنے کے لئے استعمال کرے گا۔ امریکہ کے لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ آئی ایم ایف پر دباﺅ ڈال کر اسے پاکستان کی مدد سے روک دے کیونکہ ایسی صورت میں اسے خطے میں ایک اہم اتحادی سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس کی ترجیح ہوگی کہ آئی ایم ایف پر اپنے اثر و رسوخ کو محض اس حد تک استعمال کرے کہ پاکستان کے ذریعے چین پر دباﺅ ڈالا جاسکے۔

اس بات کا مطلب یہ ہوا کہ آئی ایم ایف کے معاہدے میں ایسی شرائط رکھی جاسکتی ہیں کہ پاکستان اس رقم سے چین کا قرض واپس نہیں کرسکے گا، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے یا تو روکنے پڑیں گے یا انہیں محدود کرنا پڑے گا۔

پاکستان کے لئے یہ ایک مشکل صورتحال ہے۔ ایک جانب اسے آئی ایم ایف کی مد د کی ضرورت ہے اور دوسری طرف اسے اپنے ملک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کی ضرورت ہے۔ اگر اس کھینچا تانی میں جیت امریکہ کی ہوتی ہے تو پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ بری طرح متاثر ہوگا اور دیگر ممالک کا بھی چین پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ یعنی دوسرے لفظوں میں عالمی معیشت اور تجارت پر چین کا اثر ورسوخ کمزور پڑجائے گا۔

اگر جیت چین کی ہوتی ہے تو پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پوری رفتار سے جاری رہے گا اور دیگر ممالک کے لئے بھی ایک مثال بن جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عالمی معیشت و تجارت پر چین کا اثر و رسوخ بہت بڑھ جائے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ صورتحال بہت جلد واضح ہوجائے گی کیونکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں اور اسے اس مسئلے کا حل جلد از جلد ڈھونڈنا ہے۔ کیا پاکستان امریکی شرائط پر آئی ایم ایف سے قرض لے گا، چین سے مزید قرض لے گا، یا کوئی اور راستہ اختیار کرے گا؟ یہی وہ بات ہے جو دو بڑی عالمی طاقتوں کی جنگ میں فیصلہ کن ثابت ہوگی۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد