”سرد خانے میں رکھی لاش سے اگلے دن بھی گرم اور تازہ خون بہہ رہا تھا “ دہشت گردی کی جنگ میں دشمن کی کمر توڑنے والے پاک فوج کے شہید افسر کا معجزہ جان کر آپ کا دل بھی نور ایمان سے بھر جائے گا

”سرد خانے میں رکھی لاش سے اگلے دن بھی گرم اور تازہ خون بہہ رہا تھا “ دہشت ...
”سرد خانے میں رکھی لاش سے اگلے دن بھی گرم اور تازہ خون بہہ رہا تھا “ دہشت گردی کی جنگ میں دشمن کی کمر توڑنے والے پاک فوج کے شہید افسر کا معجزہ جان کر آپ کا دل بھی نور ایمان سے بھر جائے گا

  

لاہور(ایس چودھری ) جنگ سمتبر سے کارگل کی جنگ تک پاک فوج کے بہت سے شہداءکو اللہ نے اپنے معجزات و کرامات سے نوازا اور زندہ انسانوں کو اپنے راہ میں شہیدہونے والوں کی حیات جاوداں کے لمس سے روشناس بھی کرایا ۔دہشت گردی کی حالیہ جنگ میں بھی پاک فوج کے شہیدوں کو ایسی سعادتیں نصیب ہوئیں کہ ان کے جسد مبارک کو دیکھ کر ہر کسی کا ایمان تازہ ہوجاتا کہ گولیوں او ربمبوں سے جن کے بدنوں کو چھید ڈالا گیا تھا ،شہادت کے کئی دن بعد بھی ان کے جسمون سے تازہ اورگرم لہو رستا نظر آیا ۔

2011 میں درہ آدم خیل میں دہشت گردوں کی بمبار سازفیکٹری کو تباہ کرنے والے پاک فوج کے کیپٹن راجہ فرحان علی کو بھی جب شہادت نصیب ہوئی تو ان کے جسد خاکی سے گرم لہو ٹپکتا رہا ۔کیپٹن فرحان علی کے بھائی کیپٹن اسد علی کا کہنا ہے کہ بھائی کی باڈی کو جب سرد خانے میں رکھا گیا تو اگلے دن جب انکی باڈی کو نکالا گیا تو انکے نیچے سٹیل کی یخ ٹھنڈی بیلٹ پر ان کے تازہ اور گرم خون کی ایک تہہ بہہ رہی تھی ۔جسے دیکھ کر ان کا دل نورایمان سے بھر گیا کہ اللہ نے انکے بھائی کی شہادت کو قبول فرمایا اور اسے حیات جاوداں عطافرمائی ہے۔

کیپٹن فرحان علی جذبہ شہادت سے سرشار رہا کرتے تھے ۔انہوں نے درہ آدم خیل کے انتہائی دشوارعلاقے کے گاوں چھپر میں دہشت گردوں کی فیکٹری تباہ کرکے انکی کمر توڑ دی تھی ۔ان کا تعلق چھبیس پنجاب رجمنٹ سے تھا جس کے افسروں اور جوانوں نے دہشت گردی کی جنگ میں غیر معمولی کارنامے انجام دیکر ملک کا دفاع کیا تو اللہ نے ان کی اس خدمت کے صلے میں انہیں حیات جاوداں عطا فرمائی ۔

مزید : دفاع وطن