’مجھے مرد 1 لاکھ روپے ہفتہ دیتے ہیں تاکہ میں ان کے۔۔۔‘یونیورسٹی کی 19سالہ طالبہ نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا، جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ کوئی اس کام کے بھی اتنے پیسے دے سکتا ہے

’مجھے مرد 1 لاکھ روپے ہفتہ دیتے ہیں تاکہ میں ان کے۔۔۔‘یونیورسٹی کی 19سالہ ...
’مجھے مرد 1 لاکھ روپے ہفتہ دیتے ہیں تاکہ میں ان کے۔۔۔‘یونیورسٹی کی 19سالہ طالبہ نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا، جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ کوئی اس کام کے بھی اتنے پیسے دے سکتا ہے

  

سڈنی(نیوز ڈیسک)آج کے دور میں اعلٰی تعلیم بہت مہنگی ہو گئی ہے، جس کے اخراجات کچھ طلباءکو تو والدین سے مل جاتے ہیں مگر زیادہ تر خود محنت مشقت کرتے ہیں، البتہ بعض ایسے بھی ہیں جو ایک عجیب و غریب کام سے تعلیمی اخراجات بھی پورے کر رہے ہیں اور موج مستی بھی۔ یہ کیا کام ہے، اس کی ایک مثال سڈنی شہر سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ طالبہ گیما ہے،جو ایک 38 سالہ مالدار شخص کے ساتھ مہینے میں ایک بار چائے پینے جاتی ہے، کچھ دیر گھومتی پھرتی ہے، باقی وقت فون پر بات کرتی ہے، اور اس ’کام‘ کے بدلے اسے ہر ہفتے 1150 آسٹریلین ڈالر، یعنی تقریباً ایک لاکھ پاکستانی روپے کی رقم ملتی ہے۔ مفت میں سیر و تفریح اور قیمتی تحائف اس کے علاوہ ہیں۔

گیما نے اپنے انوکھے کام کے متعلق بتایا کہ ” میں چند ماہ سے یہ خدمات مہیا کر رہی ہوں اور اس کے بدلے حاصل ہونے والی رقم اور آسائشوں سے بہت خوش ہوں۔ میری طرح یونیورسٹی کی اور بہت سی لڑکیاں یہی کام کر رہی ہیں۔ ایسی لڑکیوں کو ’شوگر بے بی‘ کہتے ہیں اور ہم جس شخص کو اپنی خدمات فراہم کرتی ہیں وہ ہمارا ’شوگر ڈیڈی‘ کہلاتا ہے۔ یہ وہ مالدار لوگ ہوتے ہیں جنہیں کسی دلکش نوجوان لڑکی کا ساتھ درکار ہوتا ہے۔ بعض لڑکیاں اپنے شوگر ڈیڈی کے ساتھ میری طرح صرف چائے پیتی اور گھومتی پھرتی ہیں، اور بعض اس سے زیادہ خدمات بھی فراہم کرتی ہیں، بہرحال یہ اپنی اپنی مرضی ہوتی ہے۔

میں اپنے کلائنٹ کے ساتھ صرف مہینے میں ایک بار باہر جاتی ہوں۔ ہم اکٹھے چائے پیتے ہیں اور گپ شپ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً ہمارے درمیان فون پر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ ہمارے درمیان معاہدے میں یہ شرط واضح طور پر لکھی ہے کہ وہ میرے ساتھ بات چیت اور گھومنے پھرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔ ویسے وہ بہت مہذب اور عزت کرنے والا ہے اور ہمارا تعلق ایک اچھی دوستی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس