صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے اپوزیشن جماعتیں حکومت کی رہنمائی کرتے ہوئےاپنا مؤثر کردار ادا کریں:وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال

صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے اپوزیشن جماعتیں حکومت کی رہنمائی کرتے ...
صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے اپوزیشن جماعتیں حکومت کی رہنمائی کرتے ہوئےاپنا مؤثر کردار ادا کریں:وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ تمام اہم صوبائی امور پراپوزیشن کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا اور ان کی رائے اور مشوروں کو اہمیت دی جائے گی، اگر حکومت صحیح معنوں میں کام کرنا چاہے تو اس میں اپوزیشن کا بھی اہم کردار ہے، ہم ایک اچھی طرز حکمرانی قائم کرکے سب کو ساتھ لے کر چلیں گے، صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے اپوزیشن جماعتیں نہ صرف حکومت کی رہنمائی کریں بلکہ ان کے حل کے لئے اپنا مؤثر کردار بھی ادا کریں۔

نجی ٹی وی کے مطابق متحدہ اپوزیشن کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے جام کمال خان کا کہنا تھا کہ یہ ہم سب کا صوبہ ہے اور اس کے مسائل کا حل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، یہ امر باعث اطمنان ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی مسائل کے حل کے لئے اپنی ذمہ داری کا احساس ہے،اپوزیشن صوبے اور عوام کی بہتری کے لئے اچھی اور قابل عمل تجاویز سامنے لائے حکومت خیرمقدم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے نظام میں پائی جانے والی خرابیوں کو دورکرنے میں کچھ وقت ضرور لگے گا ،ہم نے ایک بہتر ماحول میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے، خاص طور پر اپنے وسائل پر اختیار کے حصول کے لئے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے، اپوزیشن کی تجاویز کی روشنی میں جامع لینڈ پالیسی بنا کر مقامی قبائل، عام لوگوں اور سرکاری اراضی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور سی پیک میں بلوچستان کے حقوق ومفادات کا تحفظ کیا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت کو قائم ہوئے بیس دن ہوئے ہیں لیکن اس دوران اندازہ ہوا ہے کہ اگر ماضی میں حکومتی امور کو صحیح ڈگر پر رکھا جاتا تو مسائل اتنے گھمبیر نہ ہوتے، ماضی کے ترقیاتی پروگراموں میں صرف چند حلقوں کو اہمیت حاصل رہی اگر ترقیاتی پروگرام متوازن ہوتے تو ہر ضلع کو یکساں ترقی ملتی اور ستر فیصد سے زائد مسائل حل ہوچکے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ جو اضلاع نظر انداز ہوئے ہیں انہیں اہمیت دے کر دیگر اضلاع کے برابر لایا جائے گا۔ آئندہ ایسی متوازن اور قابل عمل پی ایس ڈی پی بنائی جائے گی جس میں کوئی بھی علاقہ نظر انداز نہ ہو جس کے لئے ایک قابل عمل فارمولہ طے کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ رواں مالی سال کی پی ایس ڈی پی کا ہائیکورٹ کے حکم کے تحت ازسرنوجائزہ لیا جارہا ہے، پی ایس ڈی پی کے امور پر اسمبلی میں بھی بات ہو سکتی ہے اور اس حوالے سے کمیٹی بھی قائم کی جاسکتی ہے۔ 

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال سے متحدہ اپوزیشن کے وفد میں ثناء بلوچ، ملک سکندر ایڈووکیٹ، نصراللہ زیرے سمیت اپوزیشن جماعتوں کے تمام اراکین اسمبلی شامل تھے جبکہ ملاقات میں  صوبائی وزراء سردار محمد صالح بھوتانی، سردار عبدالرحمن کھیتران، میر ظہور بلیدی اور اراکین اسمبلی اصغر اچکزئی اور دنیش کمار بھی اس موقع پر موجود تھے۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ