دنیاوی محبتوں کے جذبات بھی اللہ کی عطا ہیں

دنیاوی محبتوں کے جذبات بھی اللہ کی عطا ہیں

تخلیقی طور پر انسان میں ایک غیر شعوری محبت رکھ دی گئی ہے، اس کی فطرت ہے کہ وہ عورتوں سے محبت کرتا ہے، اولاد سے محبت کرتا ہے، سونے اور چاندی کے ڈھیروں،یعنی دولت سے محبت کرتا ہے۔ اسی طرح مال اور مویشی سے محبت کرتا ہے، کھیتی سے محبت کرتا ہے۔ یہ غیر شعوری محبت ہے یعنی کوئی بندہ سوچ سمجھ کر یہ نتیجہ نہیں نکالتا کہ مَیں اپنے والدین سے محبت کروں، بیوی سے محبت کروں، اولاد سے پیار کروں، اپنے بھائیوں سے محبت کروں یا اپنے لئے دولت جمع کروں یا اپنے لئے گھر بنا لوں یا میری کھیتی بہت اچھی ہو اور اس کے لئے محنت کروں۔اللہ کریم نے انسانی فطرت میں ازواج، اولاد، مال و اسباب اور دنیا کی چیزوں کی غیر شعوری محبت رکھی ہے اور یہ ضروری بھی تھی۔ اگر انسان میں ان چیزوں کی محبت نہ ہو تو دنیا کا نظام چل ہی نہیں سکتا۔ اگر ان چیزوں سے محبت نہ ہو تو ان کے لئے محنت اور وقت کون لگائے گا، ان کی دیکھ بھال کون کرے گا،ان کو اپنائیت کا حق کون دے گا ان ساری چیزوں کے لئے ایک فطری اور غیرشعوری محبت ضروری تھی، لیکن انسان حیوانات، نباتات، جمادات کی طرح فطری جذبوں کا پابند نہیں ہے۔ حیوانوں میں اللہ کریم نے غیر شعوری طور پر جو چیز رکھ دی ہے،وہ اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ بھوک لگتی ہے تو پیٹ بھرنے کا حیلہ کرتے ہیں، لیکن ان میں یہ سوچنے کی قوت نہیں ہے کہ جو مَیں کھانے چلا ہوں اس پر میرا حق ہے بھی یا نہیں، یہ اپنا ہے یا پرایا، یہ غلط ہے یا صحیح۔ اس طرح حیوان فطری ضرورتوں کی تکمیل کو مقدم جانتے ہوئے اپنی ضرورتیں پوری کرتے رہتے ہیں، لیکن ان میں تمیز نہیں ہے، سوچنے کی قوت نہیں ہے، شعوری فیصلے کرنے کی قوت نہیں ہے۔

ایک محبت ہے،جس کا عقلی اور شعوری طور پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یہ ساری چیزیں اللہ کی بنائی ہوئی ہیں، یہ ساری چیزیں انسان کی ضرورت ہیں اور ان کی محبت جرم نہیں ہے، اِس لئے کہ یہ انسان کی عقلی اور شعوری محبت نہیں ہے۔ یہ محبت تو اسے خالق نے عطا کی ہے، غیر شعوری طورپر اس کے اندر یہ جذبہ موجود ہے، لیکن اللہ نے اسے فہم و شعور بھی دیا ہے، ادراک بھی دیا ہے۔ ان سب محبتوں کے ساتھ اسے شعوری طور پر دعوت فکر دی گئی ہے کہ تیرا ایک خالق بھی ہے، تیرا ایک رازق بھی ہے، تیرا ایک رب ہے جو تجھے پال رہا ہے، جس نے تجھے پیدا کیا ہے، اس نے یہ نعمتیں اور ان کی محبت بھی تجھے دی ہے۔ انسان کو اللہ کریم نے شعور بخشا اور اتنا اعلیٰ شعور بخشا ہے کہ جب وہ فیصلہ کرتا ہے تو مخلوق کے مقابلے میں خالق کو چنتا ہے۔یہ شرف صرف انسان کو حاصل ہے کہ وہ اللہ کی ذات کے متعلق سوچتا ہے، اس کی ذات کے بارے میں فکر کرتا ہے، غور کرتا ہے، پھر اس سے پیار کرتا ہے، محبت کرتا ہے اور اس کے لئے زندگی تک نچھاور کر دیتا ہے۔یہ شعور صرف انسان کو نصیب ہے۔ فرشتہ بہت اعلیٰ، نوری مخلوق ہے جس کے ساتھ کبھی گناہ کا کوئی تصور نہیں ہے، لیکن ہر فرشتے کا ایک مقام مقرر ہے،جہاں رب العالمین نے اسے پیدا کیا ہے۔ ساری زندگی کی اطاعت اسے اس مقام سے ایک قدم آگے ترقی کے راستے پر نہیں لے جا سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تخلیقی طور پر اس کام کے لئے بنایا گیا ہے اور اسے اس کے علاوہ سوچنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔

انسان کو اللہ کریم نے شعور دیا۔ کُل’، مَوْلَوْد’، یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ۔ ہر پیدا ہونے والا فطری خصوصیات لے کر پیدا ہوتا ہے۔ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَ انِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖآپؐ کا ارشاد عالی ہے کہ پھر اس کے والدین، وہ ماحول، معاشرہ جس میں وہ پلتا بڑھتا ہے، کسی کو یہودی، کسی کو مجوسی، کسی کو نصرانی بنا دیتا ہے،ورنہ فطری طورپر ہر انسان میں وہ شعور موجود ہے اور اگر اسے وہ استعمال کرتا ہے، تحقیق و جستجو کرتا ہے تو ہدایت پا لیتا ہے اور کافروں کے گھر پل کر بھی ایمان لا سکتا ہے۔اس میں ایمان لانے کی استعداد اور قوت موجود ہے،بلکہ ولایت کی اعلیٰ منازل پا سکتا ہے۔ اگر نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ پایا ہو تو صحابی بن سکتا ہے۔ صحابہ کرامؓ انہی لوگوں میں سے تھے جو اللہ کریم کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے اگرچہ اکثر اکابر صحابہ کرام میں بہت سے ایسے تھے، جنہوں نے زندگی میں شرک نہیں کیا، بتوں کو سجدہ نہیں کیا، لیکن اللہ کی ذات سے واقف نہیں تھے۔ معرفت الٰہی کی لو تو محمد رسولؐ اللہ نے جگائی۔ انسان کے شعور کواللہ کا رسولؐ راستہ دکھاتا ہے۔سب سے قریبی رشتہ میاں بیوی کا ہوتا ہے۔ شاید والدین سے اس قدر دکھ سکھ زیر بحث نہیں لائے جا سکتے، اولاد سے اس قدر دکھ سکھ نہیں کہے جا سکتے،جتنے میاں بیوی آپس میں زیر بحث لا سکتے ہیں، لیکن آپ نے یہ بھی دیکھا کہ جب یہ محبت ختم ہو جاتی ہے یا نفرت میں بدل جاتی ہے تو وہی میاں بیوی ایک دوسرے کی جان اور آبرو کے درپے ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ یہ محبت انسان کے وجود میں غیر شعوری طور پر موجود ہے۔ اس کی اپنی بنائی ہوئی نہیں ہے، اللہ کی دی ہوئی ہے۔یہ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود نفرتیں جنم لے لیتی ہیں۔

انسان ایسا کوتاہ نظر اور کوتاہ فہم واقع ہوا ہے کہ اس کے باوجود وہ نفرتیں پیدا کر لیتا ہے۔ اگر یہ غیر شعوری محبت نہ ہوتی تو یہ دنیا کیا ہوتی، اس کا نقشہ کیا ہوتا! یہ بھی اللہ کا ایک احسان ہے کہ اس نے ضرورت کی چیزوں سے، کاروبار سے، گھر سے، اولاد سے، والدین سے، بہن بھائیوں سے، دوستوں سے ایک غیر شعوری محبت کا جذبہ ودیعت فرما دیا۔اس کے ہوتے ہوئے انسان نفرتیں پال لیتا ہے۔ بھائی بھائیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ اولاد باپ کو گھر سے نکال دیتی ہے۔ میاں بیوی کو قتل کر دیتا ہے، ناک کاٹ لیتا ہے، طلاق دے دیتا ہے، بدنام کرتا ہے، بیوی خاوند پر عدالت میں دعویٰ کر دیتی ہے اور اسے ذلیل و رسوا کرتی ہے باوجود اس کے کہ اللہ کریم نے یہ محبت غیر شعوری طور پر، ہماری کسی کوشش و محنت کے بغیر ہمارے اندر رکھ دی ہے۔ کسی جگہ یہ حد سے اتنی بڑھ جاتی ہے کہ لوگ اپنے مال پر قناعت نہیں کرتے،بلکہ دوسروں کا مال بھی چھیننا شروع کر دیتے ہیں۔اسلام نے کسی چیز پر ایسی پابندی نہیں لگائی۔ اسلام نے اہل خانہ سے محبت کو منع نہیں کیا، والدین سے محبت کو منع نہیں کیا، اولاد سے محبت کرنے سے روکا نہیں ہے۔ دولت کمانے سے نہیں روکا۔ اچھا کھانے اور اچھا پہننے سے نہیں روکا۔ صرف یہ یاد دلایا ہے کہ یہ تو اللہ کا احسان ہے کہ اس نے غیر شعوری طور پر تمہارے اندر ان چیزوں کی محبت رکھ دی۔ تم میں مال کے حصول کی محبت ہے تو محنت کرتے ہو، ملازمت کرتے ہو، تجارت کرتے ہو۔ کھیتی باڑی کی محبت ہے تو گرمی کی تپتی دوپہر کو ہل چلاتے ہو، فصل کاٹتے ہو، صاف کرتے ہو۔ روزی کما کر لاتے ہو، اولاد کو بانٹتے ہو، بیوی کو کھلاتے ہو، گھر بناتے ہو جس میں سارے آرام سے رہتے ہیں۔ یہ اِس لئے ہے کہ اللہ نے تمہیں ان چیزوں کی محبت دی ہے جو بغیر تمہاری سوچ و فکرکے، غیر شعوری طور پر ہر بندے کے اندر موجود ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...