احتساب کے بارے میں سیاسی انجینئرنگ کا تاثر

احتساب کے بارے میں سیاسی انجینئرنگ کا تاثر

  



چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ملک میں جاری احتساب کے عمل کے لئے سیاسی انجینئرنگ کا تاثر خطرناک ہے جسے فوری ختم ہونا چاہئے تاکہ احتساب کے عمل پر لوگوں کا اعتماد متزلزل نہ ہو، طرزِ حکمرانی میں سیاسی دائرہ سکڑنا ملک اور آئینی جمہوریت کے لئے بہتر نہیں،کرپشن قانون کی حکمرانی کے لئے بڑی رکاوٹ، عدالتی نظام کو جکڑ رکھا ہے، میڈیا پر قدغن تشویشناک اور معاشرتی تناؤ جمہوریت کے لئے خطرہ ہے، ملک میں ایسا نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے، جس میں کرپشن کے لئے کوئی جگہ نہ ہو،جوڈیشل ایکٹوازم کی بجائے سپریم کورٹ عملی اور فعال جوڈیشل ازم کو فروغ دے رہی ہے،اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں نو شکایات زیر التوا ہیں، جن میں دو صدارتی ریفرنس بھی شامل ہیں، کونسل کسی قسم کے خوف، دباؤ کے بغیر اپنا کام جاری رکھے گی،انہوں نے اِن خیالات کا اظہار نئے عدالتی سال کے آغاز کے موقع پر ریفرنس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اِس وقت ملک میں احتساب کا جو نظام قائم ہے تھوڑی بہت تبدیلیوں کے باوجود یہ وہی نظام ہے، جو جنرل(ر) پرویز مشرف نے نواز شریف کی دوسری حکومت کا تختہ اُلٹ کر قائم کیا تھا، اس وقت احتساب بیورو کا چیئرمین حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر ہوتا تھا، جنرل (ر) پرویز مشرف کے عہد ِ حکومت کے آغاز میں بعض نامور سیاست دانوں کو گرفتار کر کے تھانوں میں رکھا گیا۔عام طور پر جن حالات میں بھی سیاست دان زیر حراست رکھے جاتے ہیں وہ ان سے شاکی ہی رہتے ہیں،لیکن اِن گرفتار سیاست دانوں نے جس قسم کے حالات بتائے اور جو شکایات کیں وہ واقعی ایسی تھیں،جو ان سیاست دانوں کے شایانِ شان نہ تھیں اُن پر جو بھی الزامات تھے ان کی نوعیت اگرچہ شروع شروع میں بڑی ڈرامائی نظر آتی تھی اور ایسے لگتا تھا کہ ان کے خلاف کوئی بڑی کارروائی ہو گی،لیکن چند دن بعد اندازہ ہو گیا کہ ان کی گرفتاریاں تو اُنہیں ”ڈرائی کلین“ کرنے کے لئے ہوئی ہیں،کیونکہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ یہ سیاست دان جو تھانوں میں گندگی اور گندے غسل خانوں کی شکایتیں کرتے پائے گئے تھے، اچانک یکے بعد دیگرے وزیر بننا شروع ہو گئے،شاید انہیں یہ آپشن دیا گیا تھا کہ وزیر بنو ورنہ گندے تھانوں میں رہو، انہیں وزیر بنا کر اُن کے سارے کردہ اور ناکردہ گناہ دھو ڈالے گئے، ایک سیاست دان جو بیرونِ ملک سے آمد پر اس الزام میں گرفتار ہوئے کہ انہوں نے پیسے باہر رکھے ہوئے ہیں،جب اُن سے پوچھا گیا تو انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ ”میرے پیسے ہیں،مَیں انہیں چاہے جہاں رکھوں، کسی کو کیا اعتراض ہے“ چند دِنوں تک ان کی گرفتاری وغیرہ کی نمائش ہوتی رہی پھر وہ بھی شریک ِ اقتدار ہو گئے۔اس سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ سیاستدانوں کی گرفتاریوں کا مقصد احتساب نہیں بلکہ اس کے نام پر سیاسی حمایت کا حصول ہے۔

سپریم کورٹ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کو تین سال کے اندر انتخاب کرانے کا حکم دیا تو انہوں نے الیکشن سے پہلے ایک ”کنگز پارٹی“ تشکیل کی، جمہوری اصولوں کے مطابق تو اقتدار جیتنے والی جماعت کو دیا جاتا ہے،لیکن یہ اپنی نوعیت کی عجوبہ جمہوریت تھی، جس میں یہ فیصلہ پہلے کیا گیا کہ اقتدار کن لوگوں اور کس جماعت کو دیا جانا ہے اور کس طرح دیا جانا ہے یہ میکانزم بعد میں اپنایا گیااور من پسند انتخابی نتائج حاصل کئے گئے، یہ جماعت پانچ سال تک برسر اقتدار رہی، اگلے پانچ برس کے لئے ایک دوسری جماعت کو برسر اقتدار لانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کے ساتھ مشہورِ زمانہ این آر او کیا گیا جسے سپریم کورٹ نے ختم کر دیا،ان سب اقدامات کی تفصیلات میں جانے کا یہ وقت نہیں اور نہ اتنی زیادہ گنجائش ان کالموں میں موجود ہے کہ وہ تمام تفصیلات بیان کی جائیں جو سیاست دانوں کے احتساب کے نام پر سیاسی حمایت حاصل کرنے کیلئے روا رکھی گئیں اور پھر سودے بازی کے لئے استعمال ہوئیں، بعد میں برسراقتدار آنے والی سیاسی جماعتیں چاہتیں تو احتساب کے قانون میں تبدیلیاں کر سکتی تھیں، لیکن انہوں نے بھی اسے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا طریقہ ہی بنا لیا اور محض فوجی چیئرمین کی بجائے سویلین چیئرمین بنانے پر اکتفا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تاثر پختہ تر ہو گیا کہ احتساب بھی ایک طرح کی سیاسی انجینئرنگ ہے،جس سے مخالفین کے گرد شکنجہ کسا جاتا ہے، اس وقت حکومت میں بہت سے ایسے نامور لوگ موجود ہیں جن کے خلاف نیب میں کیسز موجود ہیں، لیکن اُن کی فائلوں کی گرد نہیں جھاڑی جاتی،اس وقت جتنے بھی لوگ نیب کے زیر حراست ہیں اُن سب کا تعلق مخالف جماعتوں سے ہے،جبکہ ملتے جلتے مقدمات میں حکومت یا حلیف جماعتوں کے لوگ اول تو زیر تفتیش نہیں ہیں اور اگر ہوں تو انہیں کسی نہ کسی شکل میں ریلیف بھی مل جاتا ہے،اِس لئے سیاسی انجینئرنگ کا تاثر اُبھرتا ہے اِس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تاثر کو ختم کر کے باقی مقدمات کی سماعت بھی کی جائے۔

احتساب عدالت کے ایک جج نے اپنے ایک فیصلے کے متعلق جو بیانِ حلفی خود عدالت ِ عالیہ اسلام آباد میں جمع کرایا ہے اس سے نظامِ انصاف اور ان جج صاحب کے متعلق کوئی خوشگوار تاثر نہیں اُبھرتا،اُن کے فیصلے کی قانونی و اخلاقی حیثیت بھی مجروح ہوتی ہے، جج کی وڈیو بنانے کے الزام میں جو لوگ گرفتار تھے وہ رہا ہوچکے ہیں،جس سے اس مقدمے کی اصابت پر مزید سوال بھی اُٹھنے لگے ہیں،لیکن سزا یافتگان بہرحال سزا کاٹ رہے ہیں،ایسے ہی واقعات کی وجہ سے احتساب کے متعلق سیاسی انجینئرنگ کا گمان گزرتا ہے،اِس لئے اگر اس تاثر کو زائل کرناہے تو فطری انصاف کے تقاضے پورے کرنا ہوں گے،اور انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے۔اگرا یسا نہ ہو اور یہ شبہ ہو جائے کہ انصاف دینے والوں کا تو اپنا دامن صاف نہیں ہے،تو ایسے انصاف پر کون یقین کرے گا، اِس لئے ان عدالتوں کے جج صاحبان، جنہیں حال ہی میں واٹس اَپ کے ذریعے ہٹایا گیا ہے ان کے دامن پر لگنے والے دھبے صاف کرنے کی ضرورت ہے۔

جس قسم کی باتیں فاضل چیف جسٹس نے نپے تلے انداز میں کہی ہیں سیاست دان اپنے انداز میں ایسی باتیں ذرا کھل کر کرتے رہتے ہیں۔ چیف جسٹس چونکہ سیاست دان نہیں ہیں اِس لئے رکھ رکھاؤ کے انداز میں کہی گئی،اُن کی باتوں کو بھی ”ڈی کوڈ“ کیا جائے تو مطلب وہی نکلتا ہے جو سیاست دانوں کی باتوں سے اخذ کیا جاتا ہے، سیاست دان عموماً اِس بات کے شاکی رہتے ہیں کہ اُن کا احتساب یک طرفہ ہو رہا ہے اور اس احتساب سے سیاسی انتقام کی بو آتی ہے،پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جو سیاست دان کسی نہ کسی طرح حکومت کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں وہ مقدمات سے بچ جاتے ہیں۔2018ء کے الیکشن سے پہلے جو لوگ جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہوئے وہ احتساب سے بچ گئے،اگر وہ ایسا نہ کرتے تو شاید وہ بھی اس وقت احتساب کے شکنجے میں کسے جا رہے ہوتے،ان حضرات میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو وزیر ایسے ہیں جن کے متعلق طرح طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں،لیکن وہ چونکہ حکومت کا حصہ ہیں اور ”جنوبی پنجاب کی آواز“اِس لئے احتساب کی کوئی شعاع ان کی طرف نہیں پڑتی۔

الیکٹرانک میڈیا پر احتساب کے بارے میں یکطرفہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اور مخالف سیاست دانوں کے بارے میں کہانیاں رنگ آمیزی کر کے بیان کی جاتی ہیں اور اگر کوئی سیاست دان اپنے موقف کی وضاحت کے لئے کسی چینل پر اپنا انٹرویو یا بیان ریکارڈ کراتا ہے تو اسے ”کِل“ کر دیا جاتا ہے، کئی سیاست دانوں کے انٹرویو میڈیا پر آن ایئر نہیں جا سکے کہ یہ مجرم ہیں، جبکہ اس کے مقابل میں دوسرے ”مجرموں“ کی سرگرمیوں کو نشر کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں بہت سی قابل ِ غور و فکر باتیں کی ہیں اور اگر ان پر غیر جانبداری سے عمل کیا جائے تو جمہوریت کی بہت بڑی خدمت ہو گی،چونکہ یہ باتیں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ کی طرف سے کہی گئی ہیں اِس لئے توقع ہے کہ اُن کے آنے والے فیصلوں میں ان باتوں کا عکس بھی نظر آئے گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...