پولیس کلچرکی تبدیلی، مگر کیسے؟

پولیس کلچرکی تبدیلی، مگر کیسے؟

  



وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پھر کہا کہ حکومت پولیس کلچر تبدیل کرے گی،انہوں نے حال ہی میں پولیس حراست میں ہونے والی اموات اور لیڈی کانسٹیبل کے وکیل کے ساتھ تنازعہ کا بھی نوٹس لیاہے، اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی ہے کہ انصاف کیا جائے،پولیس کلچر تبدیل کرنے کا اعلان بار بار ہوا،بلکہ ابتدا میں تو خیبرپختونخوا کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس کو بُلا کر فرائض بھی سونپے گئے،لیکن اب تک اصلاح کے لئے کچھ بھی نہیں ہو سکا،خیبرپختونخوا کے سابق آئی جی بھی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ حال میں ہر ہفتے کے دوران ایک سے زیادہ پولیس کی دست درازی کے واقعات منظر عام پر آنے لگے اور کئی اموات ہوئیں،اس پر عوام کی طرف سے زبردست احتجاج ہوا جو جاری ہے تاہم ابھی تک اصلاح احوال کی کوئی کوشش نہیں ہوئی،وزیراعلیٰ کا فرمایا بھی بیان تک محدود ہے۔دوسری طرف صوبائی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل ہیں ان کے مطابق72 برسوں کے بگڑے نظام کو ایک روز میں تو درست نہیں کیا جا سکتا،حالانکہ ان کی حکومت کو ایک روز نہیں ایک برس سے زیادہ ہو گیا۔ کیا بہتّر برس کا بگڑا نظام اب ٹھیک ہونے میں بھی اتنے ہی برس لے گا؟ کیونکہ ابھی تک اس کی اصلاح کے لئے کوئی ٹھوس عمل سامنے نہیں آیا،بلکہ پولیس کے ناروا سلوک کے حوالے سے کوئی مثبت کارروائی بھی سامنے نہیں لائی گئی۔ملک میں قانون اور قواعد موجود ہیں،پولیس کے لئے بھی قانون اور قاعدے ہیں جن کے تحت سزا اور جزا کا عمل ہو سکتا ہے،اگر پولیس کے اعلیٰ حکام اپنے محکمانہ قواعد اور طریق کار سے بھی کام لیں تو اصلاح کی صورت بن سکتی ہے،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس طرف توجہ نہیں دی جا رہی۔ اگر ایسا ہوتا تو پولیس والوں کو سزا اور جزا کا بھی علم ہوتا اور وہ اصلاح پکڑتے،لیکن ایسا محسوس ہوتاہے کہ کلچر تبدیل کرنے کے صرف زبانی دعوے ہیں، کوئی سنجیدہ کوشش نہیں، بہتر ہو گا کہ خود پولیس کے اعلیٰ حکام اپنے قانونی اختیارات کے ذریعے ہی اصلاح احوال کی کوشش شروع کر دیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...