مادرِ جمہوریت کا مقدمہ (2)

مادرِ جمہوریت کا مقدمہ (2)
مادرِ جمہوریت کا مقدمہ (2)

  

یہ سب حیران کن تھا۔ خصوصاً یہ سوچ کر اور بھی زیادہ کہ سیاسی اکابرین بیگم کلثوم کے جسدِ خاکی والی ایمبولینس اور میاں صاحب اور ان کے ساتھ آئی اہل ِ خانہ کی گاڑیوں سے بہت پیچھے، نمازِ جنازہ کی ادائیگی سے کافی پہلے سے صفیں بنائے کھڑے تھے اور مابین، فرطِ جذبات سے معمور اور مغلوب ایک ایسا ا ژد ھام کہ کھڑے ہونے، حتیٰ کہ سنبھلنے کہ نہ جگہ، نہ امکان…… اور سیاسی کارکنان اقربا“ اکابرین اور میڈیاکے لئے مخصو ص جناز گاہ کے قطعے اور مجمعے کو الگ کرنے والے جنگلے کے پیچھے تھے…… ”مادرِ جمہوریت…… الوداع! الوداع!!،، کے جذبات اور احساسات سے لبریز الفاظ کی دل پگھلا دینے اور آنسو چھلکا دینے والی پر سوز لے میں، کورس میں ادائیگی…… یہ سب وہ ”عام“ انسان کر رہے تھے کہ جن کی وہاں آمد اور موجودگی کا واحد مقصد ایصالِ ثواب اور دعا تھا، جو صرف بیگم صاحبہ کو الوداعی سلامِ عقیدت پیش کرنے آئے تھے اور جن کا محترمہ سے صرف احساس کا رشتہ تھا……

نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد ایمبولینس کے گرد ہاتھوں کی زنجیر بنوا کر چلتے ہوئے اس سب کا مشاہدہ ایک مسحور کن جذباتی تجربہ تھا۔ کلثوم نواز صاحبہ بھی یقیناً سوئے منتہا اپنے سفر کے دوران یا پھر لامکاں کی کسی کھڑکی سے اپنے لبوں پر شفقت بھری مسکراہٹ سجائے یہ منظر خود بھی دیکھ رہی ہوں گی…… اور پروقار تفاخر اور محبت بھری نظروں سے اپنے باؤ جی کو بھی دیکھ رہی ہوں گی…… کہ یہ عوام کے دلوں میں میاں نواز شریف کی محبت اور ان کو اور ان کی بیٹی کو پہنچائے گئے ایذا اور دُکھ کے احساس کی رو ہی تھی،جو انسانوں کے بے کراں سمندر میں جذبات کا طلاتم پیدا کئے ہوئے تھی۔ محترمہ کلثوم نواز صاحبہ کی نمازِ جنازہ کے حوالے سے ایک مشاہدہ یہاں تحریر میں لانا ضروری سمجھتا ہوں …… جسدِ خاکی جنا زہ گاہ تک اور تدفین کے مقام تک جس ایمبولینس میں، جس راستے سے لے کر جانا تھا، حتمی طور پر دیکھنے کے لئے…… عطا تارڑ ،کرنل مبشرصاحب اور راقم اس ایمبولینس میں تدفین کے مقام تک کا چکر لگا کر 4 بج کر 30 منٹ پر واپس شریف میڈیکل سٹی پہنچے تھے۔جب یہ دیکھنے کے لئے کہ ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لئے جوانتظام کیا گیا تھاوہ کس قدر مؤثر ہے ہسپتال کی عمارت کی طرف سے جناز ہ گاہ کے میدان میں داخل ہوئے، 4 بج کر 40 منٹ تک جناز گاہ کے میدان میں تین صفیں بھی پوری نہیں تھیں۔ ہم جنگلے کے دوسری طرف جہاں جسدِ خاکی لایا جانا تھا، وہاں کو آئے اور یہ بات کر ہی رہے تھے کہ ایمبولینس کا راستہ جتنا ”کلیئر“ کیا جا سکتا، کرنے کی کوشش کی جائے…… 5 منٹ بعد ہی اطلاع موصول ہوئی کہ میاں صاحب جسد خاکی کے ساتھ جنازہ گاہ کی طرف روانہ ہونے لگے ہیں۔ نظر بار بار میدان کی طرف جا رہی تھی…… کہ کتنی صفیں ہو گئیں …… لیکن مایوسی محسوس ہو رہی تھی کہ ابھی تک بس تین چار صفیں؟سا تھ ہی ذہن میں میاں صاحب کے الفاظ بھی گونج رہے تھے کہ جب وہ پچھلے ہی روز انتظامات کا جائزہ لینے اس میدان میں آئے تھے اور مسئلہ درپیش تھا کہ امام کی جگہ کہاں رکھی جائے…… تو میاں صاحب نے میدان کے چاروں طرف شیر کی سی نظر دوڑا کرفیصلہ سنایا تھا کہ ”یہ جگہ چھوٹی پڑ جائے گی……

پوری جگہ آخرتک استعمال کریں!،، احتیاطی طور پر صفوں کے لئے سفید چونے کی لکیریں پھر بھی ایسے کھنچوائی گئی تھیں کہ اگر ایک طرف جگہ خالی رہ بھی جائے تو نظرکو نہ کھٹکے۔ خیر 4بج کر 45 منٹ کے بعد جسدِ خاکی اور میاں صاحب کے پہنچنے اور نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعدتک مجمع میں سے ایمبولینس کی راہ بنانے کی جدوجہد میں سارا وقت یوں گزر اتھا کہ مجمع کتنا ہو پایا، دیکھنے کا ہوش نہیں تھا…… لیکن ذہن پرمسلسل یہ بات طاری رہی کہ بڑا مجمع اکٹھا نہیں ہو سکا…… دراصل نہ جانے کس کی کوتاہی سے ایمبولینس اور فیملی کی گاڑیاں غلط طرف سے میدان کے اگلے احاطے میں داخل کرا دی گئی تھیں جس سے کچھ بد نظمی ہو گئی تھی…… لہٰذا نماز کی ادائیگی سے ایمبولینس کے جناز ہ گاہ سے نکلنے تک کا وقت ہوش ربا تھا۔نمازِ جنازہ ادا ہو گئی…… ذہن پریہ بات، لیکن حاوی رہی کہ جتنا سوچا تھا، جتنا میاں صاحب توقع کر رہے تھے، بڑا جنازہ نہ ہو پایا…… یہ بات بھی ذہن میں پھر رہی تھی کہ میاں صاحب کیا سوچ رہے ہوں گے…… لاہوریوں سے بہت مایوس ہوئے ہوں گے…… میاں صاحب اور جسدِ خاکی والی ایمبولینس جب شریف میڈیکل سٹی سے باہر نکل لئے…… توہوش تب ہی سنبھلاتھا…… تب فون دیکھا…… جنازہ کی ادائیگی کی ”واٹس آپ،، پر آئی تصاویر اور ”ویڈیو کلپس،، نظرکے سامنے آئے تو اپنی نظروں پر یقین نہ آیاتھا…… انتہائی حیرت انگیز تھے یہ مناظر…… اور سوچتا ہی رہ گیاتھا آج بھی سوچتا ہوں …… لوگوں کو بتاتا بھی ہوں …… کہ رب جانے کیسے 15 سے 20 منٹ میں تا حدِ نگاہ مجمع سج گیا! رب کی شان!!! ”مادرِ جمہوریت……

الوداع! الوداع!!،، …… دیکھا جائے توان چار الفاط میں آئین شکن مشرف اور مشرف آمریت کے خلاف محترمہ کلثوم نواز کی جدوجہد اور اسی سبب سے ڈکٹیٹرمشرف سے جمہوریت پسند عوام کی نفرت اور میاں نواز شریف اور کلثوم صاحبہ سے بے مثال محبت کی ساری کہانی بھی سموئی ہوئی نظر آئے گی۔

جمہوریت سے محبت حریت پسند پاکستانی عوام کے خمیر میں ہے۔ استبداد کا بوجھ لاد کر مجبور تو کیا جاسکتا، لیکن خمیر نہیں بدلا جا سکتا۔ یہی سبب ہے کہ آمروں کا خمار جب ٹوٹتا ہے تو ان کو پتہ چلتاہے کہ زمین پر خدا بنے بیٹھے آمر کے لگائے آئین شکنی کے سرد خانے کے پی سی او چیمبر میں گو کہ آئین حالتِ انجماد میں رکھا گیاتھا، لیکن اس کی آمریت کے سرد خانے کے فرش تلے بچھی خاک کے ذرے ذرے میں جمہوریت کی چنگاری ہر آن سلگتی رہی تھی…… اور عین اس وقت کہ آمر کا خمار اس کے سر کو چڑھا، پھلجھڑی کی لَو سی بظاہر بے ضرر جمہوریت کی چنگاریاں یوں بھڑکیں کہ آمر کا خمار اترا تو اس نے اپنی آنکھوں سے آمریت کا سرد خانہ خاکستر ہونے کا نظارہ کیا……بیگم کلثوم نے جس کی آمریت کے بت پر ضربیں لگائی تھی، وہ اپنی نا مرادیوں کے غم غلط کرنے کے لئے دیارِ غیر میں ”مخمور“ ناچتا پھرتارہا ہے…… محترمہ کلثوم نواز ایک visionary خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پختہ ایمان کی بدولت وہ فراست ودیعت کی تھی کہ جو ایک مومن کا خاصہ ہوتی ہے۔ مشرف آمریت نے ملکی حا لات پر جو اثر چھوڑا اس کے بعد سے قرائن یہی بتاتے اور جو کچھ حالیہ برسوں میں ایک سراپا زحمت بابارحمتے کو کرنا پڑا وہ سب دیکھ کربھی امید کی جاتی ہے کہ بیگم کلثوم کی یہ بات بھی کہ ”مشرف کا مارشل لاء آخری فوجی مارشل لاء ثابت ہو گا،، ان شاء اللہ سچ ثابت ہو گئی۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -