کیا ”کشمیر“ یوں ہی جلتا رہے گا

کیا ”کشمیر“ یوں ہی جلتا رہے گا
کیا ”کشمیر“ یوں ہی جلتا رہے گا

  


اس ظلم و وحشت کے عمل کے دوران کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے۔ آمد و رفت کے ذرائع معطل ہیں، کاروبار بند ہیں دنیا سے اور کشمیر کے اندر آپس میں بھی مواصلاتی رابطہ منقطع کردیا گیا ہے۔ کسی کوکشمیریوں کی تکلیفوں کی خبر نہیں ہونے دی جارہی۔ 38دن تک بغیر سبزی، پھل اور دودھ کے وہاں کے باسی کیسے گزارا کر رہے ہیں؟ یہ بھی علم نہیں کہ بچوں کی خوراک کا کیا بندوبست ہے؟ مریضوں کو علاج معالجہ کیسے بہم پہنچایا جا رہا ہے؟ اور تو اور جمعہ کی نماز جو مذہبی فریضہ ہے وہاں کے مسلمانوں کو وہ بھی ادا نہیں کرنے دی جا رہی۔ یوم عاشور پر عزادار جلوس بھی نہیں نکال سکے۔

یہ مظلوم کشمیری کب تک گھروں میں محصور رہیں گے؟ اگر وہ ضروریات کے لئے باہر نکلتے ہیں یا احتجاج کرتے ہیں کہ ہمیں کھانے پینے کی چیزیں مہیا کی جائیں اور اپنوں سے رابطہ کے ذرائع مہیا کئے جائیں، یہاں پر غریب مزدور اور مڈل کلاس جو بڑی تعداد میں ان کے ذرائع معاش کو بند نہ کیا جائے، لیکن جواب میں ان کو پیلٹ گن کی گولیاں ملتی ہیں۔ بچوں، بوڑھوں اور عورتوں سب کو بلا تمیز گولیاں مار کرچھلنی کیا جاتا ہے۔ ایک طرف تو ظلم اور بربریت انتہا تک پہنچا دی گئی ہے اور دوسری طرف کشمیر کی آزادی کے مسئلہ کو مذہبی مسئلہ بنا کر ہندو پنڈتوں کی آباد کاری کو ہوا دی جارہی ہے۔ جموں اور کشمیر کو اکٹھا کر کے ہندوؤں کو بلوؤں پر اکسایا جا رہا ہے اور اس کے لئے آر ایس ایس کو آرگنائز کیا جا رہا ہے لیکن کیا یہ کشمیریوں کی اکثریت کی آواز کو دبا سکے گی؟ ہر گز نہیں، یہ چنگاری اب شعلہ بن چکی ہے اور راستے میں آنے والی ہر شے کو راکھ کر دے گی۔

ایک طرف اس وقت دنیا بھر کے کشمیری منظم ہوکر اپنے بھائیوں کے لئے دنیا میں ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں جس میں ان کو پاکستانی بھائیوں اور ہندوستان کے سکھوں کی مقامی تعداد کی حمایت حاصل ہے۔ سکھوں کو بھی اس بات کا ادراک ہو چکا ہے کہ ہندو اکثریت کے ساتھ شامل ہو کر نہ صرف ان کی انفرادیت کھو گئی ہے بلکہ وہ اپنے حقوق بھی صحیح طور پر حاصل نہیں کرسکے۔ اس وقت ضرورت اسی امر کی ہے کہ حکومت پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی حمایت کرے اور ہندوستان کی وحشت کی دستاویزی ثبوت زیادہ سے زیادہ سوشل میڈیا پر دکھائے جائیں۔ جب تک حکومت پاکستان حقیقت کو مدنظر رکھ کر 1948ء کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کو زندہ نہیں کرواتی،

دنیا کے سامنے یہ مسئلہ صحیح طور پر نہیں اٹھے گا۔ ہماری سفارتی ٹیم کو اقوام متحدہ کے ریزولیوشن مختلف ملکوں میں وفود بھیج کر زندہ کرنے کا عمل کیا جائے اور ان ممالک کے سیاست دانوں، سفارت کاروں اور فوج کو یہ باور کرایا جائے کہ اگر آپ لوگوں نے مظلوموں کے حقوق نہ دلوائے تو یہ فلسطین نہیں کہ خاموش رہیں، تمام دنیا اس آگ میں جل جائے گی کیونکہ اس مسئلہ میں دنیا کی دو ایٹمی قوتیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ قراردادوں میں تو دونوں حکومتوں نے یہ قبول کیا تھا کہ جموں کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے گی اور وہاں کے باسیوں کو حق دیا جائے گاکہ وہ کس کے ساتھ ملتے ہیں۔ پاکستانی سیاستدانوں اور سفارت کاروں کو بجائے اس کے کہ بار بار زور دیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان، اس بات پر دنیا کو لائیں کہ وہ قراردادوں پر عمل کروائیں اور غیر جانبدار رائے شماری کروائیں اور کشمیروں کو اس بات کا حق دیں کہ وہ کس کے ساتھ ملتے ہیں۔

ہندوستان سے تنگ کشمیری کبھی ہندوستان کے ساتھ نہیں ملے گا۔ اس لئے حکومت وقت کو اپنا طریق کار ذرا بدلنا ہوگا۔ دنیا میں بھیجے جانے والے وفود میں بجائے پاکستانی لیڈروں کے آزاد کشمیر کے پڑھے لکھے لوگ جو اس بات کاادراک رکھتے ہیں ان کو وفود میں شامل کرکے ان کو وفد کا لیڈر بنایا جائے۔ پاکستانی نمائندے مددگار کے طور پر شامل ہوں۔ اگر ہم نے تاریخ سے سبق نہ سیکھا تو پھر یہ مسئلہ مزید لٹک جائے گا۔ یہ آخری موقع ہے جب کشمیر کے مسئلہ کی طرف توجہ دی جارہی ہے میں نے چند دن پہلے مجیب الرحمن شامی صاحب کا ایک ٹی وی پروگرام میں قرارداد کشمیر کی منظوری اور پاکستان کے مقدمہ پر پروگرام دیکھا۔ جس میں انہوں نے سر ظفر اللہ خان اور ان کے ساتھیوں کی کارکردگی کو سراہا۔ ضرورت اس امر کی ہے ان جیسے دلیر صحافیوں کو آگے لایا جائے جو حقیقت کو چھپانے کی بجائے دنیا کوسچ بتائیں کیونکہ اگر ہمارا نقطہ نظر قرارددوں کے برخلاف ہوگا تو دنیا ہمیں جھوٹا سمجھے گی۔

اس سلسلہ میں آج میں خورشید حسن خورشید مرحوم (کے ایچ خورشید) سیکرٹری قائداعظم محمد علی جناح جو صدر آزاد کشمیر کے عہدہ پر فائز رہے کا وہ نظریہ پیش کرتا ہوں اگر اس وقت کے پاکستان کے حکمران عمل کرلیتے تو کشمیر آج آزاد ہوتا۔ ان کا یہ نظریہ کہ پہلے کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان دونوں سے خالی کروا کر غیر جانبدار حکومت کے ذریعہ رائے شماری کروائی جائے۔ اس عبوری حکومت کے دور میں دونوں اطراف کو اجازت ہوتی کہ وہ اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرسکتے۔ میں نے بچپن سے کالج تک کے ایچ خورشید مرحوم کے کردار کو غور سے دیکھا ہے۔ وہ شخص جو صدر رہا ہو اور وفات کے وقت ایک عام بس پر سفر کرکے شہید ہو، ان کی جیب میں چند روپے تھے نہ ان کے پاس جائیداد نہ دولت تھی وہ محنت کرکے کمانے والے تھے۔ کشمیریوں کا درد ان کے دل میں تھا وہ اپنا وطن کشمیر چھوڑ کر پاکستان آئے تھے آزادی کی ان کے دل میں تڑپ تھی۔ آج کے اس دور میں جبکہ ہر کشمیری پاکستان کے ساتھ ملنے کے لئے تیار ہے حکومت پاکستان کو بجائے ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کی بجائے رائے شماری کی راہ ہموار کرنے کا کام کرنا ہے۔ لوگوں میں جو نفرت کی آگ ہندوستان کے خلاف جل چکی ہے وہ اپنا کام خود کرے گی۔ صدر آزاد کشمیر، وزیراعظم پاکستان تحریک انصاف اور مسلم کانفرنس آزادکشمیر کے تمام لیڈروں کے مل بیٹھ کر ایک ایجنڈا بنانا ہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ ہمیں آج کوشش کرنی ہے کہ ہم لوگ اپنی زندگیوں میں کشمیر کی ہندوستان سے آزادی کے خواب کو عملی جامہ بناسکیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...