حج 2019ء ایک نظر میں (1)

حج 2019ء ایک نظر میں (1)
 حج 2019ء ایک نظر میں (1)

  


15ستمبر کو پوسٹ حج اپریشن کا مرحلہ مکمل ہو رہا ہے۔اس سال دو لاکھ افراد نے فریضہ حج ادا کیا ایک لاکھ17ہزار کے قریب سرکاری حج سکیم جبکہ بقیہ پرائیویٹ سکیم میں شامل تھے، مجموعی لحاظ سے کامیاب حج اپریشن قرار دیا گیا ہے، مَیں بھی اس سے اتفاق کرتا ہوں حج سے واپسی پر حج2019ء ایک نظر میں کالم لکھنے کا خواہش مند تھا، تیاری بھی تھی مصروفیت آڑے آئی دوسرا ہمارے احباب کے خطوط کے مثبت تنقید کے ساتھ سارے کے سارے اصلاح کے پہلو لئے ہوئے آتے رہے، کسی فرد کو تنقید کا نشانہ بنانا مقصود نہیں۔ البتہ میرے سمیت ہر فرد اپنے گریبان میں جھانک کر خود احتسابی کا پل صراط ضرور پار کر سکتا ہے، اس لحاظ سے حج2019ء منفرد رہا۔

مشیر وزیراعظم، وفاقی وزیر مذہبی امور، وفاقی سیکرٹری کے درمیان بظاہر سرد جنگ جاری رہی، مگر عملی طور پر مجاملہ ویزوں اور سروس سٹیکرز کے سمندر میں خوب غوطے لگاتے رہے،پورے پورے خاندان بعض احباب دوستیاں بھی نبھانے میں کامیاب رہے۔سرکاری خرچ پر بیس بیس افراد فریضہ حج ادا کرنے میں کامیاب رہے، عموماً بلوچستان خیبرپختونخوا ہوپ کے حوالے سے پنجاب والے تحفظات کا اظہار کرتے چلے آ رہے،اس سال پنجاب ہوپ کا سروس سٹیکر کے حوالے سے بھی میرٹ شاندار رہا، کسی کو گلہ نہیں کرنا چاہئے، اپنے اپنے سٹاف کے دو دو تین تین افراد کو ہی خدمت کے لئے پیش کیا ہے۔

سرکاری حج سکیم اور پرائیویٹ حج سکیم دونوں اس سال نسبتاً بہتر رہیں۔ سرکاری حج سکیم کے حوالے سے دو مکاتب کے حوالے سے شدید شکایات سامنے آئیں جن پر وفاقی وزیر اور وفاقی سیکرٹری کی ٹیم نے موقع پر ازالہ کرنے کے لئے انتہائی اقدام اٹھایا،دونوں مکاتب کو بلیک لسٹ کروایا اور حجاج کرام کو متبادل بھی فراہم کرنے میں کامیاب رہے، مجموعی لحاظ سے اگر حج2019ء سرکاری سکیم کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے وزارت مذہبی امور اپنے بھرپور وسائل جو اسلام آباد سمیت ملک بھر میں حج ڈائریکٹوریٹ کی صورت میں موجود ہیں کے ساتھ جدہ، مکہ، مدینہ میں موجود وسائل اور افرادی قوت کے ساتھ میدان میں رہے۔

وزارت مذہبی امور اس لحاظ سے خوش قسمت ہے انہیں آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں حکیم اللہ خٹک اور جمیل الرحمن جیسے محنتی اور ایماندار افسر میسر ہیں جو دریا کو کوزے میں بند کرنے کا فن جانتے ہیں،انہوں نے آئی ٹی کا مشکل ٹاسک بھی آسانی سے حاصل کیا۔

حج2019ء اس لحاظ سے بھی انفرادیت کا حامل رہا، وزارت مذہبی امور میں اندرونی خلفشار ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے وفاقی سیکرٹری سے قربت کو بنیاد بنا کر مخالفین کو نیچا دکھانے کا عمل بھی جاری رہا۔ وزارت مذہبی امور کے بعض ذمہ داران کی طرف سے پرائیویٹ حج سکیم سے اللہ واسطے کا بیر بھی دیکھنے کو ملا۔ پرائیویٹ حج سکیم کا بھی عجیب المیہ ہے، بڑے بڑے افسر تحفظات کا اظہار بھی کرتے ہیں، حج آرگنائزر کو ڈاکو بھی قرار دیتے ہیں اور حج کمپنی حاصل کرنے کی دوڑ میں بھی کسی نہ کسی انداز میں شامل رہتے ہیں۔

دلچسپ عمل ہے بہت سی باتیں پورے ملک کو پتہ ہوتی ہیں لیکن ہمارے وزارت مذہبی امور کے افسر اس سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔بات دوسری طرف نکل گئی، بات ہو رہی تھی سرکاری حج سکیم کو مثالی بنانے کی، پورے وسائل کے ساتھ وزارت نے کوشش کی، پرائیویٹ حج سکیم کا کوٹہ بھی سرکاری سکیم میں شامل کیا،جس کی وجہ سے سرکاری حج سکیم کے حج فارم فروخت ہونے کی گونج بھی سنائی دیتی رہی۔مجاملہ ویزہ کا ڈنکا بھی خوب بجا، وزارت مذہبی امور کو باقاعدہ اشتہار دے کر لاتعلقی کا اعلان کرنا پڑا،اس کے باوجود مجاملہ نے اس سال خوب نام کمایا۔

امید کی جا سکتی ہے اس سال کی تاریخی خواری کے بعد مجاملہ کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہو گی،ساری دوڑ دھوپ سرکاری حج سکیم کے عازمین کو اکاموڈیٹ کرنے اور ان کی35دن کی مصروفیت پر رہیں،35دن میں حاجی نے مکہ اور مدینہ میں رہنا ہوتا ہے، مکہ مکرمہ میں سالہا سال سے عزیزیہ میں عمارتیں حاصل کی جا رہی تھیں بھتہ قریش یا دیگر علاقوں میں اچھی عمارتیں حاصل کرنا ڈی جی حج ڈاکٹر ساجد یوسفانی اور سید امتیاز شاہ ڈائریکٹر حج کا اعزاز ہے، حرم جانے کے لئے دو بسوں میں جانا بڑی آزمائش سے کم نہیں ہے، شٹل بس جتنی مرضی مثالی ہو جائے 9سے 10کلو میٹر میں دو بسوں میں سوار ہو کر حرم شریف میں روزانہ 5نمازیں پڑھنا آسان نہیں۔

بات ہو رہی تھی سرکاری حج سکیم کے مثالی ہونے کی، اس میں کوئی دو رائے نہیں، سرکاری حج سکیم کے حاجیوں کی35دن کی مصروفیت کو مثالی بنانے میں 90فیصد تک کامیاب رہے ہیں۔ دراصل حج پانچ دن کا نام ہے گزشتہ دس سال سے مَیں بڑے قریب سے حج کی کوریج کر رہا ہوں۔ وکیل احمد خان سے میاں مشتاق تک تمام سیکرٹری صرف حاجی کے35دن رہے ہیں، پانچ دن کی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔ ڈاکٹر ساجد یوسفانی کی شخصیت بھی سحر انگیز ہے اس سال بڑے پُرامید تھے کہ ہمارا حج مثالی رہے گا، پانچ دن کی منصوبہ بندی اس انداز میں نہ کر سکے جس انداز میں کی جانی چاہئے تھی۔

کیا وفاقی وزیر مذہبی امور، مشیر وزیراعظم، وفاقی سیکرٹری مذہبی امور کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ سعودی وزارت الحج منیٰ میں جگہ کی کمی کی وجہ سے مرحلہ وار بنکر بیڈ کی طرف جا رہی ہے کیا گزشتہ سال بنکر بیڈ نہیں لگائے گئے تھے کیا بنکر بیڈ کے حوالے سے تربیتی پروگرام میں آگاہی شامل نہیں کی جانی چاہئے تھی، کیا بنکر بیڈ کے حوالے سے ڈی جی حج، ڈائریکٹر اور وفاقی سیکرٹری لاعلم تھے۔

یقینا نہیں تھے،پھر کون سی وجوہات تھیں کہ منیٰ میں ہر سال پیدا ہونے والے مسائل کی طرف توجہ نہیں دی گئی،کھانے کے حوالے سے شکایات گزشتہ سال بھی آئیں، پھر اس کی طرف توجہ کیوں نہیں دی گئی۔ انڈین پیک باسی کھانا کمپنیوں نے کیسے تقسیم کیا، تحقیقات ہونا چاہئے۔

کوشش تھی کالم کی دو قسطیں نہ کرنا پڑیں مگر مجبوری ہے سرکاری حج سکیم کی کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والے ذمہ داران کی پرائیویٹ حج سکیم کو سبوتاژ کرنے کی سازش کو بھی بے نقاب کرنا ہے۔ حج2019ء اس لحاظ سے بھی انفرادیت کا حامل ہے، بڑے چھوٹے حج اپریشن سے پہلے اور بعد میں ایک دوسرے کے خلاف ریکارڈ جمع کرتے ہی پائے گئے۔حج ایک مقدس فریضہ ہے حج میں دو نمبری کرنے والا کبھی کامیاب نہیں رہا۔ گزشتہ تین حکومتیں اس لحاظ سے تاریخ کی حامل ہیں۔

(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم


loading...