58ممالک کا وادی میں بھارتی اقدامات کی مذمت کرنا کشمیریوں کی قربانیوں کا ثمر: فاروق حیدر

58ممالک کا وادی میں بھارتی اقدامات کی مذمت کرنا کشمیریوں کی قربانیوں کا ثمر: ...

اسلام آباد (این این آئی)آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ محمدفاروق حیدر خان سے چیئرمین کشمیر کمیٹی سیدفخرامام نے جموں کشمیر ہاؤس میں ملاقات کی۔دونوں رہنماؤں کا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے مشترکہ اعلامیہ کا خیر مقدم کیا۔اس موقع پر وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ کشمیریوں کی لا زوال قربانیوں اور پاکستان کے اصولی موقف کا ثمر ہے کہ بین الاقوامی برادری بھارت سے جارحانہ اقدامات واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے غیر معینہ مدت تک کے کرفیو نے کشمیری عوام کی زندگیوں کو جہنم بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے غاصبانہ اور جارحانہ رویے کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بڑا انسانی المیہ پنپ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے کشمیری عوام کی سیاسی،اخلاقی اور سفارتی حمایت سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کشمیر کے مسئلے پر ردعمل ظاہر کر رہی ہے 58 ممالک کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے اندر ہندوستانی اقدامات کی مذمت کشمیریوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔انہوں نے کہا کہ دورہ امریکہ اور برطانیہ کے دوران مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے دوران محسوس کیا کہ عالمی برادری کشمیریوں کی آواز کو سنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کو اپنے بوٹوں تلے روند دیا ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ پاکستان کے جیینوا میں پانچ نکاتی مطالبات حق پر مبنی ھیں جنکی پوری مہذب دنیا کی طرف سے بھر پور تائید ھو نی چاہیئے۔اس موقع پر چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے کہا کہ پاکستانی قوم حکومت اپوزیشن سب کشمیر کے معاملے پر ایک اور اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے دورہ مظفرآباد سے ایل او سی کے اس پار انتہائی مثبت پیغام جائیگا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے قومی اصولی موقف پر پوری قوم متفق ہے۔انہوں نے کہا کہ کرفیو کو 39 دن ہو گئے مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ لوگوں کے متعلق اچھی خبریں نہیں آ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا جلسہ سیاسی نہیں خالصتا یکجہتی کے لیے ہے۔

فاروق حیدر

مزید : صفحہ آخر


loading...