باری لینے والوں نے ایک دوسرے پر کرپشن کے کیس بنائے،اسلم اقبال

     باری لینے والوں نے ایک دوسرے پر کرپشن کے کیس بنائے،اسلم اقبال

لاہور(فلم رپورٹر)صوبائی وزیراطلاعات و ثقافت میاں اسلم اقبال نے کہاہے کہ اپوزیشن احتجاج کرے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ عوام اپوزیشن کے احتجاج سے لاتعلق ہے کیونکہ عوام جانتے ہیں کہ انہی لوگوں کی کرپشن اور منی لانڈرنگ نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسایا اور قومی معیشت کا بیڑہ غرق کیا۔ملک پر باری باری حکومتیں کرنے والی سیاسی جماعتوں نے ہی ایک دوسرے پر کرپشن کے کیسز بنائے ہیں۔جے آئی ٹی کی رپورٹ میں ہر چیز واضح ہے۔صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہارگزشتہ روزفیملی پارک سمن آباد میں شجرکاری مہم کے تحت پودا لگانے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔چیئرمین پی ایچ اے یاسر گیلانی، ڈی جی پی ایچ اے اور علاقے کے لوگ بھی اس موقع پر موجود تھے۔صوبائی وزیر نے کہاکہ سابق حکمرانوں نے لاہور شہر سے درخت کاٹ کر یہاں کنکریٹ کے پہاڑ کھڑے کردیئے۔چاہئے تو یہ تھا کہ انہوں نے جو درخت کاٹے ان کی جگہ نئے درخت لگاتے لیکن ایسا نہیں کیاگیا۔ہماری حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران لاہور میں اب تک ایک لاکھ 25ہزار پودے لگائے ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر شروع کی گئی شجرکاری مہم میں انتظامیہ، عوامی نمائندے اور معاشرے کے تمام طبقات بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کیلئے شجرکاری مہم کے تحت زیادہ سے زیادہ پودے لگائے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ اضلاع کے درمیان شجرکاری کے حوالے سے مقابلے بھی کرائے جائیں گے اور اچھی کارکردگی دکھانے والے اضلاع کو انعامات بھی ملیں گے۔صوبائی وزیر نے کہاکہ بلاول نے مولانا فضل الرحمن سے کنارہ کشی کرکے بہتر فیصلہ کیاہے۔مولانا کا ایجنڈا دوسروں کے کاندھے پر بندوق رکھ کے چلانا ہے۔انہوں نے کہاکہ اکتوبر ابھی بہت دور ہے، اپوزیشن مزید انتشار کا شکار ہوگی۔نواز لیگ بھی ”دیکھو اور انتظار کرو“کی پالیسی پر عمل کررہی ہے۔شریف فیملی احتجاج کی بجائے اپنے بچاؤ میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔

اسلم اقبال

لاہور(فلم رپورٹر)صوبائی وزیرصنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کی زیرصدارت پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کا تیسرا اجلاس گزشتہ روز بورڈ کے دفتر میں منعقد ہوا جس میں فنی تعلیمی بورڈ کے مختلف امور اوربورڈ میں اصلاحات کے حوالے سے مختلف اقدامات کا جائزہ لیاگیا۔صوبائی وزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ فنی تعلیمی بورڈ اپنے معاملات درست کرلے، شفافیت کے علاوہ کچھ نہیں چلے گا۔ ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی بجائے ہر ایک اپنا فرض ادا کرے۔صوبائی وزیر نے بورڈ کا دس سال کا سپیشل آڈٹ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ بورڈ کی فنانس کمیٹی سرمایہ کاری کے امور کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کرے۔ پرائیویٹ ٹیکنیکل کالجوں میں طالب علموں کے استحصال کو روکنے کیلئے میکانیزم بنایاجائے۔بورڈ کی فیس جمع نہ کرانے کی سزا بچوں کا رزلٹ روک کر نہ دی جائے۔ واجبات ادا نہ کرنے والے کالجوں کے طالب علموں کے نتائج کا فوری اعلان کیاجائے۔اگر کوئی ٹیکنیکل کالج بورڈ کے واجبات ادا نہیں کرتا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اصلاحات کا جائزہ

مزید : صفحہ آخر


loading...