مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے: دفتر خارجہ 

    مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے: دفتر خارجہ 

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) دفتر خا رجہ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کو ان کے حقوق عالمی قوانین کے تحت ملنے چاہئیں اور عالمی برادری پاکستان کے موقف سے متفق نظر آرہی ہے،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج نے تین مزید کشمیری شہید کر دیئے، مقبوضہ کشمیر میں ذرائع مواصلات بالکل بند ہیں اور حالیہ بھارتی مظالم چالیسویں روز میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت مذاکرات پر کئی ملکوں نے ثالثی کی پیشکش کی ہے لیکن بھارت مذاکرات پر راضی نہیں ہے جبکہ بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں زرائع مواصلات کھولنے، کشمیری قیادت کی رہائی، کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہیں،ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے  جمعرات کے روز ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں عالمی قوانین کا احترام کیا جائے‘ عالمی تنظیموں کو مقبوضہ وادی کے دورے کی اجازت دی جائے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی  میں  مواصلاتی نظام مکمل طور پر معطل ہے اور مواصلاتی  نظام بند ہونے سے کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ  وادی میں بھارتی فوج نے تین نہتے کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیو پر تشویش ہے مقبوضہ وادی کی صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے جبکہ انسانی حقوق کمیشن اجلاس میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ مقبوضہ وادی میں پیلٹ گنز سے شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بھارتی مظالم سے مقبوضہ کشمیر میں شہداء کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ خوراک‘ ادویات اور بنیادی ضرورت زندگی کی شدید قلت ہے۔  ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ وزیر خارجہ نے کشمیر کی صورتحال پر عالمی برادری کی توجہ مرکوز کرائی ہے۔ جبکہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات بند ہونے  پر افسوس ہے امریکہ اور طالبان  سے کہیں گے کہ مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔ پاکستان فریقین سے ضبط و تحمل سے کام ینے پر زور دیتا ہے امریکہ طالبان مذاکرات معطلی کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل میں کشمیر پر مشترکہ اعلانیہ بڑی کامیابی ہے کشمیر سے متعلق اعلامیہ 58 ممالک کیک طرف سے پیش کیا گیا جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی بیک  ڈور سفارتکاری نہیں ہورہی  ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر سے افغان  مذاکرات کی منسوخی کا علم ہوا۔ پاکستان  چاہتا ہے کہ دونوں فریقین کشیدگی سے دور رہیں اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حقیقت پسندانہ حل تک پہنچیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کسی بھی ایسی پیش رفت کو مسترد کرتا  ہے جس سے فلسطینیوں کے حقوق سلب ہوں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ سعودی عرب نے قیدیوں کی رہائی کے لئے جو اعلان کیا تھا اس پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔  

ڈاکٹر فیصل

مزید : صفحہ اول


loading...