قیدی ایم این ایز کے پروڈکشن آرڈر ز سے متعلق سپییکر آفس حکومتی دباؤ میں ہے 

       قیدی ایم این ایز کے پروڈکشن آرڈر ز سے متعلق سپییکر آفس حکومتی دباؤ میں ...

اسلام آ با د (سٹاف رپورٹر)سابق وزیراعظم اور (ن) لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے نام کھلا خط لکھا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی بالادستی اور تقدس کی خاطر ذمہ داری کے احساس سے کھلا خط لکھا ہے، ہر جگہ اور ہمیشہ کہتا ہوں کہ زیر حراست تمام ایم این ایز کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی ضرورت ہے، لیکن افسوس میری کوششوں کا کوئی اثر نہ ہوا، میں اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہوں کہ آپ کا دفتر حکومت کے دبا ؤ میں ہے کہ قیدی ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کئے جائیں، قیدی ارکان کی ایوان میں حاضری یقینی بنانے کے لئے بروقت اور غیرمتعصبانہ پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی ذمہ داری نبھانے میں آپ کادفتر ناکام ہوا ہے،شاہد خاقان عباسی نے اسد قیصر کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی بالادستی اور تقدس کی خاطر ذمہ داری کے احساس کے ساتھ یہ کھلا خط آپ کے نام ارسال کررہا ہوں، نجی ملاقاتوں، سرکاری گفتگو کے دوران اور ایوان کے اندر انفرادی اور اجتماعی طورپرمیں آپ کے دفتر پر زوردیتا آیا ہوں کہ ان تمام ارکان قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی ضرورت ہے جو جیل یا کسی دیگر حراست میں ہیں،افسوس میری کوششوں کا کوئی اثر نہ ہوا،قومی اسمبلی کے رکن کو پاکستان کے عوام کے منتخب نمائندے کے طورپریہ حق دستوری طورپرتفویض ہوا ہے کہ وہ خود کو حاصل واحد استحقاق کہ وہ اس قابل ہوگا کہ ایوان کی کاروائی میں شریک ہونے کے بنیادی حق کوبروئے کار لائے اور اپنے حلقے کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کوپیش کرے،ایوان کے محافظ کے طورپر سپیکر قومی اسمبلی کی یہ بنیادی اور دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف تمام ارکان کی بغیر کسی رکاوٹ ایوان میں حاضری کو لازمی بنائیں بلک اس امر کو بھی یقینی بنائیں کہ ان کی حاضری کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ حائل ہے، تو اسے بھی دور کریں،انتہائی افسوس کے ساتھ ریکارڈ پر مجھے یہ کہنا پڑرہا ہے کہ قیدی ارکان کی ایوان میں حاضری یقینی بنانے کے لئے بروقت اور غیرمتعصبانہ پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی ذمہ داری نبھانے میں آپ کادفتر ناکام ہوا ہے،اس ضمن میں، میں اپنی مثال آپ کو پیش کررہا ہوں،اس کا مقصد اپنی شکایت پیش کرنا مقصود نہیں بلکہ محض اس معاملے کی وضاحت کرنا ہے کہ آپ کے دفتر نے پروڈکشن آرڈر کے معاملے میں کیا انداز اوررویہ اپنایا۔ قومی اسمبلی کا آخری اجلاس مورخہ 29 جولائی 2019کو بلایاگیا تھاجبکہ میرے پروڈکشن آرڈرز 5 اگست 2019 کو جاری ہوئے۔اسی طرح مشترکہ اجلاس 6 اگست 2019کوبلایاگیاجبکہ میرے پروڈکشن آرڈر ز7 اگست2019کو شروع ہونے والے دوسرے اجلاس کے بعد مجھے موصول ہوئے، میں نے ان دونوں معاملات پر آپ کے دفتر کو خط بھیجا جس کا مجھے جواب نہیں ملا،جمہوریت عمل سے مضبوط ہوتی ہے،محض الفاظ کے اظہار سے نہیں،ایوان کے محافظ ونگہبان کے طورپر سپیکر قومی اسمبلی کے اقدامات کو بذات خود بولنا چاہئے۔ قومی اسمبلی کے قواعد وضوابط اس ضمن میں سپیکر کو مکمل رہنمائی فراہم کرتے ہیں کہ قیدی ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرکے کیسے ایوان کی کاروائی میں ان کی حاضری میں سہولت فراہم کریں،یہ ہدایت نہ تو ارکان کو ایوان کی کاروائی میں حصہ لینے کے ان کے حق سے محروم کرنے کے لئے استعمال ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس اختیار کو امتیازی یا متنازعہ انداز میں استعمال کیاجاسکتا ہے،عوام کے منتخب نمائندوں کے استحقاق اور حقوق سے متعلق امور میں آئین سازوں کے فہم اور پارلیمانی روایت کو رہنما اصول کے طورپر استعمال ہونا چاہئے، میں آپ پر زور دیتا ہوں کہ بلا امتیاز ایوان کے تمام قیدی ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کریں تاکہ وہ ایک حق اور استحقاق کے طورپرایوان کی تمام سرگرمیوں اورامور کار میں حصہ لیں۔دریں اثناء ایل این جی کیس میں احتساب عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مجھ پر الزم لگایا گیا کہ میں وزارت خارجہ کی گاڑی استعمال کرتا ہوں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک کا وزیراعظم تھا، بتا دیتے تو آفس پہنچنے کے لیے تانگہ یا آن لائن ٹیکسی کرا لیتا۔انہوں نے کہا کہ ایک سال سے نیب تفتیش کر رہا ہے، 55 دن سے ریمانڈ بھی چل رہا ہے لیکن ابھی تک کیس سمجھ نہیں آیا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ نیب کا ادارہ ہی غلط ہے، یہ ن لیگ کو توڑنے کے لیے بنایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کی تقرری پر قوم سے معافی مانگتا ہوں، چیئرمین نیب کا نام پیپلز پارٹی کی طرف سے آیا تھا، اتفاق رائے سے تقرری کا فیصلہ کیا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ کیسا ادارہ ہیکہ پہلیسابق وزیراعظم کو گرفتار کرتے ہیں، اس کے بعد کیس بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے اگر کوئی کرپشن کی ہے تو بتائیں کیا کرپشن کی گئی ہے، تفتیشی افسر کہتا ہے کہ کابینہ کا فیصلہ غلط تھا، یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ ملک کابینہ نے چلانا ہے یا نیب نے۔

شاہد خاقان

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)شاہد خاقان عباسی کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے جوابی خط لکھا ہے جس میں کہا گیاکہ پروڈکشن آرڈرز کے معاملے پر اسپیکر غیر جانبدارانہ سوچ سے فیصلہ کرتے ہیں۔ جمعرات کو خط اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ہدایت لکھا گیا۔ خط میں کہاگیاکہ پروڈکشن آرڈرز کے معاملے پر اسپیکر غیر جانبدارانہ سوچ سے فیصلہ کرتے ہیں۔ خط میں کہاگیاکہ اسپیکر بحیثیت قومی اسمبلی کے کسٹودین اراکین کے حقوق کا تحفظ کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔خط میں کہاگیاکہ اسپیکر زیر حراست رکن کے خلاف درج شدہ کیس کی نوعیت کا بغور جائزہ لیتے ہیں۔ خط کے مطابق پروڈکشن آرڈر کا اجراء اسپیکر کا صوابدیدی اختیار ہے رکن اس کا مطالبہ نہیں کر سکتا،اسمبلی کے قواعد وضوابط کے مطابق اسپیکر ضروری سمجھنے پر زیر حراست رکن کو اجلاس میں شرکت کے لیے طلب کر سکتا ہے،پروڈکشن آرڈر کے اجراء سے متلعق آئینی گنجائش موجود نہیں۔ خط کے مطابق اگر زیر حراست رکن اسپیکر کی جانب سے پروڈکشن آرڈرز کے اجراء پر مطمئن نہیں تو اس سلسلہ میں عدالت سے رابطہ کرسکتا ہے۔ 

جوابی خط 

مزید : صفحہ اول


loading...