بھارت کے سرکاری اعداد و شمار نے خود مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی تصدیق کردی

بھارت کے سرکاری اعداد و شمار نے خود مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی تصدیق کردی
بھارت کے سرکاری اعداد و شمار نے خود مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی تصدیق کردی

  


سری نگر(صباح نیوز) بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم پر خود سرکاری اعداد و شمار جاری کردیے ہیں،بھارت کے سرکاری اعداد و شمار نے خود ہی مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کے ظلم و ستم کو بے نقاب کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی جانب سے منظر عام پر آنے والی بھارتی سرکاری رپورٹ میں وادی کے 13 پولیس ڈسٹرکٹس کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے گذشتہ 40 روز میں 4 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جن میں سابق وزرائے اعلی سمیت 200 سے زائد سیاستدان شامل ہیں جب کہ 3 ہزار سے زائد افراد صرف پتھراؤ کے الزام میں گرفتار ہوئے اور ڈیڑھ سو سے زائد افراد شدت پسند گروپوں سے تعلق پر گرفتار ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1200 سے زائد افراد کئی روز سے گرفتار اور قانونی حقوق سے محروم ہیں، لوگوں کی بہت بڑی تعداد گھروں میں نظر بند بھی ہے، سرکاری اعدادوشمار پر ردعمل کے لیے عالمی میڈیا کے رابطے بھی یکسر نظر انداز کیے جارہے ہیں، بھارتی حکام گرفتاریوں کی وجوہات جاننے کے لیے عالمی میڈیا کے رابطوں پر جواب دینے سے بھی گریز کررہی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وادی میں لاکھوں لوگوں کو ادویات اور اشیائے خوراک تک رسائی نہیں جب کہ انٹرنیٹ اور موبائل سروسز مسلسل بند ہیں، اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز اور مقامی کشمیریوں کے درمیان جھڑپیں معمول بن چکی ہیں،انسانی حقوق کی تنظیم 'ایمنسٹی انٹر نیشنل' کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں سخت پابندیاں عائد کرنے کے اقدام کی حالیہ تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی اور اس اقدام سے علاقے کے لوگوں میں خوف و ہراس کی فضا شدید تر ہو گئی ہے۔ایمنسٹی انٹر نیشنل بھارت کے سربراہ آکار پٹیل کا کہنا ہے کہ مواصلاتی رابطے منقطع کرنے، کرفیو کے نفاذ اور سیاسی رہنماں کی گرفتاریوں سے صورت حال انتہائی خراب ہو گئی ہے۔بھارت کا دعوی ہے کہ یہ گرفتاریاں امن و امان برقرار رکھنے اور تشدد کو روکنے کے لیے ضروری تھیں اور ان کی وجہ سے علاقے میں ہونے والی ہلاکتیں ماضی کے مقابلے میں بہت کم رہی ہیں۔حکومت کا دعوی ہے کہ اب تک صرف ایک شخص کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ 2016 میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد درجنوں میں تھی۔بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کا کہنا ہے کہ زندہ رہنے کا حق سب سے اہم انسانی حق ہے۔

بھارتی حکومت کے یہ اعداد و شمار وادی کشمیر کے 13 پولیس ڈسٹرکٹس سے متعلق ہیں جو جموں اور کشمیر کا سب سے زیادہ گنجان آباد علاقہ ہے۔سب سے زیادہ گرفتاریاں وادی کشمیر کے شہر سری نگر میں کی گئیں جن کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔گرفتار ہونے والے سیاسی رہنماں میں سے 80 کا تعلق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) سے ہے جس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد سے جموں اور کشمیر میں حکومت بنائی تھی۔گرفتار ہونے والے 70 سیاست دان ڈاکٹر عمر عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس سے ہیں جب کہ حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی کے بھی ایک درجن سے زائد ارکان گرفتار کیے گئے۔اس کے علاوہ پولیس نے بھارتی تسلط  کے خلاف بر سرپیکار عسکریت پسند گروپوں سے تعلق کے شبہے میں بھی 150 افراد کو گرفتار کیا۔بھارتی اہل کاروں نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ 1,200 سے زیادہ افراد اب بھی زیر حراست ہیں جن میں سینئر سیاست دان اور علیحدگی پسند رہنما بھی شامل ہیں جب کہ مزید درجنوں افراد کو ہر روز گرفتار کیا جا رہا ہے۔رپورٹ مرتب ہونے سے پہلے کے 24 گھنٹوں کے دوران دو درجن سے زائد افراد کو فوجیوں پر پتھر پھینکنے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ان اعداد و شمار میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جنہیں غیر رسمی طور پر ان کے گھروں میں نظر بند رکھا گیا۔

مزید : قومی /علاقائی /آزاد کشمیر /مظفرآباد


loading...