شاہد آفریدی کے دادا کو 1949 میں کشمیریوں نے کیا لقب دیا تھا؟ بوم بوم نے مظفر آباد جلسے میں بھارتیوں کو آگ لگادی

شاہد آفریدی کے دادا کو 1949 میں کشمیریوں نے کیا لقب دیا تھا؟ بوم بوم نے مظفر ...
شاہد آفریدی کے دادا کو 1949 میں کشمیریوں نے کیا لقب دیا تھا؟ بوم بوم نے مظفر آباد جلسے میں بھارتیوں کو آگ لگادی

  



مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ کشمیر میرے خون میں شامل ہے،آزاد کشمیر کے بڑوں نے  میرے دادا عبد الباقی  پیر آف بھوٹان شریف  کو 1949 میں ’’غازی کشمیر‘‘ کا لقب دیا ہے،صرف کشمیریوں کیلئے ہی نہیں دنیا بھر میں جہاں بھی ظلم ہو گا ہم آواز اٹھاتے رہیں گے۔

نجی ٹی وی کے مطابق شاہد آفریدی، جاوید شیخ، ہمایوں سعید، شہزاد رائے اور دیگر فنکار بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے مظفر آباد جلسے میں پہنچے،اس موقع پر گلوکار فاخر اور ساحر علی بگا نے اپنے مشہور نغمے گا کر شرکا کا خوب لہو گرمایا۔ اداکارہ حریم فاروق اور مایا علی خان بھی توجہ نگاہ رہیں۔

شاہد آفریدی نے بھارت کو للکارتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتے، کشمیر میرے خون میں شامل ہے،آزاد کشمیر کے بڑوں نے  میرے دادا عبد الباقی  پیر آف بھوٹان شریف  کو 1949 میں ’’غازی کشمیر‘‘ کا لقب دیا ہے،اس لئے میں کشمیر کے ساتھ ہوں ،میں ہر مظلوم کے ساتھ اور ظالم کے خلاف ہوں ،بات کشمیر کی نہیں ہے بات انسانیت کی ہے،دنیا میں جہاں بھی ظلم ہو گا  ہم پاکستانی اور ہم مسلمان ان کے لئے ہمیشہ آواز اٹھائیں گے ،جہاں بھی دنیا میں ظلم ہوتا ہے پاکستانی آواز اٹھاتے ہیں،ہم کشمیریوں کے لئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ صرف مسلمانوں پر ہی دنیا میں ظلم کیوں ہو رہا ہے؟ جب تک ہم ایک قوم نہیں بنیں گے، دنیا ایسے ہی ظلم کرتی رہے گی۔اس موقع پر جاوید شیخ، ہمایوں سعید اور شہزاد رائے نے بھی مظلوم کشمیریوں کو یکجہتی کا پیغام دیا۔ جلسے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،ہر طرف قومی اور آزاد کشمیر کے پرچموں کی بہار رہی۔

مزید : کھیل /علاقائی /آزاد کشمیر /مظفرآباد


loading...