بھائی۔۔۔واپس چلے جاؤ

بھائی۔۔۔واپس چلے جاؤ
 بھائی۔۔۔واپس چلے جاؤ

  

خدارا میرے چہرے کو غور سے نا دیکھو،

بھائی،

مجھے چادر دو،میرے سر پر دوپٹہ رکھ دو۔

سنو میر ے بھائی۔

یہ ٹارچ کی روشنی بند کر دو۔

مجھے اندھیرے میں رہنے دو۔

یہ روشنی بند کر دو۔

میرے بچے چلا اٹھیں گے۔

بھائی میرے بھائی۔

یہ میرے ادھیڑے گئے خون رِستے جسم سے چپکے بچے میری آل ہیں،میری اولاد ہیں۔

سہمے خوف سے گنگ۔

تم تو پولیس والے ہو۔

کہاں تھے تم جب میں تمہیں مدد کے لئے پکار رہی تھی۔

حدود کا تعین؟؟؟۔ 

کیا عزتوں،عصمتوں،بہنوں کی حفاظت کے لئے حدود تلاش کی جاتی ہے۔

بھیا خدارا ٹارچ کی روشنی بند کرو۔

یہ میرے مقدس جسم کی مزید بے حرمتی کر رہی ہے۔

مجھے میرا جسم ڈھانپنے دو۔ 

مجھ سے میرے بچے دور نہ کرو۔

بھیا میرے بھائی۔

تم بہت دیر سے پہنچے۔

بھلا ریاست مدینہ کے محافظ اتنے غافل بھی ہوتے ہیں۔

کیا یہ دھرتی اس لئے بنی۔

کہ اس میں ماؤں،بہنوں،بیٹیوں کی عزت۔

قبر میں محفوظ ہو نہ گھر میں اور نہ بازار۔

میں چلاتی رہی۔

روتی رہی۔

بلبلاتی رہی۔

خدا اور اس کے رسول ؐ اور ان کے مقدس پیاروں کا واسطہ دیتی رہی۔

لیکن شیطان ان لمحوں کا محافظ بن گیا۔

میری صدائیں بے سود رہیں۔

بے کار رہیں۔

بھیا میرے۔

میرا جسم بھیڑیئے بھنبھوڑ رہے تھے۔

اور میری روح۔

ہاں۔

میری روح۔

 میرے بچوں کی چیخوں،فریاد اور خوف میں گندھی سسکیوں سے زخمی ہو رہی تھی۔

اللہ میرے بچوں کی حفاظت کر۔

اللہ کچھ لمحوں کے لئے ان سے بینائی واپس لے لے۔

اللہ اے اللہ۔

اے قادر مطلق۔

اے عزتوں کے محافظ۔

میرے بچوں کی سماعت چھین لے۔

وہ میری چیخوں اور کرب میں ڈوبی فریادوں سے لرز رہے ہیں۔

ان کی آنکھیں پتھرا گئی ہیں۔

میں کیا کروں۔

میں کیا کروں۔

اے کھلے آسمان۔

اے تاروں کی چادر تانے کھلے آسمان۔

میرے سر سے چادر چھن رہی ہے۔

شاید قیامت اس کو کہتے ہیں۔

گزر جا اے قیامت گزر جا۔

اندھیرا ہے۔

وحشی درندے ہیں۔

بے امان زندگی ہے۔

بے حس حکمران ہیں۔

بے شرم معاشرہ ہے۔

 کہاں ہیں اس ریاست کے ٹھیکیدار۔

بھیا میرے،میرے بھائی۔

تم نے بہت دیر کر دی۔

سنو خدارا میری بات سنو۔

اب تفتیش کے نام پر۔

حکمرانوں کی نیک نامی کی تشہیر کے نام پر۔

ایک دوسر سے سبقت لینے کی۔

غلیظ خواہش کے نام پر۔

مجھے مزید رسوا نہ کرنا۔

جس ٹارچر کو اب میں نے ساری زندگی۔

آخری سانس تک برداشت کرنا ہے۔

اسے مزید تکلیف دہ نہ بنانا۔

سمجھو شمع بجھ چکی۔

میرے تین ننھے پروانے روحانی موت مر چکے۔

اب تم تماشائی بن کے خاک نہ اُڑاؤ۔

چلے جاؤ۔

واپس چلے جاؤ۔

مزید :

رائے -کالم -