سانحہ موٹروے،درندوں کی شناخت،وزیر اعلیٰ پنجاب کا مرکزی ملزم عابد علی،ساتھی وقار الحسن کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کیلئے 25،25لاکھ انعام کا اعلان،متاثرہ خاتون کی بیان ریکارڈ کرانے سے معذرت

سانحہ موٹروے،درندوں کی شناخت،وزیر اعلیٰ پنجاب کا مرکزی ملزم عابد علی،ساتھی ...

  

لاہور، بہاو ل نگر،شیخوپورہ (کرائم رپورٹر، ڈسٹرکٹ رپورٹر،بیورورپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک) موٹروے پر خاتون سے بداخلاقی کیس میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے، دونوں ملزمان کی شناخت ہو گئی،پولیس ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوئی، ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں،جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائیگا۔ د و سر ی طرف موٹروے پر بداخلاقی کا نشانہ بننے والی خاتون نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرانے سے معذرت کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گجر پورہ کے قریب موٹروے پر خاتون کیساتھ بداخلاقی میں ملوث دونوں ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ میچ ہو گئے ہیں،دونوں ملزموں کی شناخت عابد اور و قا ر کے ناموں سے ہو گئی ہے جنہوں نے چند روز قبل خاتون کو رات کی تاریکی میں بچوں کے سامنے بداخلاقی کا نشانہ بنایا جس کے ملک بھر میں غم و غصے کی شدید لہر نے جنم لیا تھا۔ گذ شتہ روز پولیس نے گاڑی سے ڈی این اے سیمپل حاصل کئے جن کو لیبارٹری میں بھیجا گیا، لیبارٹری سے حاصل ہونیوالی رپورٹ کے مطابق ملزموں کی شناخت عابدعلی جس کا تعلق فورٹ عباس ضلع بہاولنگر کے گاؤں 260 جبکہ دوسرے ملزم کا نام وقار الحسن ہے جو شیخوپورہ کا رہائشی ہے۔پولیس نے دونوں ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں جبکہ ملزمان تک رسا ئی کیلئے ملزمان کے خاکے بھی جاری کر دئیے گئے ہیں۔دونوں ملزمان عادی مجرم ہیں۔ملزم عابد اس سے پہلے ایک خاتون اور اس کی بیٹی کیساتھ بداخلاقی میں بھی ملوث پایا گیا تھاجبکہ دونوں ملزمان ڈکیتیوں کی متعدد وارداتوں میں بھی جیل جا چکے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔دونوں ملزموں کے ڈی این اے بھی میچ کر گئے ہیں۔کر یمنل ڈیٹا بیس میں عابد علی 2013ء سے موجود ہے۔ ادھر پولیس نے متاثرہ خا تو ن سے بیان ریکارڈ کرانے کیلئے رابطہ کیا تاہم خاتون کے اہلخانہ نے فی الوقت بیان ریکارڈ کرانے سے معذرت کرلی۔ خاتون کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ خاتون کی حالت ایسی نہیں کہ وہ بیان ریکارڈ کراسکیں، خاتون کے اہلخانہ کے انکار کے بعد پولیس تاحال متاثرہ خاتون کا بیان حاصل نہیں کرسکی۔ فوکل پرسن ایس ایس پی ذیشان اصغر کا کہنا ہے خاتون کی حا لت کو سمجھ سکتے ہیں، متاثرہ خاتون کا بیان اس وقت قلمبند کریں گے جب ان کیلئے ممکن ہو گا۔2013 ماہ جون میں ملزم عابد اپنے 4 ساتھیوں کے ہمراہ محمد شکور نامی دیہاتی کے گھر گھس گیا تھا اور اسلحہ کے زور پر اہل خانہ کو یرغمال بنا کر رسیوں سے باندھ دیا تھا، اس وقت کی ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے گھر میں موجود ماں بیٹی کو اجتماعی بداخلاقی کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے، اہل علاقہ نے ملزمان کو علاقہ بدر کرنے پر مجبور کر دیا تھا،جس کے بعد وہ اہل خانہ کے ہمراہ چھانگامانگا میں رہنے لگا۔

درندے شناخت

لاہور (کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے یقین دلاتا ہوں موٹروے پربداخلاقی کیس کے ملزمان جلد قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت، وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اور آئی جی پنجا ب انعام غنی کیساتھ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا متاثرہ خاتون سے رابطہ ہوا اور انصاف کا یقین دلایا، پولیس اہلکار بھی رابطے ہیں، ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ملزمان جلد قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔ ملزمان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کو 25.25 لاکھ روپے انعام دیں گے، جبکہ اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائیگا۔ ایسے قبیح واقعات کی روک تھام کیلئے 91 کلو میٹر کے علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، موٹروے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ واقعے کی تحقیقات سائنسی بنیادوں پر جاری، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور تمام قانون نافذ کرنیوالے ادارے مشترکہ کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاوقار الحسن 14 روز قبل ضمانت پر رہا ہو کر آیا۔ قا نون کے مطابق جو کچھ ہوا کریں گے۔سی سی پی او سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا آئی جی پنجاب انعام نے انہیں نوٹس بھیج دیا ہے اور سات روز کے دوران جواب مانگا ہے،  سی سی پی او کا جواب آنے پر ضابطے کے مطابق کارروائی ہو گی۔اس موقع پر آئی جی پنجاب کا کہنا تھا نادرا سمیت دیگر اہم اداروں کیساتھ رابطے میں ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کل رات سے رابطے میں ہیں، پولیس نے عابد علی ملہی کے بارے میں بہت محنت کی۔ اس کے دیگر رشتہ داروں کے بارے میں پتہ چلایا۔ ملزم کے نام چار سمیں ہیں جبکہ اس کے علاوہ ایک اور نمبر عابد علی ملہی استعمال میں ہے لیکن یہ نمبر اس کے نام نہیں، اس کو ٹریس کیا اور باقی لوگوں کے بارے میں پتہ چلا۔ عوام غیر ضروری اطلاعات سے گریز کریں۔ ملزم عابد علی ملہی قلع ستار شاہ تھانہ فیکٹری ایریا شیخوپورہ میں رہائش پذیر ہے، بدقسمتی سے زیادہ خبریں پھیلنے کی وجہ سے وہ الرٹ ہو گئے، پولیس والوں نے سول کپڑوں میں ملزم کے گھر کی نگرانی کی، اس دوان ملزم عابد علی اور اس کی بیوی گھر سے فرار ہو گئے،تاہم عابد علی ملہی کی بیٹی کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔انعام غنی کا کہنا تھا د و سر ا ملزم وقار الحسن علی ٹاؤن، قلعہ ستار شاہ شیخوپورہ کا رہائشی ہے، لاہور اور شیخوپورہ سمیت پنجاب پولیس، سی ٹی ڈی والے ملزمان کے پیچھے ہیں، انٹیلی جنس کو بھی استعمال کر رہے ہیں، ملزمان قانون کی گرفت میں جلد ہوں گے۔۔ آئی جی پنجاب انعام غنی نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے حکومتی وژن کے مطابق ہر واقعے کی ایف آر درج کی جا رہی ہے اس لئے جرائم کی شرح میں اضافے کا تاثر سامنے آیا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر واقعے کی ایف آئی آر درج کی جائیگی اور کسی سائل کی اندراج مقدمہ کی درخواست رد یا زیرالتواء نہیں رکھی جائیگی تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی زیادہ سے زیادہ معلومات قانون نافذکرنے والے اداروں کے پاس جمع ہو سکیں۔قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت سانحہ موٹروے کی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کمیٹی کو تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا موٹر وے پولیس کی تعیناتی تک پنجاب پولیس فرائض سرانجام دے گی، دلخراش واقعہ میں ملوث ملزمان سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی تک چین سے نہیں بیٹھو ں گا، پنجاب حکومت اور پوری قوم متاثرہ خاندان کیساتھ ہے، متاثرہ خاتون کو فوری انصاف دلانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب 

مزید :

صفحہ اول -