برسرِعام پھانسی، پہلے قانون سازی کر لیں 

برسرِعام پھانسی، پہلے قانون سازی کر لیں 

  

پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ موٹروے پر خاتون سے زیادتی کا کیس جلد حل ہوگا پنجاب حکومت متاثرہ خاتون اور ان کے خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہماری تمام تر ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں گھناؤنے واقعہ میں ملوث ملزم کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں گے اور انصاف کے لئے آخری حد تک جائیں گے، پنجاب پولیس پہلے بھی ایسے ہی افسوس ناک واقعات میں ملوث لوگوں کو قانون کی گرفت میں لا چکی ہے اب بھی ملزم نہیں بچ سکیں گے اور انہیں جلد تلاش کر لیا جائے گا۔ (تازہ اطلاع کے مطابق ایک ملزم کا سراغ مل گیا ہے)۔وزیراعلیٰ نے اپنے آبائی علاقے تحصیل تونسہ کے گاؤں بستی لاشاری میں شادی شدہ خاتون کے ساتھ اس کے گھر میں گینگ ریپ کا بھی نوٹس لے لیا ہے اور ریجنل پولیس چیف سے چوبیس گھنٹوں کے اندر رپورٹ طلب کی ہے۔

موٹروے پر خاتون کے ساتھ پیش آنے والے انسانیت سوز واقعہ پر پورا معاشرہ چیخ اٹھا ہے اور سرعام پھانسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین نے مطالبہ کیا ہے کہ زیادتی کے مجرموں کو سرعام کوڑے مارے جائیں تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ کوئی ان کی دادرسی کو آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا سانحہ گوجر پورہ پر ایک بہت بڑی کمیٹی بنا دی گئی ہے ان کمیٹیوں سے معاملہ حل نہیں ہو سکے گا ایسا شرمناک واقعہ پیش ہی نہیں آنا چاہیے تھا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عذاب لوگوں پر آیا ہوا ہے۔ وہ شائد اس سانحہ کے مظلوموں کی دادرسی سے ختم ہو جائے۔ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے مجرموں کو سرِعام پھانسی ہونی چاہیے۔ 

موٹروے کے سانحہ کے ملزم گرفتار ہوں گے تو پتہ چلے گا کہ قانون ان کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے اور معاشرہ ایسے واقعات کی روک تھام میں کیا کردار ادا کرتا ہے کیونکہ تونسہ کے گاؤں میں بھی ایک خاتون کے ساتھ اس کے گھر میں ایسا ہی سانحہ پیش آ گیا، موٹروے پر رات کے وقت نکلنے والی عورت سے تو ”غلطی“ ہو گئی تھی،لیکن جو عورت گھر میں بیٹھی لٹ گئی اور اس کے مجرم بھی معلوم ہیں اور ضمانت قبل از گرفتاری کرا چکے ہیں انہیں کب نشانہ عبرت بنایا جائے گا؟یہ وزیراعلیٰ کا اپنا علاقہ ہے اور یہاں تو امن و امان کی صورتِ حال مثالی ہونی چاہیے تھی اور مجرموں کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وہ وزیراعلیٰ کے علاقے میں ایسے سنگین جرم کے مرتکب ہو کر بچ نہیں سکیں گے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ لوگوں کے دلوں سے قانون کا خوف رخصت ہو چکا ہے اور وہ کوئی بڑے سے بڑا جرم کرتے ہوئے بھی ہچکچاتے نہیں ہیں۔ لاہور، اسلام آباد موٹر وے پر شیخوپورہ انٹرچینج کے قریب مسافروں کو لوٹنے کا واقعہ بھی پیش آیا یہ موٹروے لاہور سیالکوٹ کی طرح کوئی نئی نہیں بنی ہے جہاں پولیس کا گشت نہ ہو بائیس سال سے اس پر ٹریفک رواں دواں ہے یہاں بھی روایتی انداز سے مسافروں کو سڑک پر درخت کاٹ کر پھینکنے کے بعد لوٹ لیا جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سی شاہراہ اور سڑک محفوظ ہے۔ سی سی پی او نے تو کہہ دیا تھا کہ آدھی رات کے وقت خاتون کو موٹروے پر سفر نہیں کرنا چاہیے تھا کیا اب وہ لاہور اسلام آباد موٹروے کے مسافروں کو بھی کوئی ایسا ہی مشورہ دیں گے یا پھر ایسا بندوبست کریں گے کہ مسافر خوف و خدشے کے بغیر دن اور رات کے کسی بھی وقت سفر کر سکیں۔

قصور کی بدقسمت کمسن بچی زینب کے بہیمانہ کیس کے مجرم کو پھانسی کے وقت یہ سوال اٹھا تھا کہ کیا سرعام پھانسی کی سزا دی جا سکتی ہے یا نہیں لیکن قانون میں چونکہ ایسی گنجائش نہیں تھی اس لئے پھانسی کی سزا پر عمل تو ہوا لیکن یہ پھانسی قانون کے مطابق جیل کے اندر ہی ہوئی اب کئی سال بعد دوبارہ برسرعام پھانسی کا مطالبہ ہو رہا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ قانون میں تو ایسی گنجائش نہیں اس لئے جو بھی ایسی سزاؤں کے حق میں ہیں اور برسرِ اقتدار بھی ہیں وہ اس ضمن میں قانون سازی کے لئے آگے کیوں نہیں بڑھتے۔ پنجاب کے وزیراطلاعات اگر بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے حق میں ایک ٹی وی چینل پر بیان دیتے ہیں تو انہیں پنجاب کی حکومت کے متعلقہ شعبوں کو اس سلسلے میں قانون سازی پر تیار کرنا چاہیے۔ وہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے قابلِ اعتماد وزیر ہیں ان کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو  اس سلسلے میں قانون سازی کے لئے اقدامات کریں، محض ٹی وی چینلوں پر بھاشن دیتے رہنے سے تو بات آگے نہیں بڑھے گی۔ زینب کیس کے بعد ایسے ہولناک واقعات رک نہیں گئے  اور کسی نہ کسی علاقے سے ایسے سانحات کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن اکثر واقعات کے تو مجرم پکڑے ہی نہیں جاتے جو پکڑے گئے ہیں ان میں سے کسی کا حشر بھی سانحہ زینب جیسے مجرم کی طرح نہیں ہوا کسی کو پھانسی کی سزا بھی نہیں ہوئی، مجرم پکڑے بھی گئے تو معمول کی قانون کارروائیاں ہو رہی ہیں کیا وجہ ہے کہ ایک ہی طرح کے جرائم کے مجرموں سے یکساں سلوک نہیں ہوتا؟ اگر ایک بچی سے بہیمانہ سلوک کا مجرم پھانسی چڑھ سکتا ہے تو دوسروں کو بھی عبرت کی مثال بنایا جانا چاہیے تھا شاید اسی طرح ایسے واقعات رک جاتے لیکن نہ پھانسیاں ہوئیں، نہ یہ سانحات رک سکے۔

اب موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے مجرم اگر پکڑے جائیں تو معلوم نہیں قانون ان کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے لیکن اگر جرائم کو روکنا ہے تو سخت سزائیں نافذ کئے بغیر چارہ نہیں، ایسے جرائم میں جو سزائیں اس وقت دی جا رہی ہیں وہ بہت ناکافی ہیں اور جرم کرنے والے ان سے قطعاً خوفزدہ نہیں، ان کا علاج تو وہی ہے جو وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے تجویز کیا ہے لیکن کیا ان کی تجویز بھی ہوا کی لہروں میں تحلیل ہو جائے گی یا اس پر کوئی ٹھوس کارروائی بھی ہو گی ان کا کہنا تھا کہ ایسے جرائم کے مرتکب لوگوں کو مردانہ صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا دی جانی چاہیے اور وہ اس کے لئے قانون لائیں گے اب دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ اپنی اس حکومت میں واقعی کوئی ایسا قانون منظور اور نافذ کرانے کی پوزیشن میں ہیں یا حسب معمول ٹی وی پر کوئی چونکا دینے والی بات کہہ کر رہ جاتے ہیں۔ برسرعام پھانسی کی سزا کے لئے بھی قانون سازی ضروری ہے اس کے بغیر یہ تجویزیں محض جذباتی نعرے ہی ثابت ہوں گے۔ قانون میں گینگ ریپ کی سزا موت ہے اور ایسے ہر مجرم کو یہی سزا ملنی چاہیے، پہلے عدالتیں ایسی سزا دیں گی تو  برسرعام پھانسی کا سوال پیدا ہوگا اس لئے جو حضرات اس تجویز کے حامی ہیں اور حکومتی مناصب پر بھی براجمان ہیں وہ آگے بڑھ کر برسرعام پھانسی کے لئے قانون سازی کریں اور محض نعرے نہ لگائیں معاشرے نعروں سے نہیں عمل سے تبدیل ہوتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -