نئی پیش گوئیاں شیخ صاحب کی اور حقائق!

نئی پیش گوئیاں شیخ صاحب کی اور حقائق!
نئی پیش گوئیاں شیخ صاحب کی اور حقائق!

  

اپنے فرزند ِ راولپنڈی محترم وزیر ریلوے شیخ رشید نے اپنے فرائض میں سیاسی پیش گوئیوں کا کام بھی شامل کیا ہوا ہے، اور ان کی حالیہ دور کی تمام تر پیش گوئیاں وزیراعظم عمران خان کی درازیئ عمر اور تعریف کے بعد مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے ختم ہو جانے پر مبنی ہیں اور اب انہوں نے مسلم لیگ(ن) کے دو حصوں میں بٹ جانے کی بات کرتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ ان کے پاس دسمبر تک کا وقت ہے اور30 دسمبر تک یہ جماعت باقاعدہ طور پر تقسیم ہو جائے گی، غالباً ان کے علم نجوم اور ستارہ شناسی میں 30تاریخ کی خاص اہمیت ہے کہ وہ جب بھی کوئی ایسی حد مقرر کرتے ہیں تو تاریخ 30ہی متعین کرتے ہیں،دسمبر تو31 کا مہینہ ہے، وہ یہ بھی کہہ سکتے  تھے کہ31 دسمبر یا دسمبر کے اختتام تک ایسا ہو گا،لیکن انہوں نے30دسمبر کا ذکر خصوصی طور پر کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے بارے میں وہ ہمیشہ سے طنزیہ انداز اختیار کرتے اور آصف علی زرداری کی سیاست تمام ہونے کا اعلان کر کے ان کے لئے جیل کی ”آسائش“ والی اطلاع دیتے ہیں،اب بھی یہی کہا ہے، وفاقی وزیر ریلوے  کو ان بکھیڑوں سے فرصت ملے تو وہ اپنے محکمے پر بھی توجہ دیں کہ ریلوے کا حال پہلے سے بُرا اور نقصان بڑھ گیا ہے، جو خرابیاں محکمہ ریلوے(معہ مسافر+مال گاڑیوں) میں پہلے سے تھیں ان میں کمی تو نہیں اضافہ ہو گیا ہے۔بہتر تو یہی ہے کہ وہ ریلوے کو دُنیا کی بہترین ریلوے کے برابر لانے اور تین سال کے اندر اسے منافع بخش بنانے کے اپنے اعلانات کے مطابق توجہ دیں، چہ جائیکہ ان کی ساری توجہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ یہ ملکی سیاست کے لئے یوں بھی کوئی اچھی بات نہیں کہ ملک سے مخالف جماعتیں ختم ہوں،اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو حضرات کلی اختیارات یا صدارتی نظام کی بات کر رہے ہیں۔محترم شیخ بھی اسی کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کا بات کرنے کا انداز اپنا ہے

کیا یہ افسوسناک امر نہیں کہ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور بیماریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ حضرات خصوصاً برسر اقتدار لوگ عوام کو لالی پاپ دیتے چلے جا رہے ہیں، مہنگائی تو بڑھ ہی رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں اور بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں مزید بوجھ لادنے کی بھی تیاری ہے۔شیخ رشید ہوں یا دوسرے وزرا اور مشیر، حتیٰ کہ اپوزیشن رہنما ہر ایک کو اپنی سیاست سے تو غرض ہے،لیکن مہنگائی اور عوام کی دوسری مجموعی مشکلات کی اتنی فکر نہیں، ان کو  کون بتائے گا کہ فلور ملز والوں نے اپنا تیار کردہ چکی آٹا مزید مہنگا کر دیا ہے اور اب پانچ کلو تھیلے کے نرخ (پرچون) 375 روپے ہو گئے،یوں یہ آٹا 75روپے فی کلو بک رہا ہے، عام چکیوں پر بھی نرخ 70روپے فی کلو ہیں اور چینی تو ایک سو روپے فی کلو پر ٹک گئی اور حبس و گرمی کے اس موسم میں بھی برائلر انڈے130روپے درجن ہیں۔

بات فرزند ِ راولپنڈی سے شروع کی اور ذکر یہ بھی آ گیا، ان کی طرف سے تازہ ترین بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ مولانا فضل الرحمن اب دھرنا نہیں دیں گے اور اے پی سی ناکام ہو گی۔ ان کا سارا زور اس بات پر ہے کہ پیپلزپارٹی،مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علماء اسلام کی سیاسی فکر الگ الگ ہے یہ تو کوئی انکشاف نہیں،ہر شخص کو یہ علم ہے کہ ان جماعتوں کے انداز فکر اپنے اپنے ہیں،کہ اگر ایسا نہ ہو تو الگ جماعتوں کی ضرورت اور حیثیت ہی باقی نہیں رہتی، باقی جہاں تک اے پی سی کی ناکامی کا تعلق ہے تو یہ پیش گوئی سے زیادہ خواہش پر مبنی ہے عام آدمی بھی اسی طرح سوچتا ہے، تاہم حالات بالکل مختلف ہیں۔ اپوزیشن خود سے کبھی بھی نہیں، اکٹھی ہوتی اس کے اتحاد میں ہمیشہ بیرونی دباؤ شامل ہوتا ہے اور اب بھی شیخ رشید سمیت پوری برسر اقتدار جماعت بھرپور کوشش کر کے اپوزیشن کو دیوار سے لگاتی چلی جا رہی  ہے،جب ان کے پیچھے رستہ نہیں رہے گا تو وہ پھر پلٹ کر قدم اٹھائیں گی اور وہ یہی ہو گا کہ متحد ہو کر مقابلہ کیا جائے، جہاں تک مولانا فضل الرحمن کے دھرنا نہ دینے کا تعلق ہے تو ہم بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ پہلے دھرنا کے موقع پر ان کے ساتھ بہتر سلوک نہیں ہوا اور  ان کو دھکا دے کر ہاتھ پکڑنے کی کوشش نہیں کی گئی،ان کو تو بہت بڑا نقصان ہوا،لیکن اپنی جماعتی حمایت کی وجہ سے وہ پھر سے اپنے پیروں پر کھڑے ہیں، اور اب ان کا ارادہ بھروسہ کرنے کا نہیں،بلکہ خود کو منظم کر کے اتنی ”قوت“ بنانے کا ہے کہ دھرنے کے بغیر ان کی بات مانی جائے اور اب ڈبل کراسنگ نہ ہو۔

جہاں تک بات مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی ہے تو تحریک انصاف کے ”پیا“ توازن برقرار رکھنا چاہتے ہیں، ورنہ پیٹریاٹ اور فارورڈ بلاک کچھ مشکل کام نہیں اور یہ شیخ صاحب بھی جانتے ہیں، تاہم ایک گذارش ہم بھی کر دیں، اس مہلت نے ان ہر دو جماعتوں کو سنبھلنے کے مواقع فراہم کر دیئے ہیں،اگر اب بھی ان میں ”نفاق“ ہو تو پھر کیا کہیے گا،ویسے محمد شہباز شریف اور محمد نواز شریف کے درمیان تقسیم ایک خواب ہے،جو اب تک تو پورا نہیں ہوا،اختلاف کبھی تقسیم تک نہیں جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -