حسن ِ  کارکردگی اور تمغہ کی محتاجی  

حسن ِ  کارکردگی اور تمغہ کی محتاجی  
حسن ِ  کارکردگی اور تمغہ کی محتاجی  

  

ماسکو میں لینن انعام وصول کرتے ہوئے فیض احمد فیض نے گفتگو کا آغاز بہت دھیمے لہجے میں کیا تھا۔ کہنے لگے: ”الفاظ کی تخلیق و ترتیب شاعر اور ادیب کا پیشہ ہے، لیکن زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب یہ قدرت ِ کلام جواب دے جاتی ہے۔ آج عجزِ بیاں کا ایک ایسا ہی مرحلہ مجھے درپیش ہے“۔ اتنا کہہ کر انہوں نے دِلوں میں اتر جانے والی تقریر شروع کی جسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ عجز بیان محض انکساری تھی، وگرنہ تیور تو دیکھئے کہ ”امن گندم کے کھیت ہیں اور سفیدے کے درخت، دلہن کا آنچل ہے اور بچوں کے ہنستے ہوئے ہاتھ، شاعر کا قلم ہے اور مصور کا مو قلم“۔ فیض کی تقریر پرانے زمانے کی کہانی ہے۔ پھر یہ بات بھی اہم تھی کہ  انعام کی یہ خبر صحافی مصلح الدین نے بریک کی اور سب سے پہلے فیض کا انٹرویو کیا۔ اب تمغے حاصل کرنے والے سوشل میڈیا کی بدولت اِس حد تک خود کفیل ہو گئے ہیں کہ خبر خود بریک کی اور اپنا انٹرویو آپ ہی کر لیا۔ کم از کم اِس یوم دفاع  پہ تو یہی ہوا۔        

تازہ یومِ دفاع کا ذکر تو جوشِ خطابت میں ہو گیا۔ وگرنہ اب سے پانچ سال پہلے تمغہئ حسن ِ کارکردگی پانے والے دو دوستوں کی پذیرائی کے لئے جو تقریب ہوئی وہ بھی کسی آزمائش سے کم نہیں تھی۔ ایک تو اِس کالم نویس کو فیض صاحب کی طرح لوگوں کے سامنے جھینپتے رہنے کی خاصی پریکٹس ہے۔ پھر پنجاب یونیورسٹی کے ایگزیکٹو کلب میں رات کے کھانے کی یہ تقریب تھی ہی غیر رسمی نوعیت کی۔ کوئی تین درجن جانے پہچانے چہرے، جن میں سے دو مستند صحافی منیر احمد منیر اور وجاہت مسعود حسن ِ کارکردگی کے صدارتی ایوارڈ کے لئے نامزد ہوئے تھے۔ دونوں ہی صاحب ِ طرز لکھاری، مگر عقل دوست۔ یوں دُور دُور تک امکان نہیں تھا کہ شرکائے محفل کی خطیبانہ صلاحیتوں کو چیک کیا جا ئے گا، پر اس کا کیا علاج کہ سامعین کو مائل بہ کرم دیکھتے ہی کم و بیش تمام حاضر سروس  دانشوروں کو تقریر آ  گئی۔ 

یوں مذکورہ تقریب اسکول کی بزم ادب میں تبدیل ہوئی تو سبھی مقررین ’لاہور کا جغرافیہ‘  والے پطرس بخاری کی اِس ہدایت  پر کاربند  تھے کہ تقریر ایسی ہو جو سب موقعوں پہ کام آ سکے۔ اِس سے سامعین کو سہولت رہتی ہے۔ سامعین کو سہولت تو بہرحال رہی کہ ٹاک شو کے سلجھے ہوئے عسکری تجزیہ نگاروں، معیشت دانوں اور ماہرین تعلیم کی طرح شرکاء چھوٹے چھوٹے، شارٹ پاس دے کر ایشین سٹائل کی ہاکی کھیلتے رہے۔ کوئی پینلٹی سٹروک نہ لگا، کسی نے لمبا اسکوپ نہ کیا۔مجھ جیسے بارہویں کھلاڑی تک بال پہنچنے کا خدشہ سرے سے نہیں تھا، لیکن سامعین کے گھیرے میں پھنستے ہوئے دیر کہاں لگتی ہے۔ کسی نے میری طرف دیکھ کر اندازے سے کہا ”خالد صاحب؟“ ایک اور آواز آئی ”نہیں، شاہد صاحب“۔ ’ہاں‘ اور ’نہیں‘ کے درمیانی علاقے میں  لگا کہ تقریر کی دعوت میرے لئے ہے۔ 

ابتدائی طور پر فیض احمد فیض کی یاد عین اُسی وقت آئی۔ یہ نہیں کہ فیض صاحب کو بھی میری طرح کرنیلی یا پروفیسری کے مقابلے میں ہائی اسکول کے طالب علم کے طور پہ سامعین سے مخاطب ہونے کی مشق زیادہ تھی۔ مجھے تو فیض اس لیے یاد آئے کہ ہم  نے اُن کے گرد گھیرا جب بھی تنگ ہوتے دیکھا، وہ اُس میں سے بچ کر نکل گئے۔ ”فیض صاحب ، آپ نے اپنے شعر میں ’کلاہ‘ کو ’کلہ‘  باندھ دیا ہے“۔ جواب ملے گا:”ہم سے سند مت مانگو۔ کوئی ڈھنگ کی لڑائی ہو تو آدمی لڑے بھی‘‘۔ ”فیض صاحب، کھڑی شریف میں میاں محمدبخش کے مزار پر آپ کی دستار بندی ہو گئی، کیا ضرورت تھی؟‘‘ گوتمی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے:”بھئی، وہ کہہ رہے تھے ہونی چاہئے، ہم نے کہا کہ ہو جائے“۔ کئی بار دیکھتے ہی دیکھتے وہ اِس سے کہیں سخت تر مقامات سے بھی با آسانی گزر گئے، مگر غلط بیانی نہیں کی۔

ایک دفعہ تو کمال ہی ہو گیا۔ فیض صاحب کی شخصیت پر دلچسپ ترین کتاب ’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘ کے مصنف ڈاکٹر ایوب مرزااپنے ہارلے اسٹریٹ راولپنڈی والے مکان پہ فیض کے اعزاز میں کئی درجن پروفیسروں کی میزبانی کر رہے تھے۔ ہر ادیب اور دانشور کے لئے ’پروفیسر‘ کا  لفظ ڈاکٹر مرزا کی خانہ ساز اصطلاح تھی، جو موصوف کے منہ سے بھلی لگتی۔ اچانک ایک پروفیسر نے ڈاکٹر صاحب کی نثری نظموں پہ مضمون پڑھنا شروع کر دیا اور اُن کے بعد ایک اور پروفیسر کی باری آگئی۔ تب ڈاکٹر مرزا نے اپنے تازہ مجموعہ میں سے چند نظمیں بھی سنا دیں۔ فیض صاحب سے صدارتی خطبہ کے لئے درخواست کی گئی تو وہ سچ بولے بغیر نہ رہ سکے: ”بھئی، نظم مربوط چیز ہوتی ہے اور نثر بکھری ہوئی شے، اس لئے نثری نظموں کے کیا معنی؟لیکن اتنے لوگوں نے تعریف کی ہے تو  اچھی ہی ہوں گی“۔

پانچ سال پہلے یونیورسٹی کلب کی محفل میں غور طلب مسئلہ یہ نہیں تھا کہ جن تحریروں کی بنا پر ہمارے دو صحافیوں کو پرائیڈ آف پرفارمنس دینے کا اعلان کیا گیا، وہ اُن کی کارکردگی کا اچھا نمونہ ہیں یا نہیں۔ اس پہ تو دو آراء ہو ہی نہیں سکتیں کہ جناب منیر احمد منیر کے ’آتش فشاں‘ نے ہماری جوانی کے ایام میں انتہائی دلچسپ، معلومات افزا اور مکالماتی بہاؤ میں رچے ہوئے سلسلہ وار کتابی انٹرویوز کی جو روایت قائم کی اُس کے منتخبہ نمونے پرنٹ جرنلزم ہی نہیں، نشریاتی صحافت کے نصاب کا حصہ بھی ہونے چاہئیں۔اسی طرح بے تکلف دوست وجاہت مسعود کے تحریری متن، منطقی ڈھانچے اور مستند حوالوں کی افادیت بہت گھٹا کر بیان کروں تو بھی بی بی سی کے سخت گیر ساتھی اطہر علی کی طرح یہی کہوں گا کہ اچھا  اسلوب ہے،بس ذرا عالمانہ سا ہے۔اصل سوال یہ تھا کہ جب کارکردگی ہے ہی پُرتاثیر تو پھر انعام کی محتاجی کیوں۔ 

بعض لوگ کہیں گے کہ جب سرکاری افسروں کی صلاحیت ِ کار پہ نظر رکھنے کے لئے ہر سال اچھی یا بری رپورٹ تحریر کی جاتی ہے اور ٹی وی چینلز کو ملنے والے اشتہارات کا دارومدار پروگراموں کی ریٹنگ پہ ہوا کرتا ہے تو پھر پیشہ ورانہ یا تخلیقی سرگرمیوں پر انعامات دے کر حکومتی پسندیدگی کا اظہار کسی خرابی کا سبب کیسے قرار پایا۔ اس دلیل کو رد کرنا چاہیں تو  دستیاب مواد کم نہیں پڑے گا۔ پر یونیورسٹی کی  تقریب میں نہ تو مفصل بحث و تمحیص کے لئے منعقد کی گئی، نہ باہمی رکھ رکھاؤ کے  ماحول میں خوشگوار موڈ کو تبدیل کرنے کی گنجائش دکھائی دیتی تھی۔ بہرحال، جب تقریر کرنے کی ناگہانی دعوت ملی تو مَیں نے سچائی سے کام لیتے ہوئے یہ الفاظ سب کے سامنے کہہ دیئے کہ مجھے زیر نظر موضوع  پہ اپنا موقف وضع کرنے کے لئے مہلت درکار ہے۔ ساتھ ہی برادرم وجاہت مسعود کو آنکھ مار دی تھی کہ تردید نہ کرنا۔

پانچ سال پہلے عید الاضحی سے دو روز پہلے کی شام اور تازہ یومِ دفاع، انعامات کی فہرست پڑھ  کر مَیں نے استغاثہ اور صفائی دونوں کے وکالت نامے ایک ہی ہاتھ میں تھام رکھے ہیں۔ ذاتی طور پہ مجھے اپنے اور اپنے دوستوں کے لئے حکومت سے کچھ نہیں چاہئے، صرف جان و آبرو کی امان درکار ہے، جس کی کوئی ضمانت نہیں۔ سرکاری مراعات، خطاب، تمغے  اور پلاٹ طبقہ بندی کو فروغ دیتے ہیں، اس لئے اِن کی چنداں ضرورت نہیں۔ اقبال نے بھی نائٹ ہڈ کی پیشکش پر ابتدا میں یہی کہا تھا کہ اسلام سماجی امتیازات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ ممکن ہے فیض احمد فیض نے بھی لینن پرائز لینے سے پہلے اِن خطوط  پہ سوچا ہو۔ تو پھر فیصلہ کیا ہونا چاہئے؟ کیوں نہ مرزا غالب سے رجوع کیا جائے جو ڈیڑھ سو سال سے کچھ ہی پہلے شاید ہمارے ہی دَور کے حالات لکھ گئے ہیں،  اِس آرزو کے ساتھ کہ ”بہت سی عزت چاہتا ہوں اور تھوڑی سی دولت“۔ تو یہ رہا غالب کا خود نوشت خاکہ:

”مَیں ترک قوم کا سلجوقی ہوں۔ دادا میرا ماورالنہر سے شاہ عالم کا نوکر ہوا۔ باپ میرا عبداللہ بیگ خان بہادر عرف میرزا دولہ لکھنؤ جا کر آصف الدولہ کا نوکر رہا۔ پانچ برس کی میری عمر تھی کہ مہاراجا بختاور سنگھ بہادر کی رفاقت میں مارا گیا۔ سرکار سے میرے باپ کی تنخواہ میرے نام پہ جاری ہوئی اور ایک گاؤں، جس کا تالڑا نام ہے ، مجھ کو برائے دوام ملا۔عمر بھر نوکری کی تو بہادر شاہ سے نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ خطاب پایا۔ کچھ دنوں باد شاہ کا مصاحب رہا، پھر استاد کہلایا۔ دنیا دار نہیں، فقیر ہوں۔ بہت سی عزت اور تھوڑی سی دولت چاہتا ہوں۔ مکان گھر کا نہیں، کرائے کی حویلی میں رہتا ہوں‘‘۔ میری اپنی رائے کچھ بھی ہو، گمان یہی ہے کہ غالب ہمارے زمانے میں ہوتے تو پرائیڈ آف پرفارمنس کے ساتھ انعامی رقم بھی وصول کر لیتے۔

مزید :

رائے -کالم -