قوم یک زبان ہے،سرعام سزا کا قانون بنایا جائے

قوم یک زبان ہے،سرعام سزا کا قانون بنایا جائے
قوم یک زبان ہے،سرعام سزا کا قانون بنایا جائے

  

سانحہ موٹروے کی تفتیش کس کروٹ بیٹھتی ہے، اس سے قطع نظر یہ حقیقت واضح ہے کہ اب قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تاہم یہ اس لحاظ سے پہلا واقعہ ہے کہ اس نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور آج ہر طرف سے یہ آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ اس میں ملوث درندوں کو عبرتناک سزائیں سرعام دی جائیں۔ اپوزیشن اور حکومت میں بھی اس حوالے سے اختلاف ختم ہو  گیا ہے اور دونوں طرف سے یہی مطالبہ سامنے آ رہا ہے،مگر سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ قوانین کے ذریعے ایسے درندوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔کیا موجودہ پراسیکیوشن کے نظام میں اتنی سکت ہے کہ وہ مجرموں کو جلد سزائیں دلوا سکے۔کیا موجودہ عدالتی نظام ایسا ہے کہ درندوں کو  سزائیں دے کر نشانِ عبرت بنا دے، نہیں صاحب ایسا نہیں، جب قصور میں زینب قتل کیس ہوا تو پوری عدالتی مشینری، وزارت قانون، پولیس اور نجانے کس کس محکمے کو ایک صفحہ پر آنا پڑا، تب جا کے اسے فوری سزا ہوئی، وگرنہ معمول کے عدالتی و پراسیکیوشن نظام میں تو سالہا سال لگ جاتے ہیں، فیصلہ ہی نہیں ہوتا، پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ قوانین میں سنگین کیسوں کی بھی سزائیں بہت کم ہیں، عدالت سزا دے بھی دے تو مجرم کچھ عرصہ جیلوں میں گذارنے کے بعد باہر آ جاتے ہیں، اِس لئے سب سے اہم ضرورت اس امر کی ہے کہ خاص طور پر بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسوں میں سخت سزاؤں کا قانون بنایا جائے۔ نہ صرف قانون،بلکہ مقدمات کی تیز رفتار سماعت کا بھی اہتمام کیا جائے تاکہ واقعہ بھولنے سے پہلے لوگوں  کو  اس کے مجرم نشانِ عبرت بنتے نظر آئیں۔

اس وقت پورے ملک کی فضا اس حق میں ہے کہ مقننہ سخت قوانین پاس کرے۔ مَیں نہیں سمجھتا کہ اس فضا میں کوئی سیاسی جماعت اس بات کا رسک لے گی کہ ایسے قوانین کی مخالفت کرے، اس کے لئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا ماڈل اپنایا جا سکتا ہے،ایران بھی ایسے ہی قوانین رکھتا ہے کہ جنسی زیادتی اور قتل کے مجرموں کو سرعام موت کی سزا دی جاتی ہے،ایران میں انہیں چوراہے پر لٹکایا جاتا ہے اور سعودی عرب،متحدہ عرب امارات میں بھرے مجمعے کے سامنے سر قلم کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ ایسے سخت قوانین بنائے گئے تو دُنیا ہمارے بارے میں کیا کہے گی۔ یہ جو آئے روز درندگی کے واقعات پیش آ رہے ہیں ان کے بارے میں دُنیا کیا کہہ رہی ہے؟کبھی ہم نے سوچا ہے۔پھر یہ کوئی انہونی بات نہیں، کئی اسلامی ممالک میں ایسی سزائیں رائج ہیں اور دُنیا ان کے اس حق کو تسلیم بھی کرتی ہے کہ وہ اپنے حالات کے مطابق فیصلے کریں، ہم کچھ زیادہ ہی انسانی حقوق کے چیمپئن بننے کی کوشش کرتے ہیں،حالانکہ ہمارے ملک میں قدم قدم پر انسانی حقوق پامال کئے جاتے ہیں،یہاں خواتین پر تیزاب چھڑکنے کے واقعات سب سے زیادہ ہوتے ہیں، بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد انہیں قتل کرنا تو گویا ایک معمول بن گیا ہے،کراچی کی چار سالہ مرواہ پر جو ظلم ڈھایا گیا، وہ یورپ یا امریکہ میں ڈھایا گیا ہوتا تو ایک طوفان آ جاتا۔ ایسے واقعات تو اب آئے روز ہوتے ہیں، بس یہ خبر آتی ہے کہ ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہ، اُس کے بعد کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں کیا سزا ملی یا وہ قانون کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر بری ہو گئے۔

اس  بڑھتے ہوئے مسئلے کا تدارک اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ موجودہ قوانین اور پراسیکیوشن کے تحت اس طوفان کے آگے بند باندھنا مشکل ہے، کیونکہ اس میں صرف گرفتاریاں ہوتی ہیں، سزاؤں کے لئے عمرِ خضر چاہئے  ہوتی ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ایسے کیسوں میں مظلوم خاندان پر دباؤ بہت بڑھ جاتا ہے، انصاف وقت پر نہ ہو تو ملزموں کے ورثاء کی طرف سے دھمکیوں اور دیگر ترغیبات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے،جن میں صلح کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات پولیس بھی مقدمے سے جان چھڑانے کے لئے متاثرہ خاندان پر ہی دباؤ ڈالتی ہے کہ کچھ لے کر صلح کر لی جائے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ درندوں کے حوصلے مزید بلند ہو جاتے ہیں۔ انہیں سزائیں نہ ملنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُن جیسی ذہنیت رکھنے والوں کو بھی یہ گھناؤنا کھیل کھیلنے کی ترغیب ملتی ہے۔ ایسے واقعات میں ملوث مجرموں کو بروقت سزائیں ملنے لگیں تو کم از کم باقی لوگوں کو حوصلہ نہیں ہو گا کہ وہ ایسا انسانیت سوز کام کریں۔ اب اس پر پوری قوم کا اتفاق پایا جاتا ہے کہ جنسی زیادتی اور اُس کے بعد قتل کے مجرموں کو سرعام سزائے موت دی جائے، اس سلسلے میں مقننہ فوری قانون سازی کرے اور کسی بیرونی دباؤ کو خاطر میں نہ لائے، ایک بار لاہور کے لکشمی چوک، کراچی کی نیپا چورنگی، اسلام آباد کے ڈی چوک، پشاور کے قصہ خوانی بازار اور کوئٹہ کے مین بازار میں زیادتی و قتل کے مجرموں کو  سرعام لٹکا دیا گیا تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ تو کئی ماہ بعد بدمعاش درندہ سو مرتبہ سوچے گا کہ اُسے یہ کھیل کھیلنا چاہئے یا نہیں۔ آج نواز شریف بھی یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ موٹروے پر خاتون سے زیادتی کرنے والوں کو عبرتناک سزا دی جائے، بلاول بھٹو بھی یہی مطالبہ کر رہے ہیں، سراج الحق کی بھی یہی خواہش ہے،خود حکومتی وزراء بھی ایسے ہی بیانات دے رہے ہیں تو پھر دیر کس بات کی ہے، قوانین کا مسودہ اسمبلی میں پیش کیا جائے اور سخت سزاؤں کو فی الفور نافذ کر دیا جائے، اب انتظار کس بات کا ہے،کیا ہم ہر واقعہ کے بعد کسی دوسرے سنگین واقعے کا انتظار کرتے رہیں گے۔کیا اس وقت معاشرے میں عدم تحفظ کی حالت یہ نہیں ہو چکی کہ مائیں اپنے بچوں کو باہر جانے سے اس طرح روکتی ہیں، جیسے وہ مرغی کے چوزے ہوں،جنہیں کوئی بھی درندہ اٹھا کر لے جائے گا،کیا موٹروے کے سانحے نے خواتین میں عدم تحفظ کے احساس کو دوچند نہیں کر دیا، اب تو اُن میں یہ احساس اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ وہ خود کو اپنے ہی گھروں میں بھی غیر محفوظ سمجھنے لگی ہیں۔

ہمارے ایک دوست اور اُردو ادب کے استاد پروفیسر نعیم اشرف نے کل ایک واقعہ سنایا کہ ایک دوست کے گھر میں ڈاکو گھس آئے،انہوں نے سونا، نقدی اور دیگر قیمتی چیزیں لوٹیں اور چلتے بنے۔ وہ دوست جب مقدمہ درج کرانے تھانے گئے تو ایس ایچ او انہیں ایک سائیڈ پر لے گیا اور راز داری سے پوچھا ڈاکوؤں نے آپ کی بچیوں یا خواتین کے ساتھ تو کوئی زیادتی نہیں کی، انہوں نے انکار میں جواب دیا تو واپس اُس جگہ آئے جہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے تھے اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا، بھائی صاحب کو مبارکباد دیں کہ اُن کی بچیوں کے ساتھ کچھ نہیں ہوا اور ڈاکو صرف زیور و نقدی لے کر فرار ہو گئے۔ پروفیسر نعیم اشرف کے بقول اُن کے دوست کی حالت اُس وقت یہ تھی کہ جیسے بچیوں کی عزت بچ جانے پر وہ سب افسوس کا اظہار کر رہے ہوں کہ انہیں ہمدردی کے اظہار کا موقع نہیں ملا، جس معاشرے میں خواتین اور بچیوں کی عزت بچ جانے پر لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دیں اُس معاشرے میں زوال کی اور کیا گواہی چاہئے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر کڑے فیصلے کرے، نہ صرف سخت قوانین بنائے جائیں، بلکہ ان جرائم کی سماعت کے لئے علیحدہ عدالتیں بھی ہر ضلع میں قائم کی جائیں، ایسے مقدمات کے لئے سپیشل پراسیکیویشن کا نظام وضع  کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں کی سماعت کے بعد فیصلہ سنا کر فوری انصاف کی مثال قائم کی جائے، صرف یہی وہ طریقہ ہے،جو اس درندہ بنتے معاشرے کو راہِ راست پر لا سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -