واردات کے بعد

واردات کے بعد
واردات کے بعد

  

ڈیفنس لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے،موٹروے کے ایک ٹکڑے پر ایک خاتون کے ساتھ جو کچھ ہوا،اس نے پورے مُلک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اِس واردات کی مذمت کے لیے لغت میں الفاظ کم پڑ گئے ہیں۔اسے نہ صرف لوٹا گیا،بلکہ اس کے بچوں کے سامنے اُس کی آبروریزی بھی کی گئی۔ دو  درندوں نے ایک گھرانے،اور ایک خاندان ہی کا نہیں ہر اُس شخص کا سکون چھین لیا، جس کے سینے میں دھڑکتا  ہوا دِل موجود ہے۔واقعہ تو از حد افسوس ناک، بلکہ الم ناک، بلکہ شرمناک تھا ہی، اس کے بعد جو کچھ سامنے آیا، اس نے تو دِل کو ایسے کچوکے لگا ئے ہیں کہ جن کی کسک کم ہونے میں نہیں آ رہی۔ سیالکوٹ لاہور موٹروے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے،لیکن موٹروے پولیس نے اس کی سیکیورٹی نہیں سنبھالی،اس کے لیے جو افرادی قوت اور دیگر لوازمات درکار تھے، وزارتِ مواصلات نے ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی،اس کے پُرجوش وزیر مراد سعید جو اپنی گرم گفتاری کے سبب خاص شہرت کما چکے ہیں،اور ہر وقت اپنی کارکردگی کی تفصیلات پیش کر کر کے داد طلب کرتے رہتے ہیں، فائل پر سوئے رہے۔اسی موٹروے پر موقوف نہیں، لاہور سے ملتان تک جانے والا حصہ بھی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے،لیکن وہاں ابھی تک کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے۔ سروس ایریاز کام کر رہے ہیں، نہ پٹرول پمپ چالو ہوئے ہیں۔ کئی ماہ گذرنے کے باوجود معاملات جوں کے توں ہیں۔ لاہور، سیالکوٹ موٹروے سے متعلقہ امور کی نگہداشت کے لیے تو کوئی موجود ہی نہیں ہے،پنجاب پولیس تک کو دستے متعین کرنے کے لیے نہیں کہا گیا، لیکن ٹول پلازہ جیب گرم کرنے کے لیے حاضر  ہے۔ اگر انتظامات نہیں ہو پا رہے تھے، تو پھر موٹروے کو بند ہی رکھا جاتا، لیکن جان، مال، عزت اور آبرو کے احساس سے یکسر بے نیاز وزارت مواصلات کو شاید معقولیت کی ”م“ بھی چھو کر نہیں گئی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ واردات کے فوری بعد لاہور کے سی سی پی او منظر عام پر آئے،اور نشانہ بننے والی خاتون ہی کو نشانہ بنا ڈالا کہ وہ رات گئے سفر کیوں کر رہی تھی؟ اس نے  یہ بے آباد راستہ اختیار کیوں کیا؟ جی ٹی روڈ کے ذریعے کیوں گوجرانوالہ روانہ نہیں ہوئی؟اس بے شرمی نے قوم کے احساسِ شرم کو  مزید گہرا کر دیا کہ  پولیس کا سربراہ مجرموں کی سرکوبی کے لیے دن رات ایک کرنے کے بجائے مظلوم خاتون پر برس رہا ہے……اس جلتی پر تیل یوں ڈالا گیا کہ وزرائے کرام کی بڑی تعداد نے اس کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا،اور تاویلیں ڈھونڈنے لگے، اور تو اور، اسد عمر جیسے  اعلیٰ تعلیم یافتہ وزیر  کے سامنے جب برادرم حامد میر نے اپنے شو میں سی سی پی او کے قابل ِ مذمت الفاظ رکھے تو ان کا ترت جواب تھا،اس میں کوئی بات غیر قانونی نہیں ہے،پھر سی سی پی او کے خلاف قانونی کارروائی کیسے کی جا سکتی ہے؟…… حیران ہوں دِل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں ……وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی محترم کامران خان کو انٹرویو دیتے ہوئے ارشاد فرما دیا کہ سی سی پی او کے معاملے میں میڈیا نے مبالغے سے کام لیا ہے۔ اس کے بعد سی سی پی او کو اپنی اداؤں پر غور کرنے کی ضرورت کیا تھی،وہ مزید بونگیاں مارنے میں مصروف ہو گئے۔

اخبار نویسانہ چھان پھٹک سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ مظلوم خاتون دو گھنٹے سے زیادہ موٹروے کے ویرانے میں موجود رہی۔اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا تھا،اس نے کئی دروازوں پر دستک دی،لیکن اس کی بروقت امداد ممکن نہ ہو سکی۔موٹروے پولیس نے اسے ایف ڈبلیو او کے سپرد کر دیا، ایف ڈبلیو او نے ایک  اور دروازہ دکھا دیا، یوں وقت ضائع ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ درندے آ پہنچے۔اگر ایف ڈبلیو او کے اہلکار خود ذمہ داری اٹھا لیتے اور فقہی نکات میں نہ اُلجھتے، پولیس کو حرکت میں لے آتے، یا ٹول پلازہ پر موجود افراد کو دوڑاتے کہ ایک، دو کلو میٹر کے فاصلے پر  موجود رکی ہوئی گاڑی تک پہنچا جا سکتا تھا، اور اس کی حفاظت کی جا سکتی تھی۔متعلقہ اداروں میں سے کسی  کے کسی اہلکار نے بھی اس حقیقت کا ادراک نہیں کیا کہ خاتون سڑک کے جس حصے پر پھنس گئی ہے، وہاں اندھا ویرانہ ہے، اور پٹرول کی فراہمی سے زیادہ اس کی اور اس کے بچوں کی سلامتی کی طرف توجہ دی جانی چاہیے۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے تو وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ طلب کر لیا ہے کہ اس گھناؤنی واردات، اور اس کی وجوہات میں پوشیدہ حکومتی اداروں کی غفلت، بے حسی اور  نااہلی کی ذمہ داری براہِ راست ان پر عائد ہوتی ہے۔ یہ کہ وزیراعظم صاحب نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر جو جو کچھ کہہ رکھا ہے،اس کی روشنی میں،(ان کے اپنے فراہم کردہ دلائل کے مطابق) ان سے استعفے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے،لیکن اس مطالبے کی تائید کے بجائے توجہ مجرموں کی تلاش اور انہیں انتہائی کڑی سزا دلانے کی طرف مبذول رکھی جائے تو مناسب ہو گا۔ترقی یافتہ ممالک میں بھی روح فرسا واقعات پیش آ سکتے ہیں،اور آتے رہتے ہیں، کہا جا سکتا ہے کہ کسی معاشرے کو جرائم سے مکمل طور پر پاک نہیں کیا جا سکتا۔ہر ملک میں موجود قانون نافذ کرنے والے ادارے، بھری ہوئی جیلیں،اور سزائیں سنانے والی عدالتیں موجود ہیں،لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ کسی واردات کے ذمہ دار کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانا مہذب معاشروں میں اولین فریضہ قرار دیا جاتا ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوتاہیوں اور غفلتوں سے مجرمانہ ذہنیت پروان چڑھتی، اور مجرموں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔وطن ِ عزیز میں آئے روز بچیوں اور بچوں کو جنسی خواہشات کی بھینٹ چڑھا کر قتل کر دیا جاتا ہے۔سڑکوں پر حادثات میں بھی سینکڑوں افراد لقمہ ئ  اجل بنتے چلے جاتے ہیں، اور ان سے زیادہ اپاہج ہو جاتے ہیں،لیکن کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔وزیراعظم عمران خان اپنی جماعت کے سابق صدر کی بات پر توجہ نہ دیں تو بھی ان سے یہ مطالبہ تو کیا جا سکتا ہے کہ جب تک موٹروے سانحہ کے درندے گرفتار نہیں کر لیے جاتے، انہیں اپنے اوپر نیند حرام کر لینی چاہیے۔ مجرموں کی سرکوبی، یعنی عوامی مطالبے کے مطابق انہیں پھانسی پر لٹکا دینے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے معاملات پر گہرے غور و خوض کی ضرورت ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوریاں، انہیں حکومتی سیاست کے لیے استعمال کرنے کا شوق عدالتی نظام کی پیچیدگیاں، میڈیا کی پیدا کردہ ثقافتی الجھنیں، بے راہ روی، اور بدکرداری کی تلقین کرتے ڈرامے، بڑھتی ہوئی  آبادی، بے روز گاری اور جہالت کا طوفان، سب مل کر ہماری جنت کو جہنم کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ سیاسی رہنما ایک دوسرے کو بے عزت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، مذہبی حلقوں میں نعرہ باز، فرقہ پرست دندناتے پھرتے ہیں کہ قوم کو تقسیم کرنے کے یہ موثر ترین ”آلات کار“ ہیں۔اگر ہمہ گیر اقدامات نہ کیے گئے، پھر جو ہو گا، اس کا اندازہ لگانے،اور اسے (قبل از وقت) دیکھنے کے لیے کسی سرمہ ئ  سلیمانی کی ضرورت نہیں۔ مدینے کی ریاست بنانے کے جو دعوے وزیراعظم عمران خان کرتے،اور اس حوالے سے امید کی جوت جگائے رکھتے ہیں، ان سے دست بستہ گذارش ہے کہ اپنی ساری توانائی قانون کی حاکمیت کے لیے صرف کریں۔اداروں کو غلام بنانے کی خواہش دِل سے یکسر نکال دیں،الفاظ کی جمع تفریق سے منزل حاصل ہونا تو کجا اس کی طرف چند قدم بھی بڑھائے نہیں جا سکیں گے۔

ڈاکٹر صفدر محمود کی دو کتابیں 

گذشتہ چند روز کے دوران دو ایسی کتابیں شائع ہوئی ہیں، جن کا مطالعہ پاکستانی سیاست اور صحافت سے وابستہ ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔ ”انٹرو ڈیوسنگ فاؤنڈز آف پاکستان“Introducing Founders of Pakistanجناب ڈاکٹر صفدر محمود اور جناب جاوید ظفر کی مشترکہ تصنیف انگریزی زبان میں ہے۔ برسوں پہلے چھپنے والی کتاب کا تازہ ایڈیشن نئی آب و تاب سے شائع ہوا ہے، جس میں  شاہ ولی اللہ سے لے کر قائداعظم محمد علی جناحؒ تک آٹھ اُن شخصیات کا دلآویز تذکرہ ہے، جنہیں تحریک پاکستان میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔انگلش میڈیم تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لیے یہ ایک تحفہئ خاص ہے۔عام پڑھنے والے بھی اس سے یکساں استفادہ کر سکتے ہیں اور اپنے محسنوں کے حالات سے یکساں واقف ہو کر اپنے اندر وہ جذبہ ئ بیداری رکھ سکتے ہیں، جو پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔ دوسری کتاب ”سچ تو یہ ہے“ ڈاکٹر صفدر محمود کے کالموں کا مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی عمر کا بڑا حصہ سرکاری ملازمت میں گذرا،اعلیٰ عہدوں پر فائزرہے،لیکن پاکستان کی تاریخ اور تحریک سے ان کی دلچسپی کم نہیں ہوئی۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ وہ اس موضوع پر اتھارٹی کی حیثیت حاصل کر چکے۔ قائداعظم ؒ اور تحریک پاکستان کے حوالے سے جو غلط فہمیاں داستہ یا ناداستہ پھیلائی جاتی ہیں، ڈاکٹر صاحب تحقیق و جستجو کے بعد ان کا رد کرتے، اور حقیقت تک پہنچا کر دم لیتے ہیں۔ ان کے سامنے کسی کا چراغ نہیں جل سکتا۔یہ مجموعہ بھی ہر گھر، ہر دفتر، ہر لائبری میں ہونا چاہیے۔ اہل ِ صحافت کو تو اسے سطر سطر اور  ورق ورق یاد کر لینا چاہیے کہ جھوٹوں اور جھوٹ پھیلانے والوں کو  ان کی نانیوں اور  دادیوں سمیت ان کے گھر تک پہنچایا جا سکے۔

(یہ کالم روزنامہ ”پاکستان“ اور روزنامہ ”دُنیا“ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید :

رائے -کالم -