کراچی،عمارت میں آتشزدگی،ایک ہی خاندان کے 4افراد جاں بحق

  کراچی،عمارت میں آتشزدگی،ایک ہی خاندان کے 4افراد جاں بحق

  

 کراچی(کرائم رپورٹر)کراچی کے علاقے ہجرت کالونی میں واقع تین منزلہ رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی کے باعث جھلسنے اور دھویں کے باعث دم گھٹنے سے ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے۔جاں بحق ہونے والوں میں دادی، پوتی، بیٹا اوربہو شامل ہیں عمارت میں آگ لگنے کے دوران ایک بیٹے نے جان بچانے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگادی، شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا، دھویں کے باعث مزید 3 افراد بھی متاثرہوئے،عمارت میں آتشزدگی کے باعث پہلی اور دوسری منزل پر موجود گھروں جبکہ میزنائن پر موجود کشن کے کارخانے، گراؤنڈ فلور پر دودھ اور ٹیلر کی دکانوں میں رکھا سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔فائر بریگیڈ اور کے پی ٹی کی تین فائر ٹینڈز نے تقریبا ڈیڑھ سے دو گھنٹوں کی سخت کوششوں کے بعد عمارت میں لگی آگ پر قابو پا لیا۔تفصیلات کے مطابق ہفتے کی علی الصبح سول لائن تھانے کے علاقے ہجرت کالونی بلاک نمبر دو گلی نمبر4 میں واقع گراؤنڈ پلس تین منزلہ رہائشی عمارت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیارکرلی اورعمارت کی 2 منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع پر پولیس اوررضا کار تنظیموں کے نمائندے موقع پرپہنچ گئے اور فوری طور پر  محکمہ فائر بریگیڈ کو طلب کر لیا گیا اسی دوران آگ مزید پھلتی چلی گئی اورآگ کے شعلے بلند ہونے لگے، آگ نے عمارت کے گراؤنڈ فلور پر واقع دودھ اور درزی کی دکان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس دوران متاثرہ عمارت کے مکین  نوجوان26 سالہ اویس ولد محمد طالب نے اپنی جان بچانے کے لیے پہلی منزلہ سے چھلانگ لگادی جس کے باعث وہ شدید زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کردیا۔عمارت میں آتشزدگی کے باعث عمارت کی دوسری اورتیسری منزل کے رہائشی افراد فوری طور پرمحفوظ مقام پر منتقل ہو گئے جبکہ پہلی منزلہ کے رہائشی خاندان  رہائشی عمارت میں پھنس گئے اور انہیں عمارت سے باہر نکلنے کا موقع نہیں ملا۔عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع پر پہلے فائر بریگیڈ کی ایک فائر ٹینڈر موقع پر پہنچی اورآگ پرقابوپر پانے کی کوششیں شروع کردی گئیں اس دوران محمکہ فائر بریگیڈ نے مزید مدد طلب کرلی جس پرفائربریگیڈ اورکے پی ٹی کی ایک ایک فائرٹینڈرموقع پرپہنچ گئیں اور عمارت میں لگی آگ پرقابو پانے کی کوششیں تیزکردی گئیں تاہم تنگ گلیوں اورعوام کے رش کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔فائربریگیڈ کے عملے نے تقریبا ڈیڑھ سے 2 گھنٹوں کی سخت کوششوں کے بعد عمارت میں لگنے والی آگ پرقابو پا لیا،کولنگ اورمتاثرہ عمارت کی سرچنگ کے دوران پہلی منزل پرپھنسے8 افراد جن میں بچے اورخواتین شامل تھیں کوانتہائی تشویشناک حالت میں سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کردیا گیا۔ جہاں پہلی منزل کے رہائشی محمد طالب کی فیملی کے3 افراد دھواں بھرنے اورجھلسنے کے باعث دوران علاج دم توڑگئے۔جاں بحق ہونے والوں میں دادی، پوتی، بیٹا اوربہو شامل ہیں،جاں بحق ہونے والوں کی شناخت2سالہ آیت ولد توقیر، 45 سالہ خاتون عشرت، 30سالہ وسیلہ جبکہ 20 سالہ شہریار کے ناموں سے ہوئی ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق متاثرہ عمارت میں 2 سگے بھائی اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔دوسری جانب علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اطلاع کے باوجود فائر بریگیڈ آدھے گھنٹے تاخیر سے پہنچی۔اس حوالے سے تھانہ سول لائن پولیس نے بتایاکہ آتشزدگی کا واقعہ ہجرت کالونی کی گلی نمبر4 میں موجود ایک عمارت میں پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ آتشزدگی کے نتیجے میں 2 سالہ آیت ولد توقیر، 45 سالہ خاتون عشرت، 30 سالہ وسیلہ جبکہ 20 سالہ شہریار جاں بحق ہوئے۔پولیس کے مطابق واقعے میں 5 افراد زخمی بھی ہوئے جن کی شناخت طالب، شہزاد، سنبل، توقیر اور اویس کے نام سے ہوئی۔پولیس نے بتایاکہ زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا۔پولیس نے بتایا کہ آتشزدگی کے موقع پر ریسکیو آپریشن کے دوران دھویں سے ایک پولیس کانسٹیبل نعیم گجر کی حالت غیر ہوگئی تھی جسے طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔

وسائل کی درست تقسیم ریاست کی ذمہ داری ہے:صدر مملکت

 سانگھڑ(این این آئی)صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہاہے کہ عوامی حقوق کا تحفظ اوروسائل کی درست تقسیم ریاست کی ذمہ داری ہے،کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے بہتر پالیسیوں کے باعث پاکستان سارے ممالک میں زیادہ کامیاب ثابت ہوا ہے،عوام کے تعاون سے وبا پرقابوپانے میں مدد ملی، متاثرین بارش و سیلاب کو امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے گا، سندھ کا کوئی حصہ لاوارث نہیں ہے، پورے سندھ میں شہریوں کو امداد فراہم کی جائے گی، سندھ میں شہریوں کو امداد کی فراہمی کیلئے پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت مل کر کام کریں گے تو حالات میں بہتری آئے گی۔ ہفتہ کو سانگھڑ کی تحصیل جام نوازعلی میں بارشوں اورسیلاب سے متاثرہ شہریوں میں امدادی سامان رقسہم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت نے کہاکہ عوامی حقوق کا تحفظ اوروسائل کی درست تقسیم ریاست کی ذمہ داری ہے، حکومت ٹیکس لینے کے بدلہ میں شہریوں کو روزگار فراہم کرتی ہے اورمزدوروں، کسانوں اورمحنت کشوں کو استحصال سے بچانے کویقینی بناتی ہے۔ صدرنے کہاکہ جب کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو معیشتیں تباہ ہوئیں، لوگ بے روزگارہوئے، پاکستان کے مشرق میں جوکچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہیں، ہندوستان میں حکومت نے لاک ڈاون کیا اورلوگوں سے کہاکہ اپنے گھروں کوجائے، بھارت کی حکومت نے لوگوں کو کہاکہ ہمیں کوئی فکرنہیں کہ وہ اپنے گھروں اورعلاقوں میں کیسے پہنچتے ہیں، اس دوران وہاں پرعورتوں نے راستوں میں بچوں کوجنم دیا،یہ پالیسی درست نہیں تھی کیونکہ یہ اشرافیہ کی پالیسی تھی، اشرافیہ کے پاس پیسے اور وسائل تھے اوروہ چند مہینے گذارسکتے تھے۔ صدرنے کہاکہ پاکستان کے عوام نے جن لوگوں کومنتخب کیا انہوں نے ایسی پالیسیاں بنائی جس سے وبا میں زیادہ بے روزگاری نہیں ہوئی، پاکستان میں صنتعیں چلتی رہی، پاکستان کے عوام نے حکومت کی جانب سے تجویز کردہ احتیاطی تدابیرکاخیال رکھا، عوام کے تعاون سے وبا پرقابوپانے میں مدد ملی۔ صدر نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے بہتر پالیسیوں کے باعث پاکستان سارے ممالک میں زیادہ کامیاب ثابت ہوا ہے۔ دنیا نے کہا کہ اگر کسی نے سیکھنا ہو تو پاکستان سے سیکھے، یہ کامیابی عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ صدر نے کہا کہ سمارٹ لاک ڈان کی پالیسی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان میں رمضان کے دوران مساجد میں تراویح چلتی رہی حالانکہ پوری اسلامی دنیا میں تراویح نہیں ہوئی۔ اس میں فوج، پولیس کی مداخلت کے بغیر شہریوں نے احتیاطی تدابیر میں اپنا کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں اللہ کی مدد بھی شامل ہوئی۔ صدر نے کہا کہ کورونا کے بعد بارشوں اور سیلاب کی مشکلات آئیں۔ کراچی اور سندھ میں بارشوں سے نقصان ہوا۔ سندھ کے ہر حصے سے آواز اٹھی کہ ان کے مسائل نہیں سنے جا رہے۔ میڈیا بھی زیادہ تر چونکہ شہری ہے اس لئے کراچی پر زیادہ توجہ دی گئی۔ یہ بھی کہا گیا کہ کراچی یتیم اور لاوارث ہے۔ صدر نے کہا کہ سندھ کا کوئی بھی حصہ لا وارث نہیں ہے اور پورے سندھ کی فکر کریں گے۔ وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ سارے مسائل اشتراک کار سے حل کریں گے۔ صدر مملکت نے کہا کہ کورونا وائرس کے دوران حکومت نے شفاف طریقے سے ایک کروڑ 69 لاکھ خاندانوں کو احساس پروگرام کے ذریعے امداد فراہم کی۔ ان خاندانوں کو 200 ارب روپے سے زائد کی امداد فراہم کی گئی، پاکستان ایک غریب ملک ہے لیکن اگر حکومت عوام کے بارے میں سوچے تو شہریوں کو امداد فراہم کی جاسکتی ہے اور پاکستان نے یہ ممکن کر دیکھایا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی کہا کہ وہ احساس پروگرام سے سیکھے۔ اس پروگرام کے ذریعے پاکستان نے اپنی 60 فیصد آبادی کو امداد پہنچائی۔ 

مزید :

صفحہ اول -