تعلیمی ادارے شیڈول کے مطابق کھولیں جائیں گے،سعید غنی 

  تعلیمی ادارے شیڈول کے مطابق کھولیں جائیں گے،سعید غنی 

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے مقرر کردہ شیڈول کے مطابق کھولیں جائیں گے اور اس حوالے سے جہاں حکومت اور انتظامیہ بھرپور تیاریاں کررہی ہیں وہاں نجی تعلیمی اداروں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جاری کردہ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ اسکول وین میں آنے والے بچوں کے حوالے سے والدین جاری کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اورکوشش کریں کہ اگر ممکن ہو تو وہ بچوں کو خود اسکول چھوڑنے اور لینے کا انتظام کریں۔ جو نجی تعلیمی ادارے کرونا کے باعث اپنی رجسٹریشن کی تجدید نہیں کراسکیں ہیں ان کی آئندہ تعلیمی سال کی ازخود تجدید کردی جائے گی تاہم انہیں اس حوالے سے جو قواعد و ضوابط اور کاغذی کارروائیاں ہیں وہ پورا کرنا ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز اپنی زیر صدارت نجی تعلیمی اداروں کی مختلف ایسوسی ایشنز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری تعلیم سندھ احمد بخش ناریجو، ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز منصوب احمد صدیقی، ماہر تعلیم شہناز وزیر علی اور دیگر بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے کھولنے کے حوالے سے ایک نیشنل پالیسی مرتب دی گئی ہے اور ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے کے لئے تمام مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ انہیں تین مختلف فیز میں کھولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کلاس نہم تا جامعات تک 15 ستمبر کو جبکہ کلاس 6 تا 8 تک 21 ستمبر جبکہ پری پرائمری اور پرائمری کلاسز 28 ستمبر کو کھولی جارہی ہیں۔ انہوں نے نجی اسکولز کی ایسوسی ایشنز پر واضح کیا کہ تمام نجی اسکولز اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان تاریخوں پر مکمل طور پر عمل درآمد کریں۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نجی تعلیمی ادارے فراہم کردہ ایس او پیز مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس موقع پر مختلف نجی تعلیمی اداروں کی تنظیموں کے عہدیداران نے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس حوالے سے اپنی بھرپور تیاریوں کا سلسلہ شروع کرچکیں ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ تعلیمی اداروں کے باعث بچوں میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ نہ ہو۔ ان عہدیداران نے صوبائی وزیر سے استدعا کی کہ چونکہ جو بچے مختلف اسکول وین یا ٹرانسپورٹ کے ذریعے اسکول آتے ہیں اس حوالے سے بھی کوئی حکمت عملی مرتب کی جائے۔

مزید :

صفحہ اول -