وسائل کی درست تقسیم ریاست کی ذمہ داری ہے:صدر مملکت

وسائل کی درست تقسیم ریاست کی ذمہ داری ہے:صدر مملکت

  

 سانگھڑ(این این آئی)صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہاہے کہ عوامی حقوق کا تحفظ اوروسائل کی درست تقسیم ریاست کی ذمہ داری ہے،کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے بہتر پالیسیوں کے باعث پاکستان سارے ممالک میں زیادہ کامیاب ثابت ہوا ہے،عوام کے تعاون سے وبا پرقابوپانے میں مدد ملی، متاثرین بارش و سیلاب کو امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے گا، سندھ کا کوئی حصہ لاوارث نہیں ہے، پورے سندھ میں شہریوں کو امداد فراہم کی جائے گی، سندھ میں شہریوں کو امداد کی فراہمی کیلئے پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت مل کر کام کریں گے تو حالات میں بہتری آئے گی۔ ہفتہ کو سانگھڑ کی تحصیل جام نوازعلی میں بارشوں اورسیلاب سے متاثرہ شہریوں میں امدادی سامان رقسہم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت نے کہاکہ عوامی حقوق کا تحفظ اوروسائل کی درست تقسیم ریاست کی ذمہ داری ہے، حکومت ٹیکس لینے کے بدلہ میں شہریوں کو روزگار فراہم کرتی ہے اورمزدوروں، کسانوں اورمحنت کشوں کو استحصال سے بچانے کویقینی بناتی ہے۔ صدرنے کہاکہ جب کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو معیشتیں تباہ ہوئیں، لوگ بے روزگارہوئے، پاکستان کے مشرق میں جوکچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہیں، ہندوستان میں حکومت نے لاک ڈاون کیا اورلوگوں سے کہاکہ اپنے گھروں کوجائے، بھارت کی حکومت نے لوگوں کو کہاکہ ہمیں کوئی فکرنہیں کہ وہ اپنے گھروں اورعلاقوں میں کیسے پہنچتے ہیں، اس دوران وہاں پرعورتوں نے راستوں میں بچوں کوجنم دیا،یہ پالیسی درست نہیں تھی کیونکہ یہ اشرافیہ کی پالیسی تھی، اشرافیہ کے پاس پیسے اور وسائل تھے اوروہ چند مہینے گذارسکتے تھے۔ صدرنے کہاکہ پاکستان کے عوام نے جن لوگوں کومنتخب کیا انہوں نے ایسی پالیسیاں بنائی جس سے وبا میں زیادہ بے روزگاری نہیں ہوئی، پاکستان میں صنتعیں چلتی رہی، پاکستان کے عوام نے حکومت کی جانب سے تجویز کردہ احتیاطی تدابیرکاخیال رکھا، عوام کے تعاون سے وبا پرقابوپانے میں مدد ملی۔ صدر نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے بہتر پالیسیوں کے باعث پاکستان سارے ممالک میں زیادہ کامیاب ثابت ہوا ہے۔ دنیا نے کہا کہ اگر کسی نے سیکھنا ہو تو پاکستان سے سیکھے، یہ کامیابی عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ صدر نے کہا کہ سمارٹ لاک ڈان کی پالیسی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان میں رمضان کے دوران مساجد میں تراویح چلتی رہی حالانکہ پوری اسلامی دنیا میں تراویح نہیں ہوئی۔ اس میں فوج، پولیس کی مداخلت کے بغیر شہریوں نے احتیاطی تدابیر میں اپنا کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں اللہ کی مدد بھی شامل ہوئی۔ صدر نے کہا کہ کورونا کے بعد بارشوں اور سیلاب کی مشکلات آئیں۔ کراچی اور سندھ میں بارشوں سے نقصان ہوا۔ سندھ کے ہر حصے سے آواز اٹھی کہ ان کے مسائل نہیں سنے جا رہے۔ میڈیا بھی زیادہ تر چونکہ شہری ہے اس لئے کراچی پر زیادہ توجہ دی گئی۔ یہ بھی کہا گیا کہ کراچی یتیم اور لاوارث ہے۔ صدر نے کہا کہ سندھ کا کوئی بھی حصہ لا وارث نہیں ہے اور پورے سندھ کی فکر کریں گے۔ وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ سارے مسائل اشتراک کار سے حل کریں گے۔ صدر مملکت نے کہا کہ کورونا وائرس کے دوران حکومت نے شفاف طریقے سے ایک کروڑ 69 لاکھ خاندانوں کو احساس پروگرام کے ذریعے امداد فراہم کی۔ ان خاندانوں کو 200 ارب روپے سے زائد کی امداد فراہم کی گئی، پاکستان ایک غریب ملک ہے لیکن اگر حکومت عوام کے بارے میں سوچے تو شہریوں کو امداد فراہم کی جاسکتی ہے اور پاکستان نے یہ ممکن کر دیکھایا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی کہا کہ وہ احساس پروگرام سے سیکھے۔ اس پروگرام کے ذریعے پاکستان نے اپنی 60 فیصد آبادی کو امداد پہنچائی۔ 

مزید :

صفحہ اول -