مروہ قتل کیس، پولیس نے 65 سالہ بزرگ کا بھی ڈی این اے سیمپل لے لیا لیکن شک کیوں پڑا؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی

مروہ قتل کیس، پولیس نے 65 سالہ بزرگ کا بھی ڈی این اے سیمپل لے لیا لیکن شک کیوں ...
مروہ قتل کیس، پولیس نے 65 سالہ بزرگ کا بھی ڈی این اے سیمپل لے لیا لیکن شک کیوں پڑا؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی

  

کراچی (ویب ڈیسک) پی آئی بی کالونی کی عیسیٰ نگری میں 5 سالہ بچی مروہ کے اغواء، زیادتی اور قتل کیس میں ملوث ملزمان کا سراغ لگانے کیلئے پولیس نے جن 36 افراد کے ڈی این اے سیمپلز لیے ہیں، ان میں پیر بخاری کالونی کا رہائشی 65 سالہ ایک بزرگ بھی شامل ہے۔بچی کے اغواء کے مقام کے قریب رہائش پذیر 65 سالہ شہری (جن کا نام ظاہر نہیں کیا جارہا) کو پولیس نے ڈی این اے سیمپل لینے کے بعد مشتبہ قرار دے کر حراست میں بھی رکھا ہوا ہے۔

65 سالہ بزرگ پر بچی کے اغواء، زیادتی اور قتل جیسے گھناؤنے جرم میں ملوث ہونے کا شبہ کیوں ہوا؟ اس بارے میں دریافت کرنے پر تفتیشی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ مذکورہ شخص اگرچہ محنت کش ہے اور اس کا کسی سنگین جرائم میں ملوث ہونے کا ریکارڈ بھی نہیں مگر جنسی حوالے سے شکوک و شبہات کی بناء پر یہ قدم اٹھانا پڑا۔

پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں یہ شخص پی آئی بی کالونی میں تھانے میں تواتر کے ساتھ آتا رہا اور  پولیس سے اپنے اچھے چال چلن کا سرٹیفکیٹ لینا چاہ رہا تھا۔ استفسار پر بزرگ شہری نے بتایا کہ اسے شریک حیات کی تلاش ہے، ایک جگہ رشتے کیلئے اس کی بات چل رہی ہے تو لڑکی والے پولیس کی جانب سے اس کے اچھے چال چلن کا سرٹیفکیٹ مانگ رہے ہیں۔اس پر متعلقہ اہلکار نے پوچھا کہ وہ اس عمر میں شادی کیوں کرنا چاہ رہا ہے تو اس کا کہنا تھا کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہے اور اچھی زندگی گزارنے کیلئے یہ سب کررہا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم فروٹ کی دکان پر 800 روپے یومیہ اجرت پر کام کرتا ہے اور اس کی دو بیویوں کا انتقال ہو چکا ہے جب کہ تین بیٹوں میں سے ایک کسی دوسرے علاقے کا رہائشی ہے اور ایک شادی شدہ بیٹا اس کے گھر کی بالائی منزل پر مقیم ہے اور تیسرا بیٹا نشے کا عادی ہے جو اس کے ساتھ اسی گھر میں مقیم ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ شہری کے بیٹے کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جو کہ نشے کا عادی ہے۔

خیال رہے کہ  5 سال کی مروہ کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا مبینہ ملزم گرفتار کرلیا گیا ہے۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزم نواز بچی کا پڑوسی ہے جو دیگر مشتبہ افراد کے ساتھ پہلے ہی زیر حراست تھا، شواہد کی بنا پر باقاعدہ اسے گرفتار کیا گیا اور ڈی این اے رپورٹ آنے کے  بعد مزید تصدیق ہوجائے گی۔

مزید :

جرم و انصاف -علاقائی -سندھ -کراچی -