” میں بے گناہ ہوں ، ڈی این اے ٹیسٹ ٹھیک کراﺅ “موٹر وے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم ماڈل ٹاﺅن تھانہ پہنچ گیا

” میں بے گناہ ہوں ، ڈی این اے ٹیسٹ ٹھیک کراﺅ “موٹر وے زیادتی کیس کا مرکزی ...
” میں بے گناہ ہوں ، ڈی این اے ٹیسٹ ٹھیک کراﺅ “موٹر وے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم ماڈل ٹاﺅن تھانہ پہنچ گیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہور موٹروے پر دوبچوں کے سامنے خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کیس میں مفرور ملزم وقار الحسن از خود ماڈل ٹاﺅن تھانے میں پیش ہو گیا لیکن اس نے جرم ماننے سے انکار کر دیاہےاور ڈی این اے ٹیسٹ ٹھیک کروانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملزم وقار الحسن ماڈل ٹاﺅن میں واقع سی آئی اے تھانے میں خود پیش ہو گیا ہے اور اس نے اپنے ابتدائی بیان میں جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا میں نے کوئی جرم نہیں کیا اور اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے ، میں بے گناہ ہوں اور میرا ڈی این اے ٹیسٹ ٹھیک کروایا جائے ۔ملزم وقار الحسن شیخوپورہ کے علاقے قلعہ ستار کا رہنے والا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پولیس نے دوسرے ملزم وقار الحسن کا نام اور اس کی تصویر پریس کانفرنس کے دوران جاری کی تھی جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے دونوں ملزمان کی اطلاع دینے کیلئے 25 لاکھ روپے کی انعامی رقم کا بھی اعلان کیاہے ۔

پولیس کی جانب سے مرکزی ملزم عابد علی کا نام اور تصویر بھی جاری کی گئی جس کی تاحال کوئی اطلاعا ت نہیں  ،بتایا جارہاہے کہ وہ مفرور ہے ۔ تحقیقات کے دوران گاڑی سے ملنے والے خون اور خاتون کے کپڑوں سے ملنے والے ڈی این اے کے نمونے پہلے سے ڈیٹا بیس میں موجود ملزم عابد کے ساتھ میچ کر گئے تھے، جس کے بعد گزشتہ روز اسے گرفتار کر نے کیلئے چھاپے مارے گئے  تاہم دونوں ملزمان میں سے کوئی بھی گرفتار نہ ہو سکا لیکن آج حیران کن انداز میں ملزم وقار الحسن خود تھانہ سی آئی اے ماڈل ٹاون میں پیش ہو گیاہے۔

یاد رہے کہ 9 ستمبر کو سیالکوٹ موٹر وے پر دو مجرموں نے بچوں کے سامنے خاتون جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور موقع سے فرار ہو گئے تاہم پولیس نے تین روز کی مکمل چھان بین کے بعد ملزموں کا پتا لگایا اور گزشتہ روز ان کی تصاویر کے ساتھ معلومات جاری کی گئیں اور بتایا گیا کہ میڈیا میں تصویریں چلنے سے وہ مفرور ہو چکے ہیں تاہم ان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں ۔

وقار کے بھائی کو تحقیقات کیلئے پولیس نے حراست میں لیا تھا تاہم آج وقار کے باپ نے اسے تھانہ سی آئی اے میں پیش کر دیاہے ۔

یاد رہے کہ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا۔اطلاعات کے مطابق دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ایف آئی آر کے مطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے اپنی کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک اسکی کار کا پیٹرول ختم ہو گیا۔

کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر خاتون شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔جب گاڑی بند تھی تو خاتون نے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر موٹر وے پولیس نے مبینہ طور پر کہا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیں ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق اتنی دیر میں دو مسلح افراد موٹر وے سے ملحقہ جنگل سے آئے اور کار کا شیشہ توڑ کر زبردستی خاتون اور اس کے بچوں کو نزدیک جنگل میں لے گئے جہاں ڈاکوو¿ں نے خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس سے طلائی زیور اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔

خاتون کی حالت خراب ہونے پر اسے ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ خاتون کی طبی ملاحظے کی رپورٹ فرانزک کے لیے بھجوا دی گئی ہے جبکہ خاتون کے رشتے دار کی مدعیت میں پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔پولیس کے مطابق زیادتی کا شکار خاتون کے میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوئی ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -