سینئر کالم نویس نے سی سی پی او لاہور کو تبدیل کرکے پولیس لائن کی کسی مسجد میں امامت کے منصب پر بٹھانے کی تجویز دیدی کیونکہ۔۔۔

سینئر کالم نویس نے سی سی پی او لاہور کو تبدیل کرکے پولیس لائن کی کسی مسجد میں ...
سینئر کالم نویس نے سی سی پی او لاہور کو تبدیل کرکے پولیس لائن کی کسی مسجد میں امامت کے منصب پر بٹھانے کی تجویز دیدی کیونکہ۔۔۔

  

لاہور (کالم: محمد افضل عاجز) میں نے کل اپنی بیٹیوں اور بیٹے کو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ مغرب کے بعد تم لوگ گھر سے باہر نہیں نکل سکتے،کیونکہ اب یہ ملک ایک جنگل میں بدل رہا ہے،جہاں کسی بھی جھاڑی کے پیچھے سے کوئی درندہ تم پر حملہ آور ہوسکتا ہے اور پھر کسی بھی واردات کے بعد آپ کو کہا جاسکتا ہے کہ تم لوگ گھر سے باہر نکلے ہی کیوں ……

روزنامہ پاکستان میں محمد افضل عاجز نے اپنے کالم میں لکھا کہ لاہور کی رنگ روڈ (موٹر وے بائی پاس)پر ایک عورت اور اس کے بچوں کے ساتھ جوالمناک واقعہ پیش آیا ہے اس کے حوالے سے ضلعی پولیس کے سربراہ نے جو بیان دیا ہے وہ شرمناک تو ہے ہی، مگر اس بیان میں ملک میں امن وامان قائم رکھنے والوں کی ذہنیت اور مستقبل کے عزائم کا بھی اشارہ موجود ہے،یعنی پولیس کے ضلعی سربراہ نے بتا دیا ہے کہ آپ لوگ مغرب کے بعد گھروں سے نکلنا بند کر دیں بصورت دیگر اپنے نقصان کے آپ خود ذمہ دار ہوں گے۔

اس واقعے کے بعد وزراءنے نامعلوم ملزمان کی شدید مذمت کی ہے ایک وفاقی وزیر نے تو فرمایا ہے کہ لاہور پولیس کے سربراہ نے کوئی غیر قانونی بات نہیں کی، جس پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے انہوں نے محض ایک بات کی ہے، جو قانونی خلاف ورزی نہیں ہے۔

دراصل جب آپ کسی ایسے منصب پر بٹھا دئیے جاتے ہیں، جس کے آپ اہل ِ نہیں ہوتے تو پھر کسی بھی غیر معمولی واقعے پر آپ کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اور آپ اِدھر ادھر کی ہانکنے لگتے ہیں لاہور پولیس کے سربراہ کے دماغ پر بھی بڑے عہدے کا بوجھ ہے اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بڑے شہر میں امن وامان قائم رکھنے کی ذمہ داری سنبھالنے کے اہل نہیں ہیں،اب سوال یہ ہے کہ مختلف محکموں کے سربراہان اپنی ذمہ داریاں پوری کیوں نہیں کرتے، صاف ظاہر ہے کہ جب ملک کا وزیراعظم آئی جی پنجاب سے لے کر ایک سپاہی تک کی تعیناتی کے معاملات کو اپنی مٹھی میں رکھتا ہو وہاں کسی بھی افسر سے کسی مثبت نتائج کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔

پنجاب میں گزشتہ روز کیا ہوا ایک شخص کو آئی جی پنجاب لگایا گیا تو پھر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسے پورا اختیار دیا جاتا کہ وہ صوبے میں اپنی مرضی کی ٹیم بناے اور پھر امن وامان کی صورتِ حال کو کنٹرول کر کے دکھائے یہاں ہمیں یہ بات ذھن میں رکھنی چاہئے کہ گزشتہ دنوں تبدیل ہونے والے آئی جی پولیس نے ضلعی سربراہ کے تقرر پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ مجھ سے مشاورت نہیں کی گئی جوابا انہیں تبدیل کر دیا گیا، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جس شخص کے بارے انہوں نے خدشات کا اظہار کیا اس شخص نے پہلی پرفارمنس دکھاتے ہوئے ثابت کیا کہ سابق آئی جی پنجاب کے خدشات درست تھے۔ اب کہا جارہا ہے لاہور پولیس کے سربراہ نے مظلوم عورت کے حوالے سے جو بیان دیا ہے وہ لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہے۔سوال یہ ہے کہ ضلعی پولیس کا سربراہ کوئی مبلغ یا موٹی ویشنل سپیکر ہے جو لوگوں کو اس طرح کے لیکچر دے…… ؟ 

دیکھا جائے تو ملک میں سب کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے مثال کے طور پر جب ملک کا وزیراعظم اپنی تقریروں میں ایک مبلغ کے طور پر لیکچر دیتا رہتا ہو اور مسائل کے حوالے سے بے نیاز ہو تو پھر کسی ماتحت کا کیا قصور ہے ہم دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان صاحب نے جب سے وزارتِ عظمی کا منصب سنبھالا ہے انہوں نے ہر مشکل اور ہنگامی صورتحال میں اصل حقائق سے ہٹ کے بات کی مثال کے طور پر کرونا وائرس کے دِنوں میں انہوں ایک وزیراعظم سے زیادہ ایک سرجن کے طور پر قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، انہوں نے کرونا کو ایک عام نزلہ قرار دیا کچھ دن بعد موذی مرض قرار دیا پھر لاک ڈاون کی مخالفت کے باوجود لاک ڈاون جاری رکھا اور پھر ایک ایسے وقت میں لاک ڈاون ختم کر دیا جب اس کی شدید ضرورت تھی،انہی دنوں انہوں نے چندہ مہم شروع کی مگر ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا وہ رقم کہاں گئی،انہی دِنوں انہوں نے ایک ٹائیگر فورس بنائی ان کے اوصاف بیان فرمائے کروڑوں روپے ان کی یونیفارم پر لگاے گئے، مگر نہ معلوم وہ فورس کہاں ہے؟ کشمیر کے حوالے سے تقریر فتح کا ہتھیار قرار دیا ہر جمعہ کو کالی پٹی اور احتجاج کا کہا گیا اور اب کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کشمیر اور کشمیری کس حال میں ہیں،ملک کی قیادت جب خود اپنا کردار ثابت نہ کرسکے تو پھر کوئی بھی محکمہ اپنی کارکردگی کیوں دکھائے؟

بتایا جا رہا ہے کہ پولیس تفتیش میں مصروف ہے اور یہ سب کچھ اس شخص کی سربراہی میں ہو رہا ہے جو شخص یہ کہہ رہا ہے کہ ایک عورت کو رات کے وقت سفر کرنے کی ضرورت کیا تھی……اصولی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب کو سب سے پہلے لاہور کے ضلعی پولیس سربراہ کو تبدیل کرتے ہوئے پولیس لائن کی کسی مسجد میں امامت کے منصب پر بٹھا دینا چاہئے یا پھر سید قاسم شاہ کے ساتھ بطور موٹی ویشنل سپیکر شامل کر دیا جائے، بصورتِ دیگر عورت کے ساتھ زیادتی کرنے والے لوگ اگر پکڑ بھی لیے گئے تو ممکن ہے ضلعی پولیس کے سربراہ ملزمان کا نفسیاتی تجزیہ پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیں چونکہ ملزمان نفسیاتی مریض تھے سو ان حالات میں خاتون خود اس واقعے کی ذمہ دار ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -