موٹروے کیس، پولیس ملزم کو لے کر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے آفس پہنچ گئی، سی سی پی او لاہور عمر شیخ بھی تفتیش کرنیوالوں میں شامل

موٹروے کیس، پولیس ملزم کو لے کر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے آفس پہنچ گئی، سی سی ...
موٹروے کیس، پولیس ملزم کو لے کر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے آفس پہنچ گئی، سی سی پی او لاہور عمر شیخ بھی تفتیش کرنیوالوں میں شامل

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)موٹروے زیادتی کیس میں از خود گرفتاری دینے والے ملزم وقار الحسن کو پولیس کی خصوصی ٹیم لے کر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے آفس میں پہنچ گئی ہے اور  وقار کے برادرنسبتی عباس کو بھی خاندانی ذرائع نے پیش کیے جانے کا امکان ظاہر کردیا، جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ  وقار الحسن سے تفتیش کرنیوالی ٹیم میں سی سی پی او لاہور عمر شیخ بھی شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق موٹروے واقعے کے  مرکزی ملزم عابدعلی کا مبینہ ساتھی وقارالحسن تھانہ سی آئی اے ماڈل ٹائون پیش ہوگیا  تاہم اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے صحت جرم سےانکار کیا۔ملزم کا کہناتھاکہ وہ بے گناہ ہے ، اس کے نام پر دوسمز رجسٹرڈ ہیں جن میں سے ایک ان کے برادرنسبتی عباس استعمال کررہے ہیں۔ دنیا نیوز کے مطابق پولیس ذرائع نے وقار الحسن کے رشتہ دار پر بھی ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے جبکہ خاندانی ذرائع نے عباس کو بھی پیش کیے جانے کا امکان ظاہر کردیا۔

جیونیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ تفتیشی ٹیم میں سی سی پی او لاہور عمر شیخ بھی شامل ہیں ، ان کے علاوہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان ،ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار  اور ڈی ایس پی حسنین حیدر بھی تفتیشی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ملزم سے ان کے برادر نسبتی عباس کے بارے میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے ۔ 

مزید :

اہم خبریں -جرم و انصاف -