جاپان پر امریکا کے ایٹمی حملوں نے کس طرح دنیا تبدیل کردی؟

جاپان پر امریکا کے ایٹمی حملوں نے کس طرح دنیا تبدیل کردی؟
جاپان پر امریکا کے ایٹمی حملوں نے کس طرح دنیا تبدیل کردی؟

  

انسانی تاریخ میں بہت سی ہولناک جنگیں لڑی گئی ہیں جو انسانیت کیلئے تباہی لاتی رہی ہیں، کہا جاتا ہے کہ دو جنگوں کے درمیان کا وقفہ امن کہلاتا ہے، انسان ایک جنگ لڑتا ہے، پھر اس کے بعد آدھا وقت اس کی تباہی سے نبرد آزما ہونے میں گزار دیتا ہے اور آدھا وقت اس طاقت کے گھمنڈ میں گزر جاتا ہے کہ پرانی جنگ کا بدلہ لینا ہے، اس طرح ایک اور جنگ کا آغاز ہوجاتا ہے، موجودہ تہذیب کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے دنیا میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی جنگ لگی ہی رہتی تھی ، جس کے پاس بھی ذرا طاقت ہوتی وہ پڑوسی ممالک پر حملہ آور ہو کر انہیں اپنے مقبوضات میں تبدیل کرلیتا تھا، یہ روایت حضرتِ انسان کی تاریخ جتنی ہی پرانی ہے، اس دوران بعض حکمرانوں کی انا کی تسکین کے چکر میں ہزاروں یا لاکھوں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوجاتیں ۔ تاریخ انسانی میں بعض واقعات ایسے بھی آئے ہیں جنہوں نے وقت کا دھارا بدل کر تاریخ کو نیا رنگ دے دیا، انہی میں سب سے اہم ترین اور سفاکانہ واقعہ جاپان کے 2 شہروں پر ایٹمی حملہ ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ نے برطانیہ کی رضامندی کے ساتھ جاپان پر وہ تباہی مسلط کی جس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، آن کی آن میں لاکھوں انسان بھاپ بن گئے۔ 6 اگست 1945 کو امریکہ نے بی 29 طیارے کے ذریعے جاپان کے ہنستے بستے شہر ہیرو شیما پر جوہری بم گرایا، اس بم کو لٹل بوائے کا نام دیا گیا تھا جس نے پلک جھپکتے میں پورے شہر کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا۔ اس حملے کے نتیجے میں 20 ہزار کے قریب فوجی اور 70 ہزار سے ایک لاکھ 26 ہزار کے قریب عام شہری ہلاک ہوئے۔ ہلاکتوں کے یہ اعداد و شمار صرف ایک تخمینہ ہی ہیں کیونکہ اس وقت ایسا کوئی نظام نہیں تھا جس کے ذریعے ہلاکتوں کا درست اندازہ لگایا جاسکتا۔

ہیرو شیما پر ہونے والے ایٹمی حملے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، انسانی آنکھ نے اس سے پہلے اتنی بڑی تباہی نہ تو دیکھی تھی اور نہ ہی سنی تھی، آن کی آن میں پورا شہر ملبے کا ڈھیر بننے کا یہ پہلا واقعہ تھا جس نے نہ صرف جاپان کی کمر توڑ کر رکھ دی بلکہ جرمنی اور جاپان کے اتحاد کی شکست کو بھی یقینی بنادیا۔ 

ہیروشیما پر قہر ڈھانے کے بعد امریکہ نے جاپان کو سکھ کا سانس نہ لینے دیا اور ایک اور حملہ کرنے کی تیاری کرلی۔ اس بار ناگا ساکی کے شہر کو جوہری حملے کیلئے منتخب کیا گیا، امریکہ کے بی 29 بمبار طیارے نے صبح 11 بج کر 58 منٹ پر شہر پر فیٹ بوائے نامی ایٹمی بم پھینکا۔ ناگاساکی شہر پر پھینکے جانے والے بم کے نتیجے میں 39 ہزار سے 80 ہزار لوگ موقع پر ہی مارے گئے۔ مجموعی طور پر دونوں شہروں پر ایٹمی حملوں میں ایک لاکھ 29 ہزار سے 2 لاکھ 26 ہزار لوگ ہلاک ہوئے۔ یہ ہلاکتوں کی وہ تعداد ہے جو فوری طور پر ہوئیں ، اس کے بعد بھی کئی مہینوں تک لوگ تابکاری کے اثرات کی وجہ سے مرتے رہے اور یہ تعداد کہیں بڑھ گئی۔ ان حملوں کے بعد جاپان کی ہمت جواب دے گئی اور اس نے 14 اگست 1945 کو ہتھیار ڈال دیے۔

سنہ 2020 میں امریکہ کے جاپان پر کیے گئے ایٹمی حملوں کو 75 برس گزر چکے ہیں ، اس دوران دنیا بہت بدل چکی ہے لیکن وہ لوگ آج بھی ان حملوں کو نہیں بھولے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ مناظر دیکھے تھے۔ جاپان میں ہیرو شیما اور ناگاساکی کے حملوں میں بچ جانے والے افراد کو ہیباکشا کہا جاتا ہے، جن کی اکثریت کی عمریں 80 سال سے زائد ہیں اور ایسے لوگ بہت ہی کم رہ گئے ہیں جنہوں نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی کو اپنی آنکھوں سے جلتے دیکھا ہے۔

تاریخی اور معلوماتی ویڈیوز کیلئے ڈیلی پاکستان ہسٹری چینل کو سبسکرائب کریں

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -