جس رات موٹر وے پر زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آتا تب ملزم وقار الحسن کیا کر رہا تھا ؟بھائی نے بتا دیا 

جس رات موٹر وے پر زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آتا تب ملزم وقار الحسن کیا کر ...
جس رات موٹر وے پر زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آتا تب ملزم وقار الحسن کیا کر رہا تھا ؟بھائی نے بتا دیا 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )موٹر وے زیادتی کیس کے ملزم وقار الحسن کے بھائی محمد شبیر نے بتا یا ہے کہ جس رات موٹر وے پر زیادتی کا واقعہ پیش آیا تب وقار الحسن مجلس پڑھنے گیا ہوا تھا اور اس بات کا گواہ بھی موجود ہے ۔(خیال رہے کہ ملزم وقارالحسن کا کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے جس کی تصدیق شیخوپورہ پولیس کے ترجمان نے بھی کی ہے)

نجی نیوز چینل جیو کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد شبیر نے بتا یا کہ گزشتہ روز دن دو بجے کے قریب پولیس والے گھر آئے اور انہوں نے گھر میں موجود میر ے بھائی تنویر حسین اور بھتیجے کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا ،جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں کر رہے ہو تو پولیس اہلکاروں نے کچھ نہیں بتا یا ۔محمد شبیر نے بتا یا کہ جس وقت پولیس اہلکاروں نے گھر پہنچ کر بھائی کو تشدد کا نشانہ بنا یا ،اس وقت میں فیکٹری میں تھا جہاں مجھے فون آیا کہ پولیس اہلکار گھر آئے ہیں اور تنویر حسین کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں ،میں فوری طور پر گھر پہنچا لیکن پولیس نے مجھے گھر نہ جانے دیا ۔پھر پولیس اہلکار میرے بھائی اور بھتیجے کو ساتھ لے گئے ۔اس نے بتا یا کہ جب وقار الحسن کو فون کر کے پوچھا گیا کہ پولیس اہلکار اس کی تلاش میں گھرآئے تھے تو وقار الحسن نے بتا یا کہ وہ مجلس پڑھنے آیا ہوا ہے اس کے بعد وقار الحسن نے فون بند کردیا ۔ایک سوال پر محمد شبیر نے بتا یا کہ آج سے تین چار سال پہلے وقار الحسن کرائے پر موٹر سائیکل دینے کا کام کرتا تھا ،ایک شخص اس سے موٹر سائیکل لے گیا اور پھر واپس نہ آیا جب وقار اس کے گھر موٹر سائیکل لینے گیا تو اس شخص نے کہاکہ موٹر سائیکل نہیں ہے میری یہ دو بکریاں لے جاﺅ ،جب وقار بکریاں لے کر آیا تو اس شخص نے پولیس کو شکایت کردی کہ وقار نے بکریاں چوری کی ہیں ۔محمد شبیر نے مزید کہا کہ وقار الحسن کی ایک سم اس کا سسر اور دو سمیں اس کا سالہ استعمال کرتے تھے ،اگر سالے نے کسی بندے کو فون کیا تو وقار کا کوئی قصور نہیں ۔

مزید :

قومی -