لوگوں کے گھروں میں کم عمر ملازمائیں رکھوا کر لوٹنے والا گروہ ڈیلی پاکستان نے پکڑوادیا

لوگوں کے گھروں میں کم عمر ملازمائیں رکھوا کر لوٹنے والا گروہ ڈیلی پاکستان نے ...
لوگوں کے گھروں میں کم عمر ملازمائیں رکھوا کر لوٹنے والا گروہ ڈیلی پاکستان نے پکڑوادیا

  

گوجرانوالہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) روزنامہ پاکستان نے کم عمر گھریلو ملازماؤں کے ذریعے لوگوں کو لوٹنے والے گروہ کو بے نقاب کردیا۔

روزنامہ پاکستان کی جانب سے کچھ روز پہلے ایک ویڈیو کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح کچھ کم عمر بچیوں کو گھروں میں ملازم رکھوا کر ان کے ذریعے لوگوں کو لوٹا جارہا ہے۔ یہ ویڈیو دیکھ کر گوجرانوالہ کے آصف نے رابطہ کرکے بتایا کہ جو بچیاں فراڈ کرکے بھاگ جاتی ہیں وہ میرے گھر آئی ہوئی ہیں۔

آصف نے پولیس سے مدد لینے کیلئے 15 پر کال کی تو آگے سے اس کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا گیا اور کہا گیا کہ اگر تم نے دوبارہ 15 پر کال کی تو تمہارے خلاف پرچہ کاٹ دوں گا۔ پولیس نے یہی رویہ لاہور میں لٹنے والی فیملی کے ساتھ بھی اپنایا۔ متاثرہ خاتون نے جب 15 پر کال کی تو انہیں باہر ہی معاملہ سیٹل کرنے کا کہا گیا اور دھمکی دی گئی کہ اگر دوبارہ 15 پر کال کی تو مقدمات میں پھنسا دیا جائے گا۔ لاہور کے علاقے واپڈا ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے شفاقت علی نے بھی اسی قسم کی کہانی سنائی اور بتایا کہ اس کے بھی 3 لاکھ روپے لوٹے گئے ہیں۔

گروہ کا سرغنہ اشفاق عرف شاکا ہے جو اپنے کارندوں یوسف ، خالدہ اور اپنی بیوی رضیہ کے ذریعے مختلف گھروں میں اپنی سوتیلی بیٹیوں اور رشتے دار بچیوں کو کام پر رکھواتا ہے اور مالکان کے ساتھ ایک سال کا معاہدہ کرکے ایک سال تک کی ایڈوانس تنخواہ وصول کرلیتا ہے۔ بعد میں چند ہی گھنٹوں کے بعد یہ بچیاں فرار ہوجاتی ہیں اور سیشن کورٹ کے ذریعے رٹ کرکے الٹا گھر والوں کو ہی بلیک میل کرنا شروع کردیا جاتا ہے۔ جب بچیاں گھر سے بھاگ جاتی ہیں تو اسی دن شام کو بچیوں کو ملازم رکھنے والے شخص کو کال کی جاتی ہے کہ آپ نے بچیوں کو اغوا کیا اور ان پر تشدد کرتے ہیں، اس طرح متاثرہ فیملی کو ہی بلیک میل کرکے مال بٹورا جاتا ہے۔ کم عمر بچیوں کے ذریعے فراڈ کرنے والے گروہ میں پولیس اہلکار اور چند وکلا بھی شامل ہیں۔

روزنامہ پاکستان کے نمائندے نے جب اس گروہ کے حوالے سے 15 پر کال کی تو پولیس موبائل تو آگئی لیکن انہوں نے کوئی بھی کارروائی کرنے سے انکار کردیا اور الٹا مدعی کو ہی دھمکیاں دینے لگے۔ بعد ازاں ایس پی حفیظ بگٹی سے رابطہ کیا گیا تو وہ موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے ڈی ایس پی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرکے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا اور بچیوں کو چائلد پروٹیکشن بیورو کے حوالے کردیا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -گوجرانوالہ -