موٹر وے کیس کی تفتیش درست سمت میں گامزن، پریس کانفرنس میں مس مینجمنٹ ہوئی، فیاض الحسن چوہان کا اعتراف

موٹر وے کیس کی تفتیش درست سمت میں گامزن، پریس کانفرنس میں مس مینجمنٹ ہوئی، ...
موٹر وے کیس کی تفتیش درست سمت میں گامزن، پریس کانفرنس میں مس مینجمنٹ ہوئی، فیاض الحسن چوہان کا اعتراف

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب  فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ موٹروے زیادتی کیس کی تفتیش درست سمت میں جا رہی ہے تاہم گزشتہ روز ہونے والی پریس کانفرنس میں مس مینجمنٹ ہوئی۔

نجی ٹی وی ""دنیا نیوز"" سے گفتگو میں  فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ متاثرہ خاتون نے 130 پر کال کی تھی ،یہ موٹروے کی ہیلپ لائن تھی،راہ چلتے بندوں نے ون فائیو پر کال کی تھی جس کے پندرہ بیس منٹ بعد ڈولفن فورس کے اہلکار پہنچ گئے تھے،ہم نے حادثے کے بعد کیا سیکھا ؟وزیر اعلیٰ پنجاب  نے فوری طور پر آئی جی ،وزیر قانون اور ہوم سیکرٹری کو بٹھا کر یہ چیز طے کر دی ہے کہ 130 کو ون فائیو  اور 1122 کے ساتھ انٹر کنیکٹ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزم عابد 23 جون 2013 میں خادم اعلیٰ کے دور میں اپنے چار بندوں کے ساتھ  مل کر فورٹ عباس کے ایک  گھر میں گھس کر خاوند کے سامنے ایک عورت  اور بچی کا ریپ کیا ،6 مہینے کے بعد دسمبر  2013 میں یہی عابد پولیس کی نا اہلی کے باعث عدالت سے با عزت بری ہوتا ہے جبکہ 3 مہینے کے بعد مارچ 2013 میں اسی فرانزک سائنس ایجنسی  سے اس کیس کی رپورٹ آ رہی تھی، اب کیس کی درست سمت میں تفتیش جاری ہے،جلد ہی اصل ملزم قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے عدالتی ، پولیس اور سیاسی سسٹم میں خامیاں ہیں جن خامیوں کی وجہ سے یہ ساری چیزیں ہمیں بگھتنے پڑ رہی ہیں،جنہیں درست کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب کے زیر صدارت میٹنگ ہوئی جس میں صرف چند افراد تھے، میٹنگ میں آئی جی نے کہا کہ ایک گھنٹے میں ملزم کو پکڑ لیں گے،ہم سب کچھ پوشیدہ رکھنے کی کوشش کر رہے تھے،میڈیا پر خبریں چلنے سے مسئلہ پیدا ہوا اسلام آباد سے ایک دوست کےٹویٹ سے بھی مسئلہ پیدا ہوا، تصاویر دکھانے سے ملزم عابد علی الرٹ ہوا، ملزم سے متعلق میڈیا پر مسلسل خبریں اور تصویریں چلنے سے پریس کانفرنس کرنا پڑی، کل کی پریس کانفرنس میں مس مینجمنٹ ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ 72گھنٹے میں اصل ملزمان کا سراغ لگا لیا گیا جبکہ دوسری جانب زینب کیس میں ملزمان کا 3 ماہ میں بھی سراغ نہیں لگایا جا سکا تھا، دونوں ملزمان کا سراغ جیو فینسنگ کے ذریعے لگایا گیا، ملزمان کیخلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے،ہماری کوشش ہے کہ اس کیس میں ماضی کی طرح ملزم عابد علی بری نہ ہو، واقعہ کی تحقیقات کیلئے 28 ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ملزم وقار الحسن کے پیش ہونے پر ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیقاتی ٹیموں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، ملزم عابد علی کے فون ریکارڈ سے وقار الحسن تک پہنچے، اس کے پاس پیش ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا، ملزم نے اپنے بیان میں عباس کا نام لیا ہے، مبینہ ملزم عباس کو بھی جلد گرفتار کر لیں گے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -