ہمارے قائد اور ہم

  ہمارے قائد اور ہم
  ہمارے قائد اور ہم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


قدرت کے فیصلوں کے سامنے انسان بے بس ہوتا ہے، اور ایمان کا تقاضہ یہی ہے کہ قدرت کے فیصلوں کو تسلیم کیا جائے، لیکن جب کسی انسان کے رویے سے نقصان ہورہا ہو تو پھر قدرت سے ہی دُعا کی جاتی ہے کہ وہ رحم بھی کرے اور انصاف بھی مہیا کرے، بانی ئ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ جیسا انسان، رہنماء، کھرا اور سچا مخلص لیڈر برصغیر کے مسلمانوں کو اب کم ہی نصیب ہوگا، ان کی قیادت میں مختصر مدت میں بر صغیر کے مسلمان اپنے لئے ایک الگ مملکت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، ہم جب بھی ان کی زندگی اور ان کی سیاسی جدو جہد کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں ان کی لیڈر شپ اور ان کی محنت، دیانت اور مخلصانہ کوششوں پر رشک آتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ان جیسا رہنماء عطاء کیا، مگر جب ہم یہ پڑھتے اور سنتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے اخری ایام میں کس طرح کے لمحات گزارتے ہوئے اِس دنیا سے رخصت ہوئے تو ہمیں یقینا افسوس بھی ہوتا ہے،

بانی  پاکستان، قیام پاکستان کے بعد کم و بیش ایک سال ہی زندہ رہے، مگر ہمیں وہ مملکت کے رموز بھی سمجھا گئے کہ بطور پاکستانی ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، ہماری بیورو کریسی کی خصوصیت جو انہوں نے بیان کی وہ ہمارے لئے رہنماء اصول ہے، آج اپنے قائد کے یوم وفات پر لکھتے ہوئے خود بھی تاریخ میں کھو گیا ہوں، اور تلاش کر رہا ہوں کہ قائد کے فرمان کی روشنی میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ان کی زندگی کے آخری تین چار ماہ کچھ ایسے گزرے کہ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں، وہ یکم جولائی 1948ء کو کراچی میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرنا منظور کرچکے تھے، لیکن کوئٹہ سے کراچی تک ہوائی سفر کرتے ہوئے ان کی طبیعت خراب ہوگئی سٹیٹ بنک کی افتتاحی تقریب میں موجود ہر شخص نے محسوس کیا کہ قائداعظم کی صحت خراب ہوچکی ہے ان کی آواز بمشکل سنی جاسکتی تھی۔ اپنی تقریر کے دوران وہ رکتے رہے اور کھانستے رہے۔ جب تقریب سے فارغ ہوکر وہ واپس گورنر جنرل ہاؤس پہنچے تو کپڑوں اور جوتوں سمیت بستر پر گر گئے، مگر بستر پر پڑے اس ناتواں جسم میں نظروں کو چندھیا دینے والی ذہانت کا شعلہ اسی طرح روشن تھا، کراچی میں پانچ روز قیام کے بعد، کوئٹہ واپسی کے اگلے ہی روز ان کی طبیعت میں تھکاوٹ کے آثار نمایاں ہونے لگے،چنانچہ وہ کوئٹہ سے چند میل کے فاصلے پر واقع زیارت چلے گئے۔

وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنی بہن کی اس بات سے اتفاق کیا کہ اب انہیں مناسب طبی مشورے اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ ان کی زبانی یہ سن کر فاطمہ جناح نے بغیر کسی تاخیر کے لاہور کے ممتاز فزیشن کرنل الٰہی بخش کو فوری طور پر بذریعہ ہوائی جہاز زیارت طلب کر لیا۔ 24جولائی1948ء کو کرنل الٰہی بخش نے قائداعظم کا طبی معائنہ کیا ڈاکٹر کے استفسار پر قائداعظم نے 1934ء سے لے کر اب تک اپنی بیماری کی تفصیل ٹھیک ٹھیک انہیں بتا دی، اگلے روز قائداعظم کے خون اور تھوک کے نمونوں کے کلینیکل معائنے سے ڈاکٹر الٰہی بخش کے اس شک کی تصدیق ہوگئی کہ انہیں ٹی بی (تپ دق) ہے۔ ان کے استفسار پر ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے خیال میں یہ مرض کم ازکم دو برس پرانا ہے۔  قائداعظم نے پوچھا:”کیا آپ نے مس جناح کو میری بیماری سے آگاہ کردیا ہے“۔ ڈاکٹر الٰہی بخش کہنے لگے: ”جی ہاں، میں نے انہیں بتا دیاہے“ قائداعظم نے کہا: ”میراخیال ہے آپ نے ایسا کرکے غلطی کی۔ بہرحال وہ ایک خاتون ہیں“ آپ نے دیکھا کہ اس حالت میں بھی ان کی اپنی بہن کے جذبات کا کتنا خیال تھا۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ اپنی بہن کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور رک رک کر کہنے لگے،”فاطمی، تم درست ہی کہا کرتی تھیں۔مجھے کسی ماہر ڈاکٹر سے بہت پہلے مشورہ کرلینا چاہتے تھا، مگر مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔

آدمی صرف جدوجہد کرسکتا ہے۔ تم جانتی ہو میرا ہمیشہ سے یہ اصول رہا ہے کہ میں کبھی آنکھیں بند کرکے دوسروں کے مشورے قبول نہیں کرتا“۔جولائی 1948ء کے اواخر میں وزیراعظم لیاقت علی خاں کسی پیشگی اطلاع کے بغیر زیارت آئے۔ چودھری محمد علی(سابق وزیر قانون خالد انور کے والد گرامی) ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کرنل الٰہی سے قائداعظم کی صحت کے بارے میں پوچھا، لیکن کرنل صاحب نے انہیں بتایا کہ میں اپنے مریض کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں بتا سکتا۔ وہ قائداعظم سے ملے تو آدھ گھنٹے تک ان سے باتیں کرتے رہے۔ اس کے بعد چودھری محمد علی نے پندرہ منٹ تک قائداعظم سے ملاقات کی،اگست 1948ء کے دوسرے ہفتے میں قائداعظم کا بلڈ پریشر بہت کم ہوگیا اور ان کے پاؤں پر ورم آگیا۔ چنانچہ ڈاکٹروں کی ہدایت پر وہ 13 اگست کو زیارت سے کوئٹہ چلے آئے۔ کوئٹہ پہنچ کر ان کی صحت بہتر ہونے لگی۔ اس پر ڈاکٹر الٰہی بخش نے مشورہ دیا کہ وہ روزانہ تقریباً ایک گھنٹہ فائلوں کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ ان کا خیال تھاکہ ہر وقت اپنی صحت کے متعلق سوچتے رہنے کی بجائے یہ بہتر ہوگا کہ قائداعظم کے مستعد ذہن کو کام کی جانب راغب کردیا جائے۔ قائداعظم بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اس آزادی سے بہت لطف اٹھایا۔ ایک دن انہوں نے ڈاکٹر الٰہی بخش سے کہا:”ڈاکٹر میں سگریٹ پینا چاہتا ہوں“۔ڈاکٹر نے کہا:“ سر۔

صرف ایک سگریٹ روزانہ، مگر دیکھئے اس کا دھواں نہ نگلئے گا“۔شام کو ڈاکٹر آیا تو اس نے ایش ٹرے میں سگریٹ کے پانچ جلے ہوئے ٹکڑے دیکھے۔اس پرقائداعظم نے مسکراتے ہوئے کہا: ”ہاں ڈاکٹر، میں نے پانچ سگریٹ ضرور پئے ہیں، مگر میں نے ان کا دھواں نہیں نگلا“۔ اوروہ ہنس دیئے۔ ایک بچے کی طرح خوش، اگست کے آخری دنوں میں قائداعظم اچانک ہرچیز سے بے نیاز نظر آنے لگے۔ ایک روز انہوں نے فاطمہ جناح سے کہا۔ ”فاطمی مجھے اب مزید زندہ رہنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ میں جتنی جلدی چلا جاؤں اتنا ہی بہتر ہوگا“۔ فاطمہ جناح لکھتی ہیں: ”یہ بدشگونی کے الفاظ تھے۔ میں لرز اٹھی جیسے میں نے بجلی کے ننگے تاروں کو چھولیا ہو مگر میں نے خود کو پر سکون رکھتے ہوئے کہا: جن! آپ جلد ہی اچھے ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر پر امید ہیں“۔ انہوں نے ایک مردہ سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: نہیں۔ میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتا“۔یکم ستمبر کو ڈاکٹر الٰہی بخش نے فاطمہ جناح سے مایوس لہجے میں کہا: قائداعظم پر ہیمرج کا حملہ ہوا ہے۔

میں پریشان ہوں۔ انہیں کراچی لے جانا چاہیے۔ کوئٹہ شہر کی بلندی ان کے لئے موزوں نہیں ہے۔ 8ستمبر کو ڈاکٹروں نے فاطمہ جناح کو بادل نخواستہ آگاہ کیاکہ اب امید کی کوئی کرن باقی نہیں اور صرف کوئی معجزہ ہی قائداعظم کی زندگی بچا سکتا ہے۔ جب فاطمہ جناح نے قائداعظم کو بتایا کہ کوئٹہ کی بلندی سے بچنے کے لئے ہم انہیں کراچی لے جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا۔ ”ہاں، میں وہیں پیدا ہوا تھا اور وہیں دفن ہونا چاہتا ہوں“۔ تھوڑی دیر کے بعد ان کی آنکھیں بند ہوگئیں۔فاطمہ جناح ان کے بستر کے پاس کھڑی رہیں۔ وہ نیند میں رک رک کر سرگوشی کر رہے تھے،ڈاکٹروں نے 11ستمبر کو فیصلہ کیا کہ انہیں اسی دن دو بجے دوپہر کراچی روانگی کے لئے کوئٹہ کے ہوائی اڈہ پر پہنچ جانا چاہئے۔ جب قائداعظم کو ایک سٹریچر پر لٹاکر گورنر جنرل کے وائی کنگ طیارے کے کیبن میں لے جایا جارہا تھاتو اس وقت بھی انتہائی کمزوری کے باوجود انہوں نے اپنا کمزور ہاتھ اٹھا کر طیارے کے عملے کے سیلوٹ کا جواب دیا۔


 کوئٹہ سے تقریباً دو گھنٹے کی پرواز کے بعد جہاز سہ پہرسوا چار بجے کراچی کے ماڑی پور ائیر پورٹ پر اترا۔ اس روز جیسا کہ فاطمہ جناح کی طرف سے پہلے ہی ہدایت دی جاچکی تھی، کوئی بھی ائیر پورٹ نہیں آیا تھا۔ قائداعظم کو سٹریچر پر لٹا کر ایک ملٹری ایمبولینس تک لے جایا گیا جو انہیں گورنر جنرل ہاؤس لے جانے کے لئے ہوائی اڈے پر پہلے ہی سے تیار کھڑی تھی،ایمبولینس انتہائی آہستگی سے چل رہی تھی۔ ڈاکٹر الٰہی بخش، ڈاکٹر مستری اور گورنر جنرل کے انگریز ملٹری سیکرٹری ایمبولینس کے پیچھے گورنر جنرل کی کیڈلک کار میں آرہے تھے۔ تقریباً چار میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ایمبولینس کے انجن نے ہچکی لی اور اس کے بعد وہ اچانک بند ہوگیا۔ فاطمہ جناح کو بتایا گیا کہ ایمبولینس میں پٹرول ختم ہوگیا۔ ڈرائیور نے بے چینی کے عالم میں انجن کو دیکھنا بھالنا شروع کیا،مگروہ سٹارٹ نہ ہوسکا۔اس روز سمندری ہوائیں بھی نہیں چل رہی تھیں اور گرمی ناقابل ِ برداشت تھی۔ وہاں ایک گھنٹے سے بھی زیادہ دیر تک انتظار کرنا پڑا۔ ایک طویل اور کرب ناک وقفہ۔ پھر ایک دوسری ایمبولینس آئی،اور قائداعظم کو اس میں لٹا کر گورنر جنرل ہاوس لایا گیا۔ ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور کہا…… کہ ہوائی سفر اور ایمبولینس کے تکلیف دہ واقعہ کے باوجود ان کی صحت پر کوئی برے اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

وہ جلد ہی گہری نیند سوگئے۔ فاطمہ جناح تنہا ان کے پاس بیٹھی رہیں۔ وہ کسی خلل کے بغیر دو گھنٹے تک سوئے رہے۔ پھر انہوں نے آنکھیں کھولیں۔ اپنی بہن کو دیکھا اور سر اور آنکھوں کے اشارے سے انہیں اپنے پاس بلایا۔ انہوں نے بات کرنے کی آخری کوشش کی اور سرگوشی کے انداز میں کہنے لگے۔”فاطمی، خدا حافظ“۔ ان کا سر آہستگی سے قدرے دائیں جانب کو ڈھلک گیا اور اور ان کی آنکھیں بند ہوگئیں انااللہ وانا الیہ راجعون۔ان کی سیاسی زندگی 42برسوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ جہد مسلسل، غیر متزلزل عزم، شاندار نظم و ضبط، بے مثال دیانت غیر معمولی ذہانت اور خداداد قائدانہ صلاحیتوں کی ایک فقید المثال تصویر ہے۔12ستمبر 1948ء کو کراچی میں بانی پاکستان کی نماز جنازہ پڑھانے کے بعد مولانا شبیر احمد عثمانی نے قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ”شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے بعد ہندوستان نے اتنا بڑا مسلمان پیدا نہیں کیا، جس کے غیر متزلزل ایمان اور اٹل ارادے نے دس کروڑ افراد کی مایوسیوں کو کامرانیوں میں بدل دیا ہو“۔

مزید :

رائے -کالم -