شہید ظہور الحسن بھوپالی

شہید ظہور الحسن بھوپالی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


آج کے دور کی سیاست دیکھتا ہوں تو اس کی زندگی پریوں کے کسی دیس کی کہانی لگتی ہے۔سندھ کا ترین اور سیاسی طور پر طاقتورترین ممبر سندھ اسمبلی جس نے ساری زندگی سادگی اور عجز کے ساتھ گزار دی۔جسے دنیاوی عیش و عشرت کی کوئی تمنا نہیں تھی اوروہ  اوراس کا گھر اسی تنخواہ پر چلتا تھا جو اسے بطور ممبر ملتی تھی جب کہ سچ بات تو یہ ہے کہ اگر وہ چاہتا تو موجودہ دور کے سیاست دانوں کی طرح دولت کے انبار لگا دیتا مگر پھر اسے کون یاد رکھتا اور اس کی شہادت کے 39 سال بعد بھی کون اس کے لئے آنسو بہاتا۔میرا اشارہ سندھ اسمبلی کے مقبول اور مشہور ممبر اسمبلی شہید ظھور الحسن بھوپالی کی جانب ہے جن کی برسی 13 ستمبر کو منائی جاتی ہے۔

شہید ظھور الحسن بھوپالی کی زندگی جدوجہد انتھک محنت اور عوام کی خدمت سے عبارت تھی۔انہوں نے معاشرے میں اپنی پہچان اپنی ذہانت اور محنت سے منوائی۔وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے مگر بچپن سے  ہی تقریر اور تحریر کا شوق تھا اور خاص طور پر عید میلاد النبیﷺ کی تقاریب میں وہ جوش اور جذبے کے ساتھ شرکت کرتے اور ان کی تقاریر لوگوں کے دل میں اتر جاتی تھیں۔ فن تقریر میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اور ان کی کسی مباحثے میں موجودگی باقی مقررین کو یہ پیغام پہنچا دیتی تھی کہ وہ کم سے کم پہلے انعام کی توقع تو نہ ہی رکھیں۔ظھور بھوپالی شہید نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور کراچی کے صف اول کے اخبار سے منسلک ہوگئے۔اسی دوران انہیں جمعیت علما پاکستان نے 70ء  کے عام انتخابات میں سندھ صوبائی اسمبلی کے لئے ٹکٹ دے دیا ان کے فن خطابت کے سامنے کون ٹھیر سکتا تھا سو وہ سندھ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوگئے۔ان کی شہرت کو ان کی سندھ اسمبلی کی کارکردگی نے چار چاند لگا دیئے۔ شہید جو کام بھی کرتے تھے بہت محنت اور لیاقت کے ساتھ کرتے تھے اور سندھ اسمبلی نے تو انہیں اپنے جوہر دکھانے کا بھرپور موقع فراہم کیا اور چند ہی مہینوں میں ان کی شہرت پورے صوبے بلکہ پورے ملک میں پھیل گئی۔

سندھ اسمبلی میں تو یہ حال تھا کہ روزانہ گویا ظھور الحسن بھوپالی شو ہوتا تھا اور بڑے بڑے وزیر بھی اس وقت سے ڈرتے تھے جب بھوپالی کا روئے سخن ان کی جانب ہو جائے۔اسمبلی کے اسپیکر ان سے خائف رہتے تھے اور اجلاس سے پہلے بھوپالی سے درخواست کرتے تھے کہ وہ ان کا خیال رکھیں اور انہیں کسی معاملے میں شرمندہ نہ کریں۔ بھوپالی صاحب ویسے تو اس قسم کی درخواستوں پر کسی رد عمل کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے مگر وقت آنے پر اپنے حق نمائندگی کو ہر چیز پر ترجیح دیتے تھے اور کہتے وہی تھے جو سچ اور انصاف پر مبنی ہو۔ ان کی تقاریر اور استدلال کی اس قدر شہرت تھی جس روز وہ بجٹ پر تقریر کرتے اس دن عوامی گیلریاں بھری ہوتی تھیں اور مہمانوں کو ان گیلریوں کے پاس حاصل کرنے میں اسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہوتا تھا جیسے ہندوستان اور پاکستان کے کرکٹ میچ میں شائقین کو ٹکٹ حاصل کرنے میں ہوتا ہے۔سندھ اسمبلی کے باہر یعنی ان کے حلقہ انتخاب میں بھی ان کی کارکردگی بے مثال تھی اور وہ دن رات اپنے حلقے میں عوام کے مسائل حل کرنے میں لگے رہتے تھے۔وہ اپنے حلقے کے لوگوں کے مسائل کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ زیادہ تر وقت انہیں حل کرنے میں لگاتے اور اگر ہم سب دوست کہیں سیر تفریح کے لئے جارہے ہوتے اس دوران بھوپالی صاحب کے حلقے سے کوئی دعوت آجاتی یا کسی مسئلے کے حل کے لئے جانا پڑتا تو شہید تمام دوسری مصروفیات چھوڑ کر اس کے حل کے لئے چلے جاتے۔

سندہ اسمبلی کا ان کے دور کا سیشن کون بھول سکتا ہے۔ ان پر تو بس وہ مثل صادق آتی تھی کہ   وہ آیا اس نے دیکھا اور اس نے فتح کرلیا۔ جب جناب ظہور الحسن بھوپالی شہید اسمبلی سے خطاب کرتے تو ایوان میں سکوت طاری ہوجاتااور لوگ ان کی مدلل اور پرمغز تقریر میں گویا کھوکر رہ جاتے۔ ان کا من پسند موضوع عام آدمی کے مسائل تھے چاہے وہ پانی کا مسئلہ ہو یا بجلی کا کسی مظلوم کی گرفتاری کا یاکسی ظالم کے قانون سے فرار کا وہ کسی کو نہیں بخشتے تھے اور جو حق ہو اسے کہنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ وہ اس لئے ڈٹ کر بول سکتے تھے کیونکہ ان کے ہاتھ اور ضمیر صاف تھے اور ان پر کسی بدعنوانی کا سایہ بھی نہیں پڑا تھا۔ اس زمانے کی حکمران جماعت بھی ان کے دلائل کو غور سے سنتی تھی، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ظہورالحسن بھوپالی  ایک بے لوث سیاسی کارکن ہیں اور ان کی تقاریر کسی ذاتی فائدہ یا منافع کے لئے نہیں ہوتی تھیں۔ غور کیجئے کہ آج کے ماحول میں جب سیاست دانون کی بدعنوانیوں کی داستانیں چہار سو بکھری ہوئی ہیں۔ ظہورالحسن بھوپالی کا کردار کیسا ناقابل یقین معلوم ہوتا ہے۔


آج پورا کراچی پریشان ہے اور کوڑے کرکٹ کے انبار میں دفن ہو چکا ہے۔ نہ پینے کے پانی کی دستیابی ہے اور نہ صفائی اور ستھرائی کی اور ساتھ ہی ساتھ لاقانونیت روز نہ جانے کتنے گھر اجاڑ دیتی ہے۔ شہید بھوپالی کے دور حیات میں یہ سب نہیں تھا۔ وہ دن رات لوگوں کے مسائل کے حل کی تگ و دو میں لگے رہتے تھے اور حزب اختلاف میں رہتے ہوئے بھی حکمراں جماعت کو لوگوں کے مسائل کے حل پر مجبور کردیتے تھے اور اس کا راز یہ تھا کہ انہوں نے حکمرانوں کے سامنے کبھی اپنے لئے یا اپنے دوستوں رشتہ داروں کے لئے ہاتھ نہیں پھیلایا بلکہ ہمیشہ ان پر عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے زور ڈالا۔یہی ان کی سب سے بڑی قوت تھی اور اسی وجہ سے آج ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پر بھوپالی کا قرض ہے کہ ہم اس کا پیغام زندہ رکھیں۔

مزید :

رائے -کالم -